پنجگور اور نوشکی میں حملے، 15 دہشت گرد اور 4 فوجی ہلاک
- جمعرات 03 / فروری / 2022
- 5240
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے بلوچستان کے علاقے پنجگور اور نوشکی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں اور شہید فوجیوں کی تعداد سے متعلق تازہ معلومات فراہم کی ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق دہشت گردوں نے بدھ کی شام بلوچستان کے علاقے پنجگور اور نوشکی میں 2 الگ الگ حملوں میں سیکیورٹی فورسز کے کیمپوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ تاہم دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچاتے ہوئے حملوں کو ناکام بنادیا گیا۔
وزیر داخلہ نے ٹوئٹر پر پیغام میں بتایا ہے کہ نوشکی میں 9 دہشت گرد مارے گئے اور 4 فوجی شہید ہوئے۔ جبکہ پنجگور حملے میں 6 دہشت گرد مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ’دہشت گردوں کو دونوں جگہوں سے پسپا کر دیا گیا اور پاک فوج نے اپنی روایت کو زندہ رکھا۔ پنجگور میں 4 سے 5 افراد فوج کے گھیرے میں ہیں جنہیں پاک فوج شکست دے گی، دہشت گردی کے خلاف پاک فوج نے یہ ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
وزیر داخلہ نے سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے خلاف لڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے بلوچستان میں گزشتہ رات دہشت گرد حملوں کو ناکام بنانے پر بہادر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی عظیم قربانیوں کا اعتراف کیا ہے۔ وزیر اعظم نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ ’ہم اپنی بہادر سیکورٹی فورسز کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے بلوچستان کے علاقے پنجگور اور نوشکی میں سیکیورٹی فورسز کے کیمپوں پر دہشت گردانہ حملوں کو ناکام بنایا، قوم ہماری سیکورٹی فورسز کے پیچھے متحد کھڑی ہے جو ہماری حفاظت کے لیے بڑی قربانیاں دے رہے ہیں‘۔
حملوں کو ناکام بنانے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بھی سیکیورٹی فورسز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد ہماری بہادر سیکیورٹی فورسز کو بزدلانہ حملوں سے ڈرا نہیں سکتے، ہماری سیکیورٹی فورسز تاریخ رقم کر رہی ہیں۔
گزشتہ رات ہونے والے حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔ یہ واقعات بلوچستان میں جاری حملوں کے تازہ سلسلے کا حصہ ہیں جو کہ ضلع کیچ میں سیکیورٹی فورسز کی ایک چوکی پر دہشت گردانہ حملے میں 10 فوجیوں کی شہادت کے ایک ہفتے بعد ہوئے ہیں۔