بھارت سے تعلقات بہتر ہوئے تو نریندرمودی ایک ماہ میں پاکستان آسکتے ہیں: میاں منشا
- جمعرات 03 / فروری / 2022
- 3510
پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت میاں محمد منشا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بیک چینل کے ذریعے بات چیت جاری ہے جس کے اچھے نتائج نکلنے کی امید ہے۔
لاہور کے ایوان صنعت و تجارت میں کاروباری حضرات سے بات کرتے ہوئے نشاط گروپ کے چیئرمین نے بتایا کہ اگر دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان معاملات بہتر ہوئے تو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایک ماہ کے اندر پاکستان کا دورہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک پر اپنے تنازعات کو حل کرنے اور خطے میں موجود غربت کے خلاف لڑنے کے لیے تجارت شروع کرنے پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر معیشت بہتر نہ ہوئی تو ملک تباہ کن نتائج کا سامنا کرے گا، پاکستان کو چاہئے کہ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات ٹھیک کرے اور معاشی ترقی کے لیے ریجنل اپروچ اپنائے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ نے دو جنگِ عظیم لڑیں لیکن آخر کار امن اور خطے کی ترقی کے لیے معاملات حل کیے، کوئی دشمنی مستقل نہیں ہوتی۔
خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات اگست 2019 سے معطل ہیں جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت یا خود مختاری دینے والے قانون کو منسوخ کردیا تھا۔ گزشتہ موسم سرما کے دوران بھی خطے کی دونوں معیشتوں کے درمیان ایک خلیجی ریاست کی ثالثی میں بیک چینل مذاکرات ہونے کی اطلاعات آئی تھیں۔
تاہم حکومت کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر بھارتی مظالم، وادی سے اپنی افواج کی واپسی اور علاقے کی خصوصی حیثیت بحال کرنے سے انکار کے باعث مذاکرات کا سلسلہ منقطع ہو گیا تھا۔
میاں محمد منشا کا کہنا تھا کہ ملک کے اندر مقامی سطح پر ترقی پسندانہ، منڈی کی ضروریات کے مطابق پالیسیاں کامیابی کے لیے اہم ہیں۔ پرائس کنٹرول کے ذریعے کپیٹل مارکیٹ آپریشنز، تجارتی رکاوٹوں کو کم سے کم کرکے، خاص طور پر نجکاری اور سادگی کے ذریعے معیشت پر ریاست کا اثر و رسوخ کم سے کم کرکے پاکستان تیز رفتار حقیقی شرح نمو حاصل کرسکتا ہے۔