تاحیات نااہلی ختم کرنے کی درخواست پر وزیراعظم کی سپریم کورٹ بار پر تنقید

  • منگل 01 / فروری / 2022
  • 4810

وزیر اعظم عمران خان نے تاحیات نااہلی ختم کرنے کے لیے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کرنے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بہاولپور ڈویژن کے لیے ’نیا پاکستان صحت کارڈ‘ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 18 سال کی عمر میں جب میں برطانیہ گیا تو مجھے پہلی دفعہ فلاحی ریاست دیکھنے کا موقع ملا۔آئین میں لکھا ہے کہ پاکستان نے ایک اسلامی فلاحی ریاست بننا ہے لیکن ایسا ہو نہ سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ڈاکوؤں کے اس ٹولے سے ہے جو خود کو قانون کے نیچے نہیں لانا چاہتے۔ غریب چوری کرے تو جیل چلا جاتا ہے لیکن یہ چوری کریں تو کہتے ہیں ہمیں این آر او دے دو، ہمارے نبی ﷺ نے کہا تھا کہ تم سے پہلے بڑی قومیں اس لیے برباد ہوئیں کیونکہ امیر و غریب کے لیے قانون الگ الگ تھا۔ جب تک قوم ساتھ نہیں دے گی تب تک قانون کی بالادستی قائم نہیں ہوسکتی۔  یہاں نیب میں پیشی پر جانے والوں پر پھول پھینکے جاتے ہیں۔

انہوں نے سپریم کورٹ بار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بار ایسوسی ایشن کہتی ہے کہ جھوٹ بول کر باہر جانے والے کو پھر سے موقع دینا چاہیے تاکہ وہ آکر پھر سے میچ کھیلے۔ اگر آپ کو اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی تو پھر غریبوں کو جیلوں میں کیوں بند کیا ہوا ہے، پھر اگلی درخواست یہ بھی کردیں کہ پورے پاکستان کی جیلیں کھول دی جائیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون کی جانب سے 27 جنوری کو سپریم کورٹ میں تاحیات نااہلی کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی جسے آج سپریم کورٹ ‏رجسٹرار آفس نے اعتراضات لگا کر واپس کردیا تھا۔

وزیر اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 3 بار وزیر اعظم بننے والا آج لندن کے سب سے مہنگے علاقے میں اربوں روپے کی پراپرٹی میں رہ رہا ہے۔ ان سے ان کی دولت کے بارے میں سوال کیا جائے تو کہتے ہیں میرے بچوں سے پوچھو۔ بچوں سے پوچھا جائے تو کہتے ہیں کہ ہم تو پاکستان کے شہری ہی نہیں ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ صحت کارڈ سے ہمارے ملک کے صحت کے نظام میں انقلاب آئے گا، ہیلتھ کارڈ کی وجہ سے چھوٹے سے چھوٹے شہروں اور گاؤں میں بھی پرائیوٹ سیکٹر اسپتال بنانے جائے گا، سرکاری اسپتالوں میں مریض نہیں جائیں گے تو ان پر بھی پریشر بڑھ جائے گا اور سرکاری ڈاکٹرز سے سوال بھی کیا جائے گا۔