کشمیر ایشو ترجیحات میں نیچے کیوں؟
- تحریر مظہر چوہدری
- جمعہ 04 / فروری / 2022
- 4920
دنیا بھر میں ریاستیں خاص طور پر ہمسایہ ریاستیں بنیادی اہمیت کے دو طرفہ اور علاقائی ایشوز کے حل کیلئے مختلف فورم پر سنجیدہ کوششوں میں مصروف عمل رہتی ہیں کہ بنیادی اہمیت کے کسی بھی مسئلے کو حل کیے بغیرہمسایہ ریاستیں اپنے اپنے ملکی و عوامی مسائل پر صیح معنوں میں توجہ مرکوز کرنے اور ان کے حل کیلئے ٹھوس عملی اقدامات اٹھانے میں مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔
پاکستان اور انڈیا کے مابین کشمیر کا مسئلہ بھی ایسا ہی ایک بنیادی مسئلہ رہا ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کی حکومتیں دونوں طرف کے کروڑوں عوام کو غربت کی انتہائی سطح سے نکال کر انہیں زندگی کی وہ بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کر پائیں جو مہذب دنیا کی عوام کو حاصل ہیں۔اس بنیادی اہمیت کے مسئلے کی وجہ سے ہی دونوں ممالک گذشتہ کئی دہائیوں سے ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں۔اسی مسئلے کی وجہ سے دونوں ممالک اب تک نہ صرف تین بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں بلکہ وہ ایک دوسرے کے خلاف پراکسی وارز میں بھی مصروف رہے ہیں۔اسی بنیادی مسئلے کی وجہ سے دونوں ممالک نہ صرف تباہ کن ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہوئے بلکہ عوام کی خون پسینے سے کمائی ہوئی دولت سے وصول کئے جانے والے ٹیکسز کا ایک بھاری حصہ خطرناک آتشیں اسلحے کے انبار لگانے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔اسی مسئلے کی وجہ سے دونوں ممالک کی اسٹبلشمنٹ ریاستی سطح پر انتہا پسند عناصر کے ہاتھ مضبوط کرنے پر مجبور ہیں جس کے ضمنی اثرات کامشاہدہ دونوں ملکوں میں مذہبی، نظریاتی اور سماجی انتہا پسندتحریکوں کی شکل میں کیا جا سکتا ہے۔اس مسئلے کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدگی کی اس انتہا تک جا پہنچے ہیں کہ اب وہ دو طرفہ تصفیہ طلب مسائل پر بات کرنے کو بھی تیار نہیں۔
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان اور بھارت کے مابین دیرپاخوشگوار تعلقات قائم نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ کشمیر کا تنازعہ ہے۔اس مسئلے کی شدت کا اندازہ ان حقائق سے لگایا جا سکتا ہے کہ آزادی ملنے کے دو ماہ بعد ہی دونوں ملکوں نے ریاست کشمیر پر قبضے کیلئے باقاعدہ جنگ چھیڑ لی۔ایک سال دو مہنے جاری رہنے والی اس جنگ کے نتیجے میں جموں و کشمیر کی نوابی ریاست کے لداخ، جموں اور مشرقی کشمیر کے حصوں پر بھارت نے قبضہ جما لیا جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے پاکستان کے کنٹرول میں آگئے۔ 1949 کے اوائل میں ختم ہونے والی پہلی جنگ کے بعد اگرچہ اگلے 15سالوں تک دونوں ملکوں میں کوئی باقاعدہ جنگ تو نہیں ہوئی لیکن اس جنگ نے دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے خوفزدہ اور متنفر کرتے ہوئے جنگی جنون میں مبتلا ضرور کر دیا۔
1965 کی جنگ کی بنیادی وجہ بھی کشمیر کا تنازعہ ہی تھا لیکن یہ جنگ وادی جموں و کشمیر سمیت دونوں ملکوں کے حصوں میں کوئی خاص جغرافیائی فرق ڈالے بغیر17دنوں میں ختم ہوگئی۔ اگر دیکھا جائے تو 1971 کی جنگ شروع ہونے میں ایک طرح کشمیر ایشو کا بلواسطہ کردار ہے کہ یہ کشمیر ایشو پر دونوں ملکوں کے مابین جاری سرد جنگ ہی تھی جس نے انڈیا کو مشرقی پاکستان میں مداخلت کیلئے اکسایا۔ کشمیری حریت پسندوں کی جانب سے 1989 میں شروع کی جانے والی علیحدگی کی تحریک کے بعدسے کشمیر میں وقفوں وقفوں سے حالات کشیدہ ہوتے رہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کی بنیادی وجہ پاکستان اور بھارت کا اپنے اپنے بے لچک موقف پرڈٹے رہنا ہے۔ پاکستان کشمیر کو تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈہ سمجھتا رہاہے تو بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ۔ماضی میں رائے شماری سمیت مسئلہ کشمیر کے کئی ایک ممکنہ حل تجویز کئے جاتے رہے ہیں لیکن ماہرین کے مطابق ان میں سب سے قابل عمل حل مشرف منموہن فارمولا ہی تھا لیکن بدقسمتی سے اس فارمولے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ 2004میں سامنے والے مشرف من موہن فارمولے کے مطابق اگر کشمیر کا مسئلہ حل کر لیا جاتا تو اس کے نتیجے میں قائم ہونے والے خوش گوار پاک بھارت تعلقات کے ثمرات سے دونوں ممالک کے ڈیڑھ ارب سے زائد عوام مستفید ہو رہے ہوتے۔
ویسے توپانچ اگست2019کے بھارتی اقدام کے بعد سے بتدریج کشمیر ایشو پر معنی خیز خاموشی سے ہی ہماری ترجیحات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے تاہم تین ہفتے قبل سامنے آنے والی قومی سلامتی پالیسی کے بنیادی خدوخال کو دیکھتے ہوئے تو قریباً یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اب کشمیر ایشو ہماری ترجیحات میں بہت نیچے جا چکا ہے۔اگلے پانچ سالوں کے لیے بنائی جانے والے قومی سلامتی کی دستاویز میں کشمیر ایشو کا بس سرسری سا تذکرہ کیا گیا ہے۔سب سے اہم بات یہ کہ اس پالیسی میں پانچ اگست کے اس بھارتی اقدام کو واپس کرنے کے لیے کسی لائحہ عمل کا ذکر نہیں جس سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہو کر رہ گئی تھی۔نئی سلامتی پالیسی کا بغور مطالعہ کیا جائے تو توبادی النظر میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد کشمیر ایشو پر خاموش رہتے ہوئے بھارت کے ساتھ معاشی تعلقات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اسے وسطی ایشیا کے ممالک کے لیے راہداری مہیا کرنا ہے۔
نئی پالیسی سے یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ ہم اب آنے والے چند سالوں کے لیے کشمیر ایشو کوسائیڈ لائن کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ خو ش گوار بنیادوں پر معاشی تعلقات کے لیے کوشاں رہیں گے۔اگرچہ اس پالیسی میں اس حقیقت کوتسلیم کرنا نہایت ہی خوش آئند بات ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مفاد اس کی معاشی ترقی میں ہے لیکن یہ سوال بہرحال بنتا ہے کہ ماضی میں ایسا کرنے کی خواہاں حکومتوں کو ہدف تنقید کیوں بنایا جاتا رہاہے۔ نئی قومی سلامتی پالیسی میں یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ معاشی ترقی کی دوڑ میں جو بھی رکاوٹیں آئیں گی ان کو یا تو ہٹا دیا جائے گا یا ان سے راستہ بدل کر معاشی ترقی کے اہداف حاصل کئے جائیں گے۔اس پیغام کو گہرائی میں جا کر سمجھا جائے تو یہ نتیجہ اخذ کرنا چنداں دشوار نہیں کہ آنے والے چند سالوں میں ہم بھارت سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوش گوار معاشی تعلقات کے حصول کو ممکن بنانے کے لیے کشمیر سمیت دیگر مسائل کی رکاوٹیں دور کرنے یا ان سے ہٹ کر راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں۔بظاہر ایساہی لگتا ہے کہ ملک کے معاشی مفاد کے لیے کشمیر ایشو پر خاموش رہنا ہمارے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔
معاشی مفادات کے حصول کے لیے کشمیر ایشو پر ہماری خاموشی کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اب ہم کشمیریوں کی نہ تو پہلی جیسی سیاسی و سفارتی حمایت کر سکیں گے اور نہ ہی انہیں ہماری تکنیکی و مالی مدد میسر آ سکے گی۔کچھ تجزیہ نگار تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے ارباب اقتدار نے پانچ اگست کے اقدام کو قبول کر لیا ہے اور کسی مناسب وقت پر گلگت بلتستان کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کو بھی باقاعدہ اپنے اندر ضم کرنے کا اعلان کر دیا جائے گا۔