سیاسی مکالمہ ناگزیر ہے
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 31 / جنوری / 2022
- 4240
سیاست، جمہوریت اور معاشرہ کے آگے بڑھنے میں محاذ آرائی اور بدامنی پیدا کرنے کے مقابلے میں ہمیشہ سے مکالمہ کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ کیونکہ سیاسی مکالمہ ہی مسائل کے حل کی طرف لے کر جاتا ہے اور جو مختلف امور میں الجھنیں یا بگاڑ پیدا ہوتا ہے اس سے باہر نکلنے کا بھی واحد راستہ مکالمہ ہے۔
بدقسمتی سے پاکستانی سیاست او رمعاشرہ سے مکالمہ کی روایت یا کلچر ختم ہوتا جارہا ہے یا اس نے کمزوری اختیار کرلی ہے۔ کیونکہ مکالمہ نہ ہونے کی ایک بڑی بنیادی وجہ خود کو دوسروں سے برتر سمجھنا اور دوسروں کو تسلیم کرنے کی بجائے اپنی برتری کا احساس ہوتا ہے۔مکالمہ بنیادی طور پر ایسے ہی فریقین کے درمیان ہوتا ہے جو ایک ہی مسئلہ پر مختلف سوچ، فکر او رخیالات رکھتے ہیں۔ یہ عمل ہمیں باہمی مشاورت یا ایک دوسرے کے خیالات کو سمجھ کر آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کرتا ہے تاکہ ہم خود کو مسائل کے حل میں پیش کرسکیں۔
پاکستان اس وقت بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔ کوئی ایک شعبہ ایسا نہیں جسے ہم بہتر سمجھ سکیں۔ اس ملک کو مکالمہ یا مشاورت کی ضرورت ہے۔ جمہوریت میں سب سے بڑا حسن ہی اصلاحاتی عمل ہوتا ہے جو نہ صرف جمہوریت کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتاہے بلکہ سیاست او رجمہوریت پر اعتماد پیدا کرنے کا سبب بھی بنتا ہے۔جمہوریت میں اصلاحات کی مدد سے تبدیلیوں کا عمل پیدا ہوتا ہے جو ملک کے نظام کو بھی شفاف بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ بگاڑ کسی ایک شعبہ یعنی سیاست تک محدود نہیں بلکہ مجموعی طور پر تمام شعبہ جات بالخصوص انفرادی یا اجتماعی سطح پر رائے عامہ بنانے والے افراد یا اداروں میں ہی مکالمہ کی جگہ انتہا پسندی اور شدت پسندی نے لے لی ہے۔ ہر فریق دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی بجائے اپنی سوچ اور فکر کو دوسروں پر مسلط کرنا ضروری سمجھتاہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کے نتیجہ میں ایک دوسرے کے بارے میں تعصب نمایاں ہوجاتا ہے جو مزید دوریوں کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے۔
پاکستان کا مسئلہ مختلف فریقین میں ایک دوسرے پر بالادستی کی جنگ نہیں ہونی چاہیے۔ بلکہ مسائل کا حل تلاش کرنا ہونا چاہیے۔ لیکن لگتا ایسا ہے کہ ہماری سوچ اور فکر میں مسئلہ کا حل کم اور بگاڑ زیادہ پیدا ہوگیا ہے۔ اسی وجہ سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسائل کے حل میں کہیں الجھ کر رہ گئے ہیں۔سیاست، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی سمیت شفافیت پر مبنی نظام ہماری ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔ جو بھی سیاسی، انتظامی، قانونی او رمعاشی فورمز ہیں اور جن کا دائرہ کار ہمیں آئین پاکستان کی صورت میں نظر آتا ہے ان کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری او رمستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ ہی وہ ادارے ہیں جہاں ہمیں عوامی مفادات کو بنیاد بنا کر مکالمہ درکار ہے۔یہ ہی مکالمہ ہمیں راستہ فراہم کرے گا۔ ہمارے مسائل کیا ہیں اور ان کی وجوہات کو جانچنا، پرکھنا او راسی بنیاد پر تجزیہ کرکے مسائل کا حل تلاش کرکے عملدرآمد کا شفاف نظام کا قائم ہونا بھی اسی مکالمہ سے جڑا عمل ہے۔
بدقسمتی سے جب بھی اس ملک میں اصلاحات کی بات کی جاتی ہے تو نظام میں موجود طاقت ور طبقہی مزاحمت سامنے آتی ہے۔ یہ لوگ آئین اور قانون کی حکمرانی سے زیادہ اپنے ذاتی مفاد کو بنیاد بنا کر اصلاحات کے عمل کو بھی روکتے ہیں او رجہاں مکالمہ درکار ہوتا ہے وہیں یہ محاز آرائی کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔اس وقت ہمیں پانچ بنیادی باتوں پر مکالمہ یا مشاورت کی مدد سے ایک بڑے اصلاحاتی ایجنڈے کو اپنی سوچ او رفکر کا حصہ بنانا ہوگا۔ اول عدالتی یا انصاف کے نظام میں، دوئم بیوروکریسی میں ادارہ جاتی سطح پر، سوئم ایف بی آر کی سطح پر، چہارم شفاف معاشی پالیسیوں کی سطح پر، پنجم حکمرانی یعنی گورننس کے نظام کی سطح پر ایک بڑے اتفاق رائے پر مبنی اصلاحاتی بنیاد پر ایجنڈا درکارہے۔ مکالمہ کی بنیاد جماعتی، شخصی، مفاداتی او رپسندو ناپسند سے ہٹ کر اجتماعی اور ملکی مفاد ہوناچاہیے۔ یہ ہی ملک میں مثبت تبدیلوں کی طرف لے کرجاسکتی ہے۔
سب سے بڑا المیہ اس سیاسی نظام میں پارلیمنٹ جیسے اہم ادارے کی بے توقیری او رعدم شفافیت ہے۔ پارلیمنٹ لوگوں یا قومی سطح کے مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کرنے کی بجائے ایک بڑی سیاسی تقسیم، ایک دوسرے کو قبول نہ کرنا، محازآرائی کا مرکز، الزام تراشیوں اور کردار کشی کا کھیل،منفی طرز عمل، غیر پارلیمانی زبان، ذاتی حملے، سنجیدہ مباحث کے مقابلے میں غیر ضروری الجھاؤ، اپنی اپنی بات کرنا اور دوسروں کی باتوں پر بایکاٹ،ہاتھا پائی، تشدد کا مرکز بن کر رہ گئی ہے۔وزیر اعظم، قائد حزب اختلاف، وفاقی وزرا او راہم راہنماؤں کی سطح پر پارلیمان میں عدم شرکت ظاہر کرتی ہے کہ ہمارا پارلیمانی نظام اپنی افادیت میں کہاں کھڑا ہے۔جب مکالمہ پارلیمنٹ کی سطح پر ہی نہیں کیا جائے گا تو باقی اداروں کی سطح پر او رزیادہ بگاڑ دیکھنے کو ملے گا۔ اسی طرح پارلیمنٹ سے باہر جو لوگ سیاسی، سماجی، قانونی او رمعاشی نظام میں اصلاحات پر کام کررہے ہیں او ران کے پاس متبادل پروگرام بھی ہے ان کا اور پارلیمان کے درمیان جو خلا یا بداعتمادی ہے وہ بھی فریقین میں مکالمہ کو روکنے کا سبب بنتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر وہ فریق جو مختلف محاذ پر طاقت رکھتا ہے مکالمہ کی اہمیت پر بات بھی کرتا ہے اور بڑی ڈھٹائی سے کہتا ہے کہ ہمیں مکالمہ کی طرف جانا ہوگا۔لیکن سوال یہ ہی ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور دوسرا اگر مکالمہ نہیں کیا جارہا تو اس کی ذمہ دار کون ہیں اور کیوں وہ اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اصل میں یہاں جو بڑے طاقت ور طبقات ہیں وہ عملی طور پر مکالمہ او راس کی بنیاد پر کسی مثبت نتیجے پر پہنچے کو اپنے لیے یا اپنے مفادات کے لیے زیادہ بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ اس لیے پہلے اس امر کی نشاندہی کی جائے کہ تمام فریقین کی سطح پر وہ کون لوگ ہیں جو مکالمہ میں ڈیڈ لاک کو پیدا کرنا اپنے مفاد میں سمجھتے ہیں۔کیونکہ جو لوگ یا ادارے بھی ڈیڈ لاک پیدا کرنے کے حامی ہیں پہلے ان کالی بھیڑوں کو اپنی صفوں سے نکالنا ہوگا۔یہ بات سمجھنی ہوگی کہ مکالمہ کے اس عدم کلچر نے ہمارے معاشرے سمیت لوگوں کو ایک مشل زندگی میں ڈالا ہوا ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ نظام عملی طور پر ہماری معاونت کے لیے نہیں بلکہ ہمارے استحصال کے لیے بنائے گئے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مکالمہ اور مثبت تبدیلی کے اس عدم پالیسی نے لوگوں کا سیاست، جمہوریت اور تبدیلی سے اعتماد کمزور بھی ہورہا ہے او راٹھ بھی گیا ہے۔اس کی بحالی ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔
سیاسی فریقین میں محاذ آرائی کے مقابلے میں مکالمہ او راس کی بنیاد پر معاشرے کی اصلاحات کا عمل اسی صورت میں آگے بڑھ سکتا ہے جب معاشرے میں موجود رائے عامہ کی تشکیل سے جڑے افراد او رادارے ریاست، حکومت اور سیاسی بالادست قوتوں سمیت دیگر اداروں پر دباؤ ہو۔ ہمارے سیاست دان، سیاسی کارکن، صحافی، دانشور، تجزیہ کار، استاد، شاعر، ادیب، مصنف، تاجر، وکلا، علمائے کرام، سول سوسائٹی سب ہی ایک پرامن سیاسی اور قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ایسی مزاحمت پیدا کریں جو طاقت ور طبقات کو دباؤ میں لاسکے۔ اسی طرح ان طبقوں کی یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ سیاسی شخصیات کی بے جا چاپلوسی اور اندھا دھند محبت کی پالیسی سے گریز کرکے اچھے او ربرے کے پہلو کو خود بھی سمجھیں اور دوسروں کو بھی سمجھائیں کہ ان کا سیاسی، سماجی شعور میں تبدیلی کا مثبت عمل ہی معاشرے کو ایک مہذب، ذمہ دار، شفاف اور لوگوں کے مفادات کے ساتھ جوڑ سکتا ہے۔