پکڑے جاتے ہیں ’فرشتوں‘ کے لکھے پر ناحق
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 02 / فروری / 2022
- 6760
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’وہ انجیو گرافی کرائے بغیر لندن سے نہ جائیں اگروہ علاج کے بغیر پاکستان گئے تو ان کی حالت بگڑ سکتی ہے۔ انہوں نے اپنی زیابیطس کو کنٹرول کرنے کے لئے روزانہ کی بنیاد پر نئی دوا شروع کی تھی جس کے نتیجے میں ان کے گردوں کے افعال خراب ہو گئے ہیں۔
کلثوم نواز کے وفات کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ میں ہیں جس سے ان کی بیماری مزید بگڑ سکتی ہے۔ وہ ذہنی دباؤ کے بغیر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ کھلی فضا میں چہل قدمی کریں، ادویات جاری رکھیں کورونا وائرس کی عالمی وبا کو دیکھتے ہوئے عوامی مقامات یا ہوائی اڈوں پر جانے سے گریز کریں۔ وہ دل کے مریض ہیں اور کورونا سے ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے‘‘۔ امریکی ڈاکٹر کی میڈیکل رپورٹ جو ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی ہے، اسے پڑھتے ہوئے درویش یہ سوچ رہا تھا کہ بیماری سے نواز شریف کی جان کو خطرہ ہو نہ ہو، موجودہ سیاسی حالات میں اگر وہ پاکستان تشریف لانے کی غلطی کریں گے تو ان کی جان کو یقیناً خطرہ ہوگا۔ ماقبل اپنی بیمار شریک حیات کو لندن چھوڑتے ہوئے وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ جس شتابی میں پاکستان آئے تھے وہ کسی بھی طرح ان کا درست فیصلہ نہیں تھا۔ اپنی کم بساطی کے باوجود ان کے دو قریبی احباب کو اس کے مضمرات گوش گزار کرنے کی کاوش بھی کی تھی لیکن یہ بتایا گیا تھا کہ اگر وہ نہ آئے تو ان کے سیاسی کیریئر پر دھبہ لگے گا اور انتخابی ناکامی یا شکست کی صورت پارٹی میں اس نوع کی آوازیں اٹھ سکتی ہیں کہ قیادت کے بیرون ملک ہونےکی وجہ سے پارٹی کو اتنا بڑا نقصان سہنا پڑا ہے۔
اس زاویہ نگاہ میں وزن سے انکار نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن بے وزن دوسرا پہلو بھی نہیں تھا۔ ان کے اس کسمپرسی میں آنے سے پارٹی مورال یا انتخابی مہم پر فرق صرف اس صورت پڑ سکتا تھا اگر انہیں انتخابی جلسوں کے ذریعے عوامی رابطے کا مناسب موقع دیاجاتا ۔ سب پر واضح تھا کہ انہیں ایئر پورٹ سے ہی گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا جاناہے۔ وقت کا طاقتور تکونی سیٹ اپ اس امر پر تلا ہوا تھا جس کے تمام شواہد واضح دکھائی دے رہے تھے۔ اگر ان میں کوئی کسر رہ گئی تھی تو وہ مابعد عدالتی تاریخ کے بدترین سیاہ دھبے کی آڈیوز ہی واضح نہیں کر رہی ہیں، ان کے اپنے ہم عصر عدالتی ذمہ داران اندر خانے ہی نہیں کھلے بندوں بھی جو کچھ فرما رہے ہیں، حالات کی ابتری سمجھنے کیلئے کوئی کسر رہ نہیں جاتی ہے۔ درویش کی نظر میں اس کمزوری و لاچارگی و بے بسی کی آمد نے انتخابی مورال بلند کیا کرنا تھا، مزید ڈاؤن ہی کیا۔ اور اپنی تمامتر مقبولیت کے باوجود اس نوع کی دیگر سازشیں اور سکیمیں کام دکھا گئیں ۔
اگر سچائی کی ابدی فتح نہیں ہوتی تو جھوٹ، فراڈ اور کمینگی بھی دائمی لازوال نہیں ہوتیں ۔ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، اس کائنات میں ثبات ازلی طور پر ایک تغیر کو ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ جو جس وقت اقتدار پر بیٹھا ہوتا ہے اس کی آنکھیں چندھیائی ہوتی ہیں۔ بچپن میں کسی کو اگر بہنیں اس نوع کا طنز کرتی تھیں تو وہ ایک الگ چیز ہے ۔ یہاں بات سیاسی زبان میں وقت بدلنے کی ہو رہی ہے ۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ لوگ چرب زبان بہروپیوں اور اخلاص و سچائی کی پرعزم قیادت میں فرق کو سمجھنے میں ہمیشہ دیر کر دیتے ہیں۔ کلیدی ذمہ داریوں پر ایسے ایسے شاطر لوگ براجمان ہو جاتے ہیں جن کو درحقیقت جیلوں میں ہونا چاہئے۔
سچے کھرے اور قوم کے لئے حقیقی و تعمیری کام کر گزرنے والے مخلص لوگ منفی ریاستی پروپیگنڈے کے ذ ریعے یہاں غدار قرار پاتے رہے ہیں ۔ ہمارے عدالتی نظام کو ہی ملاحظہ فرمالیا جائے یہاں جیلوں میں مہینوں اور برسوں ایسے ایسے بے گناہ لوگ سڑ رہے ہوتے ہیں جن کابال برابر جرم نہیں ہوتا جبکہ اصل مجرم اور قاتل سماج میں دندنا رہے ہوتے ہیں۔ جنگ جیو جیسے اتنے بڑے صحافتی ادارے کے سربراہ میر شکیل الرحمن کی نیب یا احتساب کورٹ سے حالیہ بریت کو بطور مثال پیش کیا جا سکتاہے ۔ چونتیس برس قبل کی پراپرٹی خرید کو سکینڈلائز کرتے ہوئے ان کی ڈرامائی گرفتار کی گئی حالانکہ احتساب کا اپنا قانون دوران تفتیش ایسی گرفتاری کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ وہ گلیاں جن کا بالفعل وجود ہی نہیں تھا جس کا ایکٹ ہی ابھی نہیں بنا تھا، اسے ان کاجرم بناکر یوں پیش کیا گیا نہ جانے کونسی قومی بربادی ہو گئی ہے، کونسا خزانہ لوٹ لیا گیا ہے۔ فیض کے الفاظ کی درست عکاسی ہوتی ہے’’وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے‘‘۔ بالآخر احتساب عدالت کا جج یہ لکھنے پر مجبور ہو گیا کہ میر صاحب کے خلاف الزامات محض مفروضہ ہیں جب کوئی جرم ثابت ہی نہیں ہو رہا تو اعانت جرم کہاں سے آ گئی۔ ناکافی مواد کے سبب ریفرنس کا ٹرائل جاری رکھنا لاحاصل مشق ہو گی۔
میر صاحب تو کوئی سیاسی آدمی نہیں تھے اور نہ ہی ان کی کسی سیاسی سے کوئی ذاتی یا نظریاتی دشمنی تھی تو پھر بنا ثبوت ایک بے گناہ شخص کو پورے آٹھ مہینے جیل میں بند رکھنے والے بتائیں انہوں نے جس جرم کا ارتکاب کیا ہے کیو ں نہ انہیں اس کی سزا ملے؟ جنہوں نے گھناؤنے الزامات لگائے، بیمار بھائی سے ملاقات پر قدغنیں لگائیں، مینٹلی ٹارچر کیا، کیا وہ انصاف ، سوسائٹی اور انسانیت کے مجرم نہیں ہیں؟ نیب احتساب کے نام پر بے گناہ شرفاء و معززین کوجو اذیتیں پہنچاتا ہے، کسی نے سوچا کہ جن کے ایما پر یہ سب کچھ ہوتا ہے ان کا احتساب کیوں کر اور کیسے ہونا چاہیے؟ یہاں تین مرتبہ منتخب ہونے والے عوامی قائد کے ساتھ جو ذلت آمیز سلوک روا رکھا گیا ہے، مہذب اقوام میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ البتہ پسماندہ معاشروں میں جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے جنگلی قانون کی کارفرمائی ہووہاں مفادات کے غلام جس نوع کی چاہیں ریوڑیاں بانٹ سکتے ہیں اور جیسی چاہیں سزائیں سنا سکتے ہیں۔
پاناما کیس میں یہاں چار سوسے اوپر نام آئے تھے مگرگھٹیا الزام تراشی صرف اس شخصیت کے خلاف کی گئی جس کی محبت میں آج بھی کروڑوں پاکستانیوں کے دل دھڑکتے ہیں۔ جب پاناما سے کچھ نہ ملا تو اقامہ کے نام پر سزاسنادی گئی، اس تنخواہ کے ظاہر نہ کرنے پر جو کبھی وصول ہی نہیں کی گئی۔ اسی سے ملتا جلتا پنڈور ا سکینڈل آیا تو تمام چرب زبانیں گنگ ہوکر رہ گئیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں سچائی کا نہیں پروپیگنڈے کا دور دورہ ہے۔
کرسی پربراجمان آواز آتی ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عدالت میں جا کر کہے کہ پاکستان میں جیلوں کو کھول دیں، بالکل کہے کہ اپنے سیاسی انتقام کی آگ میں جل کر مذموم مقاصد کیلئے آپ لوگ جن بے گناہ لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنساتے ہو یا بند کرتے ہو انہیں جیلوں سے نکالو ان سے معافی مانگو اور اپنی ایسی مکروہ حرکات سے باز آجاؤ۔ آج آپ کہہ رہے ہیں کہ ہمارا مقابلہ ڈاکوؤں کے ساتھ ہے انہیں ہار کیوں پہناتے ہیں لیکن پاکستان کا عام آدمی یہ جاننا چاہتا ہے کہ آپ کے اپنے ہی الزامات سب کے سامنے ہیں، جسے آپ نام لے کر پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتے تھے جب مفادپرستی کا معاملہ آیا تو بڑے بھائی کو جا کر کہا کہ مجھے بھی وہی سمجھ لیں۔ کیسے کیسے لوگ ہیں آپ کے دائیں بائیں جن کے لئے آپ نے گھٹیا الفاظ بولے مگر جب مفادات کی بات آئی تو سب دودھ میں دھل گئے۔
سچائی تو یہ ہے کہ یہاں تمام تر مفاداتی گیمیں کھیلی جا رہی ہیں یہاں صداقت و امانت کے خطابات بھی حسب مفاد بانٹے جاتے ہیں۔ احتسابی اداروں کا یہ حال ہے کہ انتقامی کارروائیوں اور جھوٹی الزام تراشیوں کی بیسیوں مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ یہاں آئین اور قانون کی نہیں لٹھ اور مفاد کی حکمرانی ہے جب مفاداتی ہوائیں بدلیں گی تو جعلی پروپیگنڈے اپنی موت آپ مر جائیں گے اور معلوم ہو گا کہ جو خود کو ’’پارسائی کا ستون بنا کر پیش کر رہے تھے وہ حقیقت میں کچھ اور ہی تھے۔ اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ۔