راوی ریور پراجیکٹ کا مستقبل

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے راوی ریور فرنٹ منصوبے کو غیر قانونی قراردئیے جانے کے بعد وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کا فیصلہ کیا ہے۔عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم نے اس منصوبے کو صیح معنوں میں لاہور بینچ کے سامنے پیش نہیں کیا اورمکمل ہوم ورک کے ساتھ سپریم کورٹ میں اپنا کیس رکھیں گے۔

وزیر اعظم کے مطابق یہاں کوئی ہاؤسنگ سوسائٹیزنہیں بن رہیں بل کہ ہم راوی کنارے ایک ماڈرن سٹی بنانے جا رہے ہیں۔ان کے مطابق 20ارب ڈالر کے اس میگا پراجیکٹ سے بیرون ملک سے سرمایہ کاری آئے گی اورلاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو نوکریاں ملیں گی۔وزیر اعظم کے مطابق مستقبل میں لاہور کو زیر زمین پانی کی سطح نیچے گرنے اور ویسٹ ڈسپوزل جیسے سنگین مسائل سے بچانے کے لیے راوی کنارے نئے شہر کو بسانے کی اشد ضرورت ہے۔وزیراعظم کے خیال میں اگر یہاں منصوبہ بندی کے تحت نیا شہر نہیں بسایا جاتا تو راستے میں بغیر منصوبہ بندی کے بننے والی ہاؤسنگ سوسائٹیزکے زریعے ویسے ہی لاہور یہاں پہنچ جاناہے اور ان سوسائٹیز کے پاس سیوریج کا کوئی نظام نہیں ہے۔وزیراعظم نے اس منصوبے کو ماحول دوست قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ نئے شہرمیں دو کروڑ درخت اگائیں جائیں گے جس سے آب و ہوا صاف رہے گی۔

  لاہور کے پہلو میں دریائے راوی کے کناروں پر نئے منصوبے کے مجوزہ ماڈلز اور تصاویر کو دیکھا جائے تو سبزہ زاروں اور چھوٹے چھوٹے جزائر پر مبنی بلند وبالا عمارتوں اور رہائشی علاقوں کے ایسے مسحور کن مناظر سامنے آتے ہیں کہ پہلی نظر میں گمان یہی ہوتا ہے کہ یہاں بسایا جانے والا شہر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے ماڈرن شہروں سے بہت زیادہ مماثلت رکھتا ہے۔ایک لاکھ ایکڑ پر محیط اس شہر میں جدید تقاضوں کے مطابق رہائش کے ساتھ ساتھ جنگلات، جھیلیں، بیراج اور جزیرے قائم کیے جانے کا منصوبہ ہے۔راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کے مطابق اس منصوبے سے قدرتی ماحول کے ساتھ ساتھ زیر زمین پانی کے ذخائر کی بحالی بھی ممکن ہو سکے گی۔اس منصوبے کے تحت دریائے راوی پر 46کلومیٹر لمبی جھیل بنائی جائے گی جس کے دونوں اطراف باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت شہر کو بسایا جائے گا۔اس جھیل پر6بیراج تعمیر کیے جائیں گے اور ساتھ ہی پانی کو صاف رکھنے کے لیے ویسٹ واٹر مینجمنٹ سسٹم بھی بنایا جائے گا۔اس جھیل میں نہ صرف بارش کے پانی کو اکٹھا کیا جائے گا بل کہ اس جھیل سے لاہور شہر کے زیرزمین مسلسل خطرناک حد تک کم ہوتے ہوئے پانی کی سطح بھی کنٹرول ہو سکے گی۔راوی ریور اربن پراجیکٹ کا70فیصد سے زائد رقبہ جنگلات وسرسبز ہریالی پر مشتمل ہوگا جو نہ صرف اس نئے شہر بل کہ لاہور کو بھی گردوغبار اور ماحولیاتی آلودگی سے پاک رکھنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔30فیصد رقبہ رہائشی و صنعتی علاقوں پر مشتمل ہوگا جس میں کل12سکیٹرز ہوں گے۔ ہر سیکٹر ایک باقاعدہ شہر ہوگا جہاں صحت عامہ، تعلیم، صنعت وتجارت اور کھیل وتفریح سمیت انسان دوست ماحول کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے گا۔اس پراجیکٹ میں 90فیصد میٹریل مقامی طور پر تیار شدہ استعمال ہوگا جس سے مقامی صنعت کو فروغ ملنے کے ساتھ ساتھ20لاکھ افراد کو روزگار ملے گا۔

درج بالا تفصیلات کو سامنے رکھا جائے تو یہ منصوبہ لاہور اور اہلیان لاہور کے لیے مفید اور فائدہ مند دکھائی دیتا ہے لیکن لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو پڑھا جائے تو حکومت ابھی تک اس منصوبے پر نہ تو سنجیدگی سے پیش رفت کر پائی ہے اور نہ ہی مقامی کسانوں کے مفادات کا تحفظ ممکن ہو پایا ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ راوی ریور فرنٹ منصوبے کے لیے قواعد وضوابط پورے نہیں کئے گئے بل کہ ماسٹر پلان مقامی حکومت کے تعاون کے بغیر بنایا گیا ہے۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ مذکورہ منصوبے میں زرعی زمین 1984کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حاصل کی گئی ہے۔عدالت میں کیس لڑنے والی سول سوسائٹی اورکسانوں کی تنظیموں کا موقف ہے کہ راوی ریور فرنٹ منصوبہ غریب کسانوں سے اونے پونے زمینیں ہتھیا کے لینڈ مافیا کو ارب پتی بنانے کا منصوبہ تھا۔ قانونی ماہرین کے مطابق روڑا اگر عدالتی فیصلے کی روشنی میں کام شروع کرتی ہے تو اسے پہلے سے حاصل کی گئی اراضی کو بھی نئے معاوضے کے مطابق دوبارہ حاصل کرنا ہوگا جس کے نتیجے میں اس منصوبے کے لیے زمین حاصل کرنے کے لیے مختص کیے جانے والے بجٹ میں کم از کم 20سے 30فیصد اضافے کا امکان ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ روڈا لاہور ہائی کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں کام کرنے کی بجائے سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کی طرف سے بھی روڑایا پنجاب حکومت کو ریلیف نہ ملا تو قانونی چارہ جوئی اور اس کے بعد عدالتی احکامات کی روشنی میں ضروری تبدیلیوں میں اتنا وقت لگ سکتا ہے کہ حکومت کی مدت ختم ہو جائے اور اس طرح راوی کنارے بسائے جانے والے منصوبے کے مستقبل کا فیصلہ آنے والی حکومت کے ہاتھ میں جا سکتا ہے۔

عدالتی فیصلے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملی جلی رائے کا اظہار دیکھنے میں آیا۔ سوشل میڈیا صارفین کی اکثریت کے مطابق حکومت کا راوی کنارے شہر بسانے کا منصوبہ لاہور کے ساتھ ساتھ ملک کے بھی مفاد میں ہے لیکن غریب کسانوں کی زمینوں کو اونے پونے خرید کر لینڈ مافیا کے ہاتھ مضبوط کرنے کی کوشیں انتہائی افسوس ناک ہیں۔عدالت میں درخواست گذاروں کے مطابق روڈا نے کچھ کسانوں سے ڈیڑھ ہزار فی مرلہ زمین بھی خریدی جو کہ بعد میں دس دس لاکھ فی مرلہ بیچی جانی تھی۔ کچھ لوگوں کی رائے یہ ہے کہ عدالت اس منصوبے کے ساتھ اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ جیسا سلوک کر رہی ہے لیکن زیادہ تر لوگوں کے مطابق اس معاملے میں مکمل ہوم ورک نہ کرنے کی وجہ سے حکومت کو عدالتی سطح پر مشکلات کا سامنا ہوا ہے۔ وزیر اعظم صاحب کا بیان بھی حکومتی ہوم ورک نہ ہونے کا اعتراف ہے۔اگرچہ حکومت کے مطابق یہ ماحول دوست منصوبہ ہے لیکن اول تو زرعی زمینوں کو نگلنے کی قیمت پر بننے والے کسی منصوبے کو ماحول دوست قرار نہیں دیا جا سکتا اور اس پر طرفہ تماشا یہ کہ منصوبہ پہلے سے گنجان آباد شہر کے بالکل پہلو بل کہ ایک لحاظ سے لاہور شہر کے اندر ہی بن رہا ہے۔

آخر میں صرف اتنا ہی کہ وزیراعظم صاحب کا بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر نئے شہر بسانے کی ضرورت کا احساس خوش آئند ہے لیکن کاش وہ ایسا ہی احساس تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کے بارے بھی کر سکیں۔وزیراعظم صاحب کو ادراک ہونا چاہیے کہ لاہور سمیت دیگر بڑے شہروں میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جانے اور ماحولیاتی مسائل  گھمبیر ہونے سمیت متعدد بڑے مسائل کی وجہ تیزی سے بڑھنے والی آبادی ہے۔آبادی کی زیادتی کی وجہ سے ہی سونا اگلتی زمینوں پر دھڑا دھڑ ہاوسنگ سوسائٹیز بنتی جا رہی ہیں۔