مقبول بٹ شہید کی برسی سے جڑی یادیں!
فاھنگن جرمنی کے جنوبی شہر سٹٹگارٹ کاایک خوبصورت مضافاتی گاؤں تھا۔ اس گاؤں کی آلپنروز گلی نمبر 26 میں میرا دو کمروں کا فلیٹ تھا جو مجھے ہمارے اس یہودی ڈائریکٹر نے دلوایا تھا جس سے میرا پیشہ وارانہ تعلق اس وقت ذاتی تعلق میں بدل گیا جب میں نے لنچ کی میز ہر حرام کھانا مسترد کیا۔
اس نے یہ کہہ کر اپنی پلیٹ میرے آگے کر دی کہ یہودی بھی حلال کھاتے ہیں۔ یہی گھر بعد میں ہماری تحریکی سرگرمیوں کا مرکز بنا۔ فاھنگن مکمل طور پر ایک جرمن آبادی کا گاؤں تھا۔ ہمیں اپنے کلچر کی چیزیں خریدنے کے لیے بڑے شہر سٹٹگارٹ کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ وہاں صرف ایک دکان ایسی تھی جہاں سے ایشیائی اخبار بھی ملا کرتے تھے۔ یہ مارچ 1981 کا ایک دن تھا۔ میں نے اس دکان سے ہفت روزہ اخبار وطن خریدا۔ اس کے اس وقت ایڈیٹر چناری سے تعلق رکھنے والے ایک محب وطن کشمیری علی کیانی صاحب تھے جو یہ اخبار لندن سے نکالا کرتے تھے۔ بعد میں علی کیانی ممتاز راٹھور کی مختصر حکومت میں بھی ایک اہم منصب پر فائز رہے تھے۔
علی کیانی نے مقبول بٹ شہید کی 16 سالہ بیٹی لبنی کا ایک انٹرویو شائع کیا تھا جو کشمیری نوجوانوں سے سوال کر رہی تھیں کہ اس کے ابو کو پھانسی کے پھندے سے بچانے کے لیے وہ کیا کر رہے ہیں۔ یہ سوال میری زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ مختلف شہروں سےچیدہ چیدہ کشمیریوں کو مشاورت کے لیے اکٹھا کیا۔ اجلاس ہونے لگے تو جموں کشمیر کی آزادی کے مخالف بعض کم فہم غیر ریاستیں نے بلا وجہ واویلا شروع کر دیا کہ یہ تحریک پاکستان کے خلاف یے۔ بہت سمجھایا کہ بھائی یہ ایک محب وطن کشمیری کو پھانسی کے پھندے سے بچانے کی مہم ہے اور پھر ریاست کاایک بڑا حصہ تو ہے ہی بھارت کے قبضے میں۔ مگر چند ایک ہی قائل ہوئے۔ غیر ضروری دباؤ کے آگے جھکنا شروع سے ہی اہنی عادت نہ تھی اس لیے ہم نے اپنا کام جاری رکھا۔
ایک شام میں مقبول بٹ کی قید کے حوالے سے ایمنسٹی انٹرنیشنل سٹٹگارٹ شاخ کے دفتر گیا۔ درجن سے زائد لوگ انتظار گاہ میں تھے۔ خوش لباسی کا شوق بچپن سے ہی تھا۔ شاید اسی وجہ سے جب ایمنسٹی کی نمائندہ ایک نوجوان جرمن خاتون انتظارِ گاہ میں مہمانوں کے پاس آئی تو اس کی نظریں پتہ نہیں مجھ پر یا میرے لباس ہر جم گئیں۔ مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا تو اس نے مجھے کہا میں آپ کو آخر میں ملوں گی۔ موبائل تو ان دنوں تھا نہیں جو میرا دل بہلاتا تو میں نے میز سے ایک اخبار اٹھا کر پڑھنا شروع کیا۔ شام ہو چکی تھی ۔ خاتون آئی اور اپنے ڈیسک پر لے جا کر اپنا نام سوزن سٹیفل اور پیشہ ڈینٹل سرجن بتاتے ہوئے کہا کہ وہ رضاکارانہ طور پر ہفتے میں دو شامیں ایمنسٹی کے لیے کام کرتی ہے۔ مجھے اپنا پورا تعارف کرانے کے لیے کہا تو میں نے اپنا مختصر پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں شام کو جرمن زبان کی کلاسیں بھی لیتا ہوں۔ وہ خوش ہوئی کہ میں اس کی قومی زبان سیکھ رہا ہوں۔ دفتر میں آنے کی وجہ پوچھی تو میں نے مقبول بٹ کے خلاف پھانسی کی سزا کی تفصیل بتائی۔
دفتر کا وقت ختم ہو گیا تو وہ مجھے قریبی کیفے میں لے گئی جہاں اس نے مجھے دودھ والی کوفی پلائی اور میں نے اسے اپنے گھر کھانے کی دعوت دے ڈالی جو اس نے قبول کر لی۔ اس کے تعاون سے ہم نے جرمنی کی کچھ سیاسی شخصیات اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو خطوط لکھے۔ مجھے جرمنی میں ابھی ایک سال ہی ہوا تھا جس کی وجہ سے میری علمی جرمن زبان ابھی اتنی معیاری نہ تھی جس کی وجہ سے میرے سارے دستاویزی کام سوزن کرتی ۔ جرمن میں علمی زبان کو ہوخ ڈاؤچ کہتے ہیں۔ یعنی تعلیم یافتہ لوگوں کی ادبی زبان ۔ میں یہ زبان لنگوا راما میں سیکھ رہا تھا۔ دوسری ملاقات پر سوزن نے مجھے ایمنسٹی انٹرنیشنل لنڈن ہیڈ کوارٹر سے مقبول بٹ شہید کے متعلق منگوائی گئی اہم معلومات دکھائی تو میں بڑا متاثر ہوا کہ محترمہ نے میری درخواست کے بغیر ہی لندن رابطہ کر لیا۔ احترام کے رشتے بڑھتے گئے۔ ایک دن وہ مجھے اپنے کلینک پر لے گئی جسے وہ مزاق میں اپنی فیکٹری کہا کرتی تھی۔ میں نے اسے پوچھا وہ ابھی بہت جوان ہے۔ تعلیم مکمل کرتے ہی اس نے اتنا بڑا کلینک کیسے کھول لیا۔ اس نے کہا یہ پیسہ اس کے والد نے اسے دیا ہے۔ سوزن نے کہا آؤ دونوں مل کر یہ کاروبار چلائیں۔ میں ڈاکٹر ہوں تو تم ایڈمنسٹریش سنبھال لو۔
پیسے کمانے کے حوالے سے تو میں ہمیشہ سادہ ہی رہا لیکن دلوں کے حال سمجھنے میں اتنا سادہ بھی نہ تھا۔ میں سمجھ گیا کہ سوزن جس راستے پر مجھے لے کر جا رہی ہے، اس کی منزل شادی ہے اور میری اب منزل آزادی کشمیر ہے۔ میں نے چند دن بعد پیرس جا کر لبریشن فرنٹ کی شاخ قائم کرنا تھی۔ سوچا ایک طرف ذاتی فائدہ ہے اور دوسری قومی مفاد۔ کدھر جاؤں؟ غور و خوض کے بعد میں پیرس چلا گیا جہاں ایوب خان کے خلاف بھٹو کی بغاوت کے دنوں کھوئی رٹہ طلباء یونین کے صدر راجہ سہراب انجم رہتے تھے۔ ان کی صدارت کے دوران میں پرائمری سکول میں تھا لیکن ان کی شعلہ بیانی مجھے اچھی طرح یاد تھی۔ میں نے سوچا وہ فرانس میں فرنٹ کے قیام میں مدد گار ثابت ہوں گے تو ایسا ہی ہوا۔ انہوں نے کہا میں جب چاہوں ان کے گھر اجلاس بلا لیا کروں۔ ان کے گھر کئی مشاورتی اجلاسوں کے بعد اگست 1981 میں لبریشن فرنٹ فرانس کا قیام عمل میں لایا گیا جو آج بھی کام کر رہی ہے۔
جولائی 1983 میں امان اللہ خان کی دعوت پر ایک کا کانفرنس میں شرکت کے لیے لوٹن انگلینڈ گیا۔ پیرس سے میں نے مقبول بٹ شہید اور حمید بٹ کو خطوط لکھے ۔ مقبول بٹ شہید کے تاریخی جوابات مہاترے کیس میں گرفتاری کے وقت برطانوی پولیس نے ضبط کر لیے تھے جو ابھی تک واپس نہیں کئے۔ پولیس نے 22 سال بعد میری رہائی کے وقت میرے کپڑے اور بٹوے سمیت ہیسے تو واپس کئے مگر بٹ صاحب کے خطوط واپس نہ کئے کیونکہ وہ خطوط نوجوان نسل کے لیے رہنمائی کا درجہ رکھتے تھے۔ مقبول بٹ شہید کی جان بخشی کے لیے ڈپٹی کمشنر مہاترے تین فروری 1984 کو کشمیری نوجوانوں نے اغوا کر کے مقبول بٹ کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ پلان بی یہ تھا کہ اگر مقبول بٹ کو بری کر کے کسی دوسرے ملک نہ بھی بھیجا گیا تو مطالبہ کیا جائے گا کہ ان کی پھانسی کی سزا عمر قید میں تبدیل کر کے سرینگر منتقل کر دیا جائے۔
بھارت میں عمر قید چودہ سال قید تھی اور مقبول بٹ 1966 سے 1968 اور پھر 1976 سے 1984 تک جو سزا بھگت چکے تھے وہ ملا کر ان کی عمر قید مکمل ہو گئی تھی مگر بد قسمتی سے مہاترے کے اغواء کے صرف تین دن بعد اسے گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ اب سارے پلان ناکام ہو چکے تھے۔ میں بہت برہم ہوا لیکن غصہ نکالنے کا مطلب ذمہ داران کو پکڑوانا تھا جس سے مزید نقصان ہوتا اور قومی وقار کو دھچکا لگتا ۔ اس لیے میں نے جذبات ہر قابو رکھ کر جماعت کے اندر انکوائری کا مطالبہ کیا جس کی مخالفت کے اثرات آج بھی موجود ہیں اور آئندہ آنے والی نسلیں بھی یہ سوال کرتی رہیں گی کہ اس انکوائری کی مخالفت کس نے کیوں کی؟ اس انکوائری کے مطالبے کی وجہ سے ہم طویل اسیری کے دوران اس وقت کی جماعتی قیادت کی سیاسی اخلاقی اور قانونی حمایت سے محروم ہو گئے تھے۔ ہمارے پاس خود کو بچانے کا موقع اور اختیار تھا لیکن ہمیں معلوم تھا کہ ایسا کرنے پر جماعت پر پابندی لگ جائے گی اور کچھ لوگ عمر کے ایسے حصے میں تھے کہ وہ جیل میں ہی مرتے۔
ہم نے تو ان ہموطنوں کے بارے خلوص نیت سے اچھا ہی سوچا تھا لیکن انہوں نے جو سوچا کیا اور کہا وہ سب نے دیکھا اور سنا ہے ۔ میری گرفتاری کی بابت سوال نے جب جماعت کے اندر اور باہر زور پکڑا تو یاروں نے میری کردار کشی شروع کر دی۔ کہا کہ میں نے دوران سفر دو پاسپورٹ رکھے ہوئے تھے جس میں سے ایک اسحاق کے نام پر اور دوسرا اپنا تھا جبکہ میرا اپنا پاسپورٹ بسلسلہ تجدید تھا ہی یوم آفس میں۔ جن کو ہم نے گرفتار ہونے سے بچایا، وہی ہمیں بے وقوف ثابت کرنے پر تل گئے۔ اور میری گرفتاری کے افسانے گھڑنے شروع ہو گئے۔ تاریخ خود بولتی ہے کہ جو خود کو لیڈر کہتے تھے وہ مہاترے کو اغوا کر کے بھاگ گئے تھے۔ ہم نے کبھی لیڈری کا دعویٰ نہیں کیا لیکن اگر لیڈر شپ کا مطلب اور کام قوم اور تحریک کو مشکل وقت میں بچانا ، سہارا دینا اور اس کا وقار قائم رکھنے جیسے اصول شامل ہیں تو آج قوم خود فیصلہ کر سکتی ہے کہ ہم نے ان اصولوں کی کہاں تک پاسداری کی تھی۔
مقبول بٹ کو پھانسی دینے اور ریاض اور راقم کو خفیہ غیر عدالتی سزاؤں کا مقصد ہمیں نشان عبرت بنا کر اندرون و بیرون ملک کشمیریوں کو خوف زدہ کرنا تھا تاکہ وہ آزادی کا خواب دیکھنا بند کر دیں۔ لیکن غاصب قوتیں یہ مزموم مقاصد حاصل کرنے میں بھی ناکام رہیں۔ لاکھوں لوگ آزادی کے نام پر قربان ہو گئے اور لاکھوں اسے کاروبار میں تبدیل کر کے ارب پتی بن گئے مگر ضمیر کی دولت کے برابر کوئی دولت اور عزت و غیرت کے برابر کوئی قوت نہیں ہوتی۔ انشاللہ اس قوم کے با ضمیر با کردار باعمل اور باغیرت نوجوان ایک نہ ایک دن قوم کا خواب پورا کر کے رہے گا۔ کس کس کو وہ صبح دیکھنا نصیب ہو گی بس یہ مقدر کی بات ہے، لکین عزت سے جینا اور عزت سے مرنا ہی اصل جیت اور کامیابی ہے۔
سال میں ایک بار مقبول بٹ اور افضل گورو کی برسی منا کر ہمیں خاموش نہیں ہو جانا چاہیے بلکہ ان کے جسد خاکی کی واپسی کے لیے ہمیں منظم ہو کر ایک غیر جماعتی عالمی مہم چلانی چاہئے۔ زندہ قوموں کی ایک نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ قومی اشوز کو جماعتی ، گروہی اور نظریاتی اختلافات کی نزر نہیں ہونے دیتیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اتحاد واتفاق کی توفیق دے تاکہ ہماری کشتی بھی اپنی منزل تک پہنچ پائے۔