اٹارنی جنرل کا خط زیر سماعت معاملے پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے: شہباز شریف

  • بدھ 02 / فروری / 2022
  • 3790

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے جوابی مراسلے میں اٹارنی جنرل کے خط کو ماورائے قانون اور لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت معاملے میں توہین عدالت کے مترادف قرار دیا گیا۔

شہباز شریف کی ہدایت پر 2 صفحات پر مشتمل جوابی مراسلہ ان کے پرسنل سیکریٹری مراد علی کی جانب سے اٹارنی جنرل کے سیکریٹری خالد خان نیازی کو بھجوایا گیا ہے۔ خیال رہے کہ 24 جنوری کو اٹارنی جنرل آف پاکستان نے مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کو خط لکھ کر ان کے بھائی نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس 10دن میں جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔ شہباز شریف کی جانب سے ارسال کردہ جوابی خط میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل کا خط میں اختیار کردہ لب و لہجہ انتہائی قابل اعتراض اور نامناسب ہے۔

اٹارنی جنرل کے خط میں لاہور ہائی کورٹ کے 16 نومبر 2019 کے حکم کے مندرجات اور جمع کرائی گئی یقین دہانی کو درست طور پر ملحوظ نظر نہیں رکھا گیا اور عدالتی حکم نامے کے درست تناظر کو پیش نظر رکھے بغیر وفاقی کابینہ کی ہدایت پر اٹارنی جنرل نے خط لکھ دیا۔ شہباز شریف کے سیکریٹری کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل کے احکامات پر خط لکھنے والے ماتحت افسر حلف نامے کے اختتامی حصے کو سمجھنے سے قطعی قاصر نظر آتے ہیں۔

شہباز شریف کی جانب سے کہا گیا کہ اٹارنی جنرل کے خط کو لکھتے ہوئے قانون، میڈیکل بورڈ کی تشکیل، اس کی کارروائی کی تفصیل اور اس کی بنیاد پر کی گئی معروضات کو نظر انداز کیا گیا۔ اٹارنی جنرل کا خط 16 نومبر 2019 کے عدالتی حکم کے دائرہ کار اور متعین کردہ حدود سے تجاوز ہے اور کابینہ کے دم توڑتے سیاسی بیانیے کی حمایت اور میڈیا ٹرائل کی نیت سے جاری کیا گیا۔

عدالت عالیہ میں زیر سماعت معاملے سے متعلق یہ خط توہین عدالت کے مترادف ہے اور زیر سماعت معاملے پر اثرانداز ہونے کی کوشش دکھائی دیتا ہے۔ مراسلے میں بتایا گیا کہ عدالتی حکم کی روشنی میں تمام رپورٹس متعینہ مدت میں جمع کرائی گئی اور حلف نامے کے مطابق تمام ذمہ داریاں بروقت ادا کی گئیں، ان سے کبھی صرف نظر نہیں کیا گیا۔

شہباز شریف کے پرسنل سیکریٹری نے کہا کہ اٹارنی جنرل کا خط خلافِ قانون، بلاجواز اور کسی قانونی اختیار کے بغیر ہے، خط لکھ کر جس طرح کردار کشی کی گئی، اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

اٹارنی جنرل آف پاکستان نے مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کو خط لکھ کر ان کے بھائی نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس 10دن میں جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کے دفتر سے شہباز شریف کو لکھے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آپ نے ہائی کورٹ میں حلف نامہ جمع کرایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ آپ رجسٹرار ہائی کورٹ کو نواز شریف کی صحت کی جانچ کے حوالے سے رپورٹس وقتاً فوقتاً جمع کراتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد کُل 8 رپورٹس رجسٹرار ہائی کورٹ کے پاس جمع کرائی گئیں اور اور اس سلسلے میں آخری رپورٹ 8 جولائی 2021 کو جمع کرائی گئی تھی۔

اٹارنی جنرل نے لکھا کہ میڈیا میں دستیاب نواز شریف کی موجودہ جسمانی حالت اور ملک سے روانگی کے وقت انتہائی سنگین حالت کے باوجود انہیں بیرون ملک ہسپتال میں داخل نہیں کرایا گیا اور ان کی سیاسی اور تفریحی سرگرمیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے حلف نامے کے تحت وہ وطن واپسی کے لیے مکمل فٹ ہیں جبکہ حال ہی میں لندن میں نواز شریف سے ملاقات کرنے والوں اور ان کے قریبی اہل خانہ کے بیانات سے بھی اس بات کو تقویت ملتی ہے۔