نواز شریف علاج کے بغیر پاکستان گئے تو ان کی حالت بگڑ سکتی ہے: میڈیکل رپورٹ
- منگل 01 / فروری / 2022
- 3250
سابق وزیراعظم نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروادی گئی ہے جس کے مطابق نواز شریف علاج کے بغیر پاکستان گئے تو ان کی حالت بگڑ سکتی ہے۔
نواز شریف کی 3 صفحات پر مشتمل طبی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروادی گئی ہے جس کے مطابق ڈاکٹرز نے نواز شریف کو سفر کرنے سے روک دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کلثوم نواز کی وفات کے بعد نواز شریف زیادہ دباؤ میں ہیں، نواز شریف علاج کے بغیر پاکستان گئے تو ان کی حالت بگڑ سکتی ہے۔ ذہنی دباؤ کے ماحول میں نواز شریف کی بیماری مزید بگڑ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق نواز شریف اینجیو گرافی کروائے بغیر لندن سے نہ جائیں۔ نواز شریف ذہنی دباؤ کے بغیر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں، اپنی ادویات لیں، کھلی فضا میں چہل قدمی کریں اور چہل قدمی کے دوران کورونا سے بچاؤ کے اقدامات بھی کریں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نواز شریف دل کے مریض اور کورونا کے سبب ان کی جان بھی جا سکتی ہے۔ کورونا کے سبب نواز شریف کو سانس کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے، کورونا میں ائیر پورٹس اور پبلک مقامات پر خدشات زیادہ ہیں۔
نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ واشنگٹن ایڈوینٹسٹ ہیلتھ کیئر وائٹ اوک میڈیکل سینٹر کے انٹروینشنل کارڈیالوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فیاض شال نے تیار کی ہے جو امجد پرویز ایڈووکیٹ کی وساطت سے عدالت میں جمع کروائی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وبا کے سبب سابق وزیر اعظم کو سانس کے مسائل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ وہ دل کے امراض میں بھی مبتلا ہیں اور وائرس کے سبب ان کی جان کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، لہٰذا جب تک نواز شریف کی کرونری انجیوگرافی نہیں کی جاتی ان کے لیے تجویز کیا جاتا ہے وہ صحت سینٹر کے قریب ہی رہیں اور ادویات لیتے رہیں۔
رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ انہیں حال ہی میں بتایا گیا کہ نواز شریف نے ذیابیطس قابو کرنے کے لیے دوا شروع کی تھی جس کے نتیجے میں ان کے گردوں کے افعال متاثر ہو ئے۔ اس لیے ان کی انجیوگرافی سے پہلے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، نواز شریف کو بہترین علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ نواز شریف کی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ رپورٹ میں سفر نہ کرنے کی سفارش کی گئی تھی، اب بھی وہی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
رپورٹ میں ڈاکٹر فیاض شال نے کہا ہے کہ نواز شریف کی صحت سے متعلق کسی ابہام یا سوال کے حوالے سے ان سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
خیال رہے کہ نواز شریف نومبر 2019 سے برطانیہ میں ہیں، جب جنوری 2020 ان کے طبی ٹیسٹس ہورہے تھے تو ڈاکٹروں نے جائزہ لیا تھا کہ کیا انہیں دل کے آپریشن، بائی پاس یا اسٹنٹ کی ضرورت ہوگی۔
سابق وزیراعظم کے ماضی میں 2 مرتبہ (2010 اور 2016 میں) دل کے آپریشنز ہوئے اور 2019 میں تھرومبوکائیٹوپینیا سے گزرے جب انہیں پی ٹی آئی حکومت نے علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی تھی۔ جس کے بعد انہیں دل کے تیسرے آپریشن کی تجویز دی گئی تھی اور بظاہر لگتا ہے کہ اس کے بغیر سابق وزیراعظم کے پاکستان آنے کا امکان نہیں۔