یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ کے قائد حزب اختلاف کے طور پر استعفی دے دیا

  • سوموار 31 / جنوری / 2022
  • 3270

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ میں بطور قائد حزب اختلاف استعفی دینے کا اعلان کیا ہے۔ پیر کے روز ایوان بالا کے اجلاس کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ اپنی قیادت کو استعفی جمع کروا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ کے جمعہ کے روز ہونے والے اجلاس سے غیرحاضری پر اُن کی اپنی جماعت سے بھی تنقید کا سامنا تھا۔ اس اجلاس کے دوران اپوزیشن کے سینیٹرز کے غیرحاضر ہونے کے باعث حکومت نے اپوزیشن کی برتری کے باوجود سٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور کروا لیا تھا۔ بل کی منظوری کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے طنزیہ طور پر کہا تھا کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی اور یوسف رضا گیلانی کا شکریہ کہ ان کی وجہ سے سینیٹ میں سٹیٹ بینک بِل منظور ہو چکا ہے۔‘

پیر کے روز سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ’وہ وزرا جو ایک پارٹی چھوڑ کر دوسری میں چلے جاتے ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے حکومت کی مدد کی۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ مزید سینیٹ میں قائد حزب اختلاف نہیں رہنا چاہتے اسی لیے انہوں نے پارٹی قیادت کو استعفی بھیج دیا ہے۔

یہ موضوع اس لیے اہم ہے کیونکہ پاکستان میں اپوزیشن جماعتیں متعدد بیانات میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ یعنی آئی ایم ایف کی سفارشات کے تحت ٹیکسز میں اضافے، اس کے نتیجے میں ہونے والی مہنگائی اور سٹیٹ بینک ترمیمی بِل کے خلاف بولتی آئی ہیں۔ حکومتی کوششوں کو سینیٹ میں مسترد کرنے کے لیے اپوزیشن کے پاس یہ بہترین موقع تھا جہاں ان کے پاس 99 میں سے 57 سیٹیں ہیں۔ لیکن اس اہم اجلاس میں آٹھ سینیٹرز (پیپلز پارٹی کے دو اور پی ڈی ایم کے چھ) غیر حاضر رہے اور حتمی کاؤنٹ میں حکومت نے محض ایک ووٹ سے برتری حاصل کر لی۔

اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہونے کے باوجود یہ بل کیسے منظور ہوا۔

مصطفی نواز کھوکھر نے کہا تھا کہ ’اس کی وجہ یہ ہے کہ اپوزیشن ارکان ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے، ہم آہنگی نہیں ہے، اگر ہم ایک پیج پر ہوں تو پھر ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘ انہوں نے کہا تھا کہ ’اس وقت اپوزیشن کو اپنی ساکھ بچانے کا سامنا ہے، حکومت کام نہیں کررہی، اسی طرح تاثر بن رہا ہے کہ اپوزیشن بھی کام نہیں کر رہی۔‘

اپوزیشن کے پاس سینیٹ کی کُل تعداد 99 میں سے 57 ارکان تھے جن کو استعمال کر کے وہ اس بِل کو منظور ہونے سے روک سکتے تھے، جیسا کہ اس سے پہلے وہ متعدد بار دعوی کرتے آئے ہیں۔ حکومت کی عجلت کی مثال یہ تھی کہ تعداد مکمل نہ ہونے کے ڈر سے پاکستان تحریکِ انصاف کی ڈاکٹر زرقا سہروردی کو کووڈ ہونے کے باوجود آکسیجن ماسک لگا کر ویل چیئر پر سینیٹ بلایا گیا اور تعداد پوری کی گئی۔ حیران کن طور پر سینیٹ کی اس کارروائی میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی سمیت آٹھ ارکان غیر حاضر رہے۔ جبکہ اس سے قبل یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر بنانے والے متحرک دلاور خان گروپ نے اپنے چار ووٹ حکومت کو  دیے۔

اس دوران ایک موقع ایسا بھی آیا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے درمیان ووٹوں کی تعداد برابر یعنی 43 ہوگئی۔ ایسی صورتحال میں چیئرمین سینیٹ کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہوتا ہے، جس کو استعمال کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے حکومت کو ووٹ دیا۔

ووٹنگ کے اس اہم مرحلے کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر عمر فاروق کاسی اپنی نشست سے اُٹھ کر باہر چلے گئے۔ جس کے بعد ووٹنگ مکمل ہوگئی اور اپوزیشن بھاری اکثریت ہونے کے باوجود سٹیٹ بینک ترمیمی بِل کو منظور ہونے سے نہ روک سکی۔

یوسف رضا گیلانی کی غیر حاضری پر بات کرتے ہوئے مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ 'یوسف رضا صاحب اپوزیشن لیڈر ہیں۔ میرے خیال میں ان کو سینیٹ میں ہونا چاہیے تھا۔ نجی مصروفیات ان کی ضرور اہم ہوں گی، لیکن اپوزیشن کے بیانیے میں یہ قومی سلامتی کا ایشو تھا۔ اور اس کے سامنے نجی مصروفیات کوئی معنی نہیں رکھتیں۔' دیگر جماعتوں کے ارکان کی غیر حاضری پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ ارکان کے اہم مسائل تھے۔ ’جیسا کہ پی پی پی کے سکندر مھندڑو امریکہ میں کینسر کا علاج کرانے گئے ہوئے ہیں۔ نزہت صادق صاحبہ کو کینیڈا میں کووڈ ہوچکا ہے، مشاہد حسین کو بھی کووڈ ہوچکا ہے۔‘ اگر ہمارے بندے پورے ہوتے تو ہمیں اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

صحافی حامد میر اس بات سے اتفاق نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ سینیٹ میں جو کچھ ہوا وہ ’سب سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت ہوا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ 'اپوزیشن جماعتوں کو اب اس بات کی فکر نہیں رہی کہ وہ اپنا اعتماد کھوچکی ہیں یا نہیں۔ میری نظر میں عمران خان اور اپوزیشن میں کوئی فرق نہیں رہ گیا ہے۔' 28 جنوری کو سینیٹ میں بِل کی منظوری کے دوران حامد میر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ شیری رحمان ارکان پورے کرنے کی کوشش میں مصروف نظر آئیں اور انہوں نے یوسف رضا گیلانی سے جب رابطہ کیا تو یوسف رضا گیلانی نے انہیں بتایا کہ وہ اس وقت ملتان میں ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم کے ٹوٹنے کا پسِ منظر بھی کچھ یوں ہے کہ جہاں دیگر اپوزیشن جماعتیں اسمبلی سے مستعفی ہونا چاہتی تھیں، وہاں پیپلز پارٹی نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ اب دو مختلف دنوں پر لانگ مارچ ہو رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان 23 مارچ کو لانگ مارچ کا اعلان کرچکے ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ 27 مارچ کو لانگ مارچ کرے گی۔

حامد میر کا کہنا ہے کہ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ بلاول کو یوسف رضا گیلانی کے خلاف لانگ مارچ کرنا چاہیے اور مولانا فضل الرحمان طلحہ محمود کے خلاف لانگ مارچ کریں۔ لوگ اتنے بیوقوف نہیں ہیں جتنا اپوزیشن نے سمجھا ہوا ہے۔'

سینیٹ میں اپنے ارکان کی غیر حاضری پر افسوس ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ مصطفی نواز نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دلاور خان گروپ کے بارے میں حتمی فیصلہ کرلیا جائے۔ ان کو اب باقاعدہ طور پر خیر باد کہنے کا وقت آگیا ہے۔ دلاور خان گروپ سے پاکستان پیپلز پارٹی کی وابستگی کا پسِ منظر یہ ہے کہ مارچ 2021 میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی پی ڈی ایم نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ سینیٹ انتخاب میں اپوزیشن لیڈر مسلم لیگ نواز چنے گی اور چیئرمین سینیٹ کا الیکشن لڑنے کے لیے یوسف رضا گیلانی کو آگے کیا جائے گا۔

لیکن جب یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ انتخاب ہار گئے اور پیپلز پارٹی کے پاس اپوزیشن لیڈر کے تحت یوسف رضا گیلانی کو منتخب کرنے کے لیے تعداد پوری نہیں تھی، تب پیپلز پارٹی نے دلاور خان گروپ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے ارکان سے ووٹ لیے تھے۔

واضح رہے کہ اُس وقت سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے یوسف رضا گیلانی کو بطور اپوزیشن لیڈر ووٹ نہیں دیا تھا۔ جس کے لیے پیپلز پارٹی نے دلاور خان گروپ سے تعداد پوری کرنے کے لیے مدد مانگی اور ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اور یوسف رضا گیلانی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر منتخب ہوئے۔ لیکن دلاور خان گروپ نے سٹیٹ بینک بِل کی ووٹنگ کے دوران اپنے چار ووٹ حکومت کو دیے، جس کے نتیجے میں اب پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفی کھوکھر ان کو 'خیر باد' کہنے کا سوچ رہے ہیں۔

ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہورہا ہے کہ اپوزیشن اپنی اکثریت کا بروقت استعمال نہ کرسکی ہو۔ اس سے پہلے جب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کا معاملہ تھا تب بھی اکثریت ہونے کے باوجود اپوزیشن ناکام ہوگئی۔ پھر چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے دوران بھی اپوزیشن اپنی اکثریت کا فائدہ نہ اٹھا سکی۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے بِل کی منظوری بھی اسی طرز کا ایک اور معاملہ ہے۔