پاک فوج نے ایل او سی کے بارے میں بھارتی آرمی چیف کا دعویٰ مسترد کردیا

  • جمعہ 04 / فروری / 2022
  • 3900

پاک فوج نے لائن آف کنٹرول(ایل او سی) پر جنگ بندی کے حوالے سے بھارتی چیف آف آرمی اسٹاف کے دعوے کو گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ایک روز قبل بھارتی آرمی چیف منوج مکند نراوا نے نے کہا تھا کہ جنگ بندی اس لیے جاری ہے کیونکہ بھارت نے طاقتور پوزیشن سے بات چیت کی تھی۔ جس پر ردِ عمل دیتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'بھارتی چیف کا یہ دعویٰ کہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی اس لیے ہے کہ انہوں نے طاقتور پوزیشن سے بات چیت کی تھی، واضح طور پر گمراہ کن ہے'۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ جنگ بندی پر صرف ایل او سی کے اطراف بسنے والے کشمیریوں کے تحفظ کے حوالے سے پاکستان کے خدشات کے باعث اتفاق کیا گیا تھا۔ کسی کو اسے (جنگ بندی کو) اپنی طاقت اور دوسرے کی کمزوری سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔

740 کلومیٹر طویل ایل او سی پر گزشتہ سال فروری تک سرحد پار سے بلااشتعال گولہ باری اور فائرنگ کے واقعات کا سلسلہ جاری تھی۔ تاہم فروری2021 میں پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) نے ایل او سی اور دیگر تمام سیکٹرز پر تمام معاہدوں، سمجھوتوں اور جنگ بندی پر سختی سے عمل پیرا ہونے پر اتفاق کیا تھا۔

فریقین نے اس بات پر زور دیا تھا کہ کسی بھی طرح کی غیرمتوقع صورتحال اور غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے موجودہ ہاٹ لائن رابطے کے طریقہ کار اور بارڈر فلیگ میٹنگز کا استعمال کیا جائے گا۔ ایک دوسرے کے بنیادی معاملات اور تحفظات کو دور کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا تھا جو امن کی خرابی اور تشدد کا سبب بنتے ہیں۔

خیال رہے کہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا ایک طریقہ کار موجود تھا اور 2003 میں اس پر ایک اور معاہدہ ہوا جس کے بعد جنگ بندی بہت مؤثر رہی تاہم 2014 سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں تیزی آگئی تھی۔

اس حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز نے اس بات پر اتفاق کیا کہ 2003 کے معاہدے پر من و عن عمل کیا جائے اور اسے مستحکم بنانے کے لیے فریق متفق ہیں اور اس پر عمل پیرا ہونے کا اعادہ کیا ہے۔