احتساب عدالت نے میر شکیل الرحمٰن کو بری کردیا

  • سوموار 31 / جنوری / 2022
  • 4090

لاہور کی احتساب عدالت نے غیر قانونی اراضی کی الاٹمنٹ سے متعلق کیس میں جیو اور جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن سمیت 3 ملزمان کو بری کردیا گیا۔

احتساب عدالت کے جج اسد علی نے غیرقانونی پلاٹ الاٹمنٹ ریفرنس میں ملزمان کی بریت درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنایا۔ فیصلے میں ملزم میر شکیل الرحمٰن، لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل ہمایوں فیض رسول اور سابق ڈائریکٹر لینڈ ڈیولپمنٹ بشیر احمد کی بریت کی درخواستیں منظور کر لیں۔

یاد رہے میر شکیل پر جوہر ٹاؤن میں 58 کنال زمین مشترکہ بلاک کی شکل میں الاٹ کروانے کا الزام تھا۔ احتساب بیورو کی جانب سے کہا گیا تھا کہ میر شکیل پر 1986 میں وزیر اعلیٰ نواز شریف کی ملی بھگت سے گلیاں بھی 54 پلاٹوں میں شامل کرنے کا الزام تھا۔ سابق ڈی جی ایل ڈی اے ہمایوں فیض رسول اور سابق ڈائریکٹر لینڈ ڈیولپمنٹ بشیراحمد پر میر شکیل الرحمٰن کی اعانت جرم کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

مذکورہ کیس میں عدالت کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے گرفتاری کے بعد ان کا علیحدہ ٹرائل کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔

12 مارچ 2020 کو نیب نے میر شکیل الرحمٰن کو اراضی سے متعلق کیس میں گرفتار کیا تھا جس کے تقریباً 8 ماہ بعد وہ سپریم کورٹ سے ضمانت پر رہا ہوئے تھے۔ جنوری 2021 کو عدالت نے غیرقانونی پلاٹ الاٹمنٹ ریفرنس میں میر شکیل الرحمٰن سمیت 3 ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی۔

میر شکیل الرحمٰن نے اس سے قبل بھی لاہور ہائی کورٹ میں بریت کی درخواست دائر کی تھی تاہم عدالت نے یہ درخواست مسترد کردی تھا۔

خیال رہے کہ 12 مارچ 2020 کو احتساب کے قومی ادارے نے جنگ اور جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کو اراضی سے متعلق کیس میں گرفتار کیا تھا۔ ترجمان نیب نوازش علی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ادارے نے 54 پلاٹوں کی خریداری سے متعلق کیس میں میر شکیل الرحمٰن کو لاہور میں گرفتار کیا۔