خیالی پلاؤ

بنیادی اور بے بنیاد حقوق کی باتیں کرنے والے ایک آفت قسم کے دانشور سے میںنے پوچھا، ’سر، خیالی پلاؤ پکانا جرم کے زمرے میں تو نہیں آتا ؟‘

بنیادی حقوق کے جانے، مانے، پہچانے ہوئے دانشور نے کہا ’خیالی پلاؤ پکانا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ دنیا کا کوئی قانون تمہیں تمہارے بنیادی حق سے محروم نہیں کرسکتا۔‘ اسی رات میری ماں نے خواب میں آ کر کہا، ’خیالی پلاؤ میں مرچ مصالحے سوچ سمجھ کر ڈالنا۔ خیالی پلاؤکھانے والوں کو مرچی لگنی نہیں چاہئے۔ ماں کی بات یاد رکھنا بیٹے، دنیا کا کوئی قانون خیالی پلاؤ کھانے والوں کو روک ٹوک نہیں سکتا‘۔
خیالی پلاؤ کی وضاحت میں بے سود اور بے مطلب سمجھتا ہوں۔ خیالی پلاؤ پکانے کی خوبی یا خامی ہمیں قدرت کی طرف سے ملتی ہے۔ اس کے لیے آپ کا شیف یا باورچی ہونا ضروری نہیں ہے۔ آپ کا تعلق چاہے کسی بھی عقیدے، مسلک، اور ملت سے کیوں نہ ہو، آپ خیالی پلاؤ پکاتے ہیں۔ سبزیاں کھانے والے ویجیٹیرین خیالی پلاؤ پکاتے ہیں۔ گوشت مچھلی کھانے والے چکن خیالی پلاؤ، مٹن خیالی پلاؤ، بیف خیالی پلاؤ پکاتے ہیں۔ وہ لوگ مچھلی کاخیالی پلاؤ بھی پکا لیتے ہیں۔ اور ایسے لو گ جو خیالی پلاؤ سے رغبت نہیں رکھتے وہ لوگ نہ ویج خیالی پلاؤ پکانےکے چکر میں پڑتے ہیں، اور نہ نان ویج خیالی پلاؤپکانے کے چکر میں پڑتے ہیں، مگر ایسے لوگ گنتی کے لوگ ہوتے ہیں جو کسی قسم کا خیالی پلاؤ پکاتے ہوئے عمر گزار دیتے ہیں۔
جس طرح نت نئے کھانے بنانے کے گُر اور ترکیبیں ہم ماہر باورچیوں اور کھانے پکانے کی کتابوں سے سیکھتے ہیں۔ عین اسی طرح خیالی پلاؤ پکانےکی ترکیبیں ہمیں قصے، کہانیوں، افسانے، ڈراموں اور فلموں سےملتی ہیں۔ آج کے خیالی پلاؤکی ترکیب میں نے امیتابھ بچن کی فلم شہنشاہ سے اخذ کی ہے۔ فلم دیکھ کر آپ دنگ رہ جائیں گے۔ ہر لحاظ سے فلم شہنشاہ خیالی پلاؤ کے موضوع پر بننے والی فلموں میں شہنشاہ فلم ہے۔ خیالی پلاؤ کے موضوع پر بننے والی فلموں میں شہنشاہ سے بڑی فلم میں نے آج تک نہیں دیکھی ہے۔
ایک روز میں نے فیصلہ کر لیا کہ ملک کا نظام چلانے والے محکموں پر بھروسہ نہیں کروں گا۔ تمام محکموں نے اور محکموں سے منسلک لوگوں نے مجھے دھوکہ دیا تھا۔ امن وامان اور انتظامی امور کا بیڑا غرق ہو چکا تھا۔ محکموں میں رشوت خوری کا قلع قمع کرنے کیلئے میں نے اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ بنایا تھا۔ بعدمیں پتہ چلا کہ سب سے زیادہ رشوت اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ میں لی اور دی جاتی تھی۔ اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ مجرم پکڑے نہیں جاتے۔ اگر دکھاوے کے طور پر پکڑے جاتے تھے، تو کوئی شخص ان کے خلاف گواہی دینے کے لیے آگے نہیں آتا تھا، ہمارا نظام انصاف نام نہاد چشم دید گواہوں کی بیساکھیوں پر کھڑا ہوا تھا۔

خواتین اور بچوں کے ساتھ پیش آنے والےجرائم بڑھتے جا رہے تھے۔ مجرم کھلے عام دندناتے پھر رہے تھے۔ دہشتگرد بھرے بازاروں، درسگاہوں اور عبادت گاہوں میں قتل و غارت کرنے کے بعد صاف نکل جاتے تھے۔ میں سمجھ سکتا ہوں۔ آپ کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ دیکھ سکتا ہوں۔ آپ کو میری باتیں بھولے بسرے ماضی کی باتیں لگ رہی ہوں گی۔ کیونکہ اب ہمارے ملک اور معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا۔ ہمارا معاشرہ امن اور آشتی کا گہوارہ بن چکا ہے۔ لوگ راستوں پر چلتے ہوئے یا تو موبائل فون دیکھ رہے ہوتے ہیں، یا پھر چین کی بانسری بچا رہے ہوتے ہیں۔ مگر یہ سب کچھ ہوا کیسے ؟
یہ سب کچھ ہوا ایسے، جب میں نے ملک میں انتظامی اور امن و امان کے امور اپنے ذمہ لے لیے۔ میں بہروپیا بن کر رشوت خوروں کو رشوت دیتا، اور انہیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیتا۔ خود ہی میں ان پر مقدمہ چلاتا اور انہیں سزا دیتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے رشوت خور، رشوت لینے سے ڈرنے لگے۔ رعب دار افسران کے ماتحت اپنے افسران کیلئے رشوت لینے سے گریز کرنے لگے۔ افسران کے ڈانٹنے ڈپٹنے کے باوجود ماتحتوں نے ان کیلئے رشوت لینے اور اپنے آپ کو جو کھم میں ڈالنے سے انکار کر دیا۔ غصیلے افسران نے اپنے ماتحتوں کو نافرمانی کی تہمت لگا کر ملازمت سے نکالنا شروع کر دیا اور براہ راست رشوت لینے لگے۔ جب دبنگ قسم کے افسران پر میں نے ہاتھ ڈالا تب انہوں نے اکڑ کر کہا ’ہمیں عدالت میں پیش کرو، سب جج ہمارے بے داغ پیشہ ورانہ ریکارڈ کے معتقد ہیں‘۔ ان کو خاموش کراتے ہوئے میں نے کہا، ’میں خود مجرموں کو پکڑتا ہوں جج بن کر اپنی عدالت میں ان پر مقدمہ چلاتا ہوں، اور خودہی ان کو سزا دیتا ہوں‘۔ بڑے بڑے اکڑ فوں افسران کے غباروں سے ہوا نکل گئی۔ رشوت خوری اب ہمارے ملک سے قصہ پارینہ ہو چکی ہے۔ مجال ہے کسی کی کہ جائز یا ناجائز کام کیلئے آپ سے کوئی دمڑی بھی مانگے۔ اب ہمارے ملک میں کسی قسم کا کوئی ناجائز کام نہیں ہوتا۔
خواتین اور بچوں کے ساتھ بھیانک وارداتیں کرنے والوں کے پیچھےمیں سائے کی طرح لگا رہتا تھا۔ میں نے ان کے دل اور دماغ پر اپنی دھاک بٹھا دی تھی۔ بچوں اور خواتین کی زندگی زچ کرنے والے مجرم میرے ہاتھوں ایسے غائب ہو جاتے تھے جیسے وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہو کر اس دنیا میں کبھی آئے نہیں تھے۔ ہمیشہ کیلئے گم ہو جانا سزائے موت سے زیادہ بھیانک سزا ہے۔ مجرموں کو میں آپ کی عدالتوں میں اس لیے بھی پیش نہیں کرتا کہ وہ باعزت بری کردیے جاتے ہیں۔ میں انہیں ٹھکانے لگا دیتا ہوں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)