دہشت گردی کی نئی لہر اور اس کا پس منظر؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 04 / فروری / 2022
- 6520
دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اچھی خبر یہ ہے کہ 3فروری 2022کے روز داعش کے موجودہ سربراہ اور خلیفہ ثانی پروفیسر ابو ابراہیم الہاشمی القریشی ’رتبہ شہادت‘ پر فائز ہو گئے ہیں۔
امریکی صدر جوبائیڈن نے اس مرتبہ خلاف روایت وائٹ ہائوس میں خود اس حملے کی تفصیلات دنیا کے سامنے بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہماری سپیشل فورسز کا ہیلی کاپٹر داعش کے سربراہ کو پکڑنے کیلئے جب شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں اس کی رہائش گاہ پر اترا تو اس نے انتہائی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے خاندان سمیت خود کو بم سے اڑا لیا ‘‘۔ امریکی صدر بائیڈن نے مزید کہا کہ ’’رات گئے ہونے والی اس امریکی کارروائی سے دہشت گردی کا ایک بڑا خطرہ ٹل گیا ہے اس کے ذریعے دنیا بھر میں موجود دہشت گردوں کو ایک مضبوط پیغام بھی دیا گیا ہے کہ ہم آپ لوگوں کو بھی تلاش کرکے ختم کر دیں گے۔ ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم امریکی عوام کو محفوظ رکھنے اور دنیا بھر میں اپنے اتحادیوں کی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہیں‘‘۔
واضح رہے کہ 2019میں خلیفہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کے بعد عراق اور شام کے مخصوص علاقوں سے داعش کا کنٹرول بڑی حد تک ختم کر دیا گیا تھا تاہم کچھ مدت سے شام اور عراق کے سرحدی علاقے بالخصوص موصل کے ایریا میں وہ دوبارہ سر اٹھا رہے تھے گزشتہ ماہ انہوں نے شام کی ایک جیل پر قبضہ کرنے کی کوشش بھی کی تھی جہاں داعش کے تین ہزار کے قریب جنگجو قید ہیں۔ پینٹاگان کی رپورٹ کے مطابق امریکی سپیشل فورسز نے داعش سربراہ کی رہائش گاہ پر اتر کر ابھی فائرنگ شروع کی ہی تھی اور یہ تنبیہ کی جا رہی تھی کہ ہتھیار دو اور سرنڈر ہو جاؤ۔ اسی دوران بڑے دہشت گرد نے بڑے دھماکے کے ساتھ خود کو اپنے کنبے سمیت بم سے اڑا لیا جس میں خواتین اور بچوں سمیت قریباً تیرہ افراد مارے گئے۔ یہ ویسی ہی بزدلانہ کارروائی تھی جس کا ارتکاب خلیفہ ابوبکر البغدادی نے کیا تھا۔ انہوں نے خود کو امریکیوں کے سامنے سرنڈر کرنے کی بجائے اڑا دینا بہتر خیال کیا۔
45 سالہ سنی العقیدہ ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ اس کی پیدائش 5اکتوبر 1976 کو شامی سرحد سے ملحق عراقی مقام تلغفار میں ہوئی اور اس نے تعلیم جامعہ الموصل سے حاصل کی۔ اس کا اصلی نام امیر محمد عبدالرحمن المولیٰ السلبی ہے۔ اسے پروفیسر اور حاجی عبداللہ بھی کہا جاتا تھا۔ شروع میں اس نے القاعدہ کے ساتھ مل کر دس سال خدمات سرانجام دیں۔ اسے ابوبکر البغدادی کے نائب کی حیثیت حاصل تھی ۔ البغدادی نے جب رقہ کی مسجد میں اپنی خلافت کا اعلان کیا تو الہاشمی 2014 سے 2019تک اس کے ڈپٹی کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ دولت اسلامیہ کےخلیفہ ابوبکر البغدادی کی ایک ایسے ہی حملے میں ہلاکت کے بعد اسی ہفتے 31اکتوبر 2019 کو داعش کی شوریٰ نے الہاشمی کو دولت اسلامیہ یا اسلامک سٹیٹ کا خلیفہ دوم چن لیا۔ تب سے لے کر یہ عالمی خلافت اسلامیہ کے قیام کی جدوجہد کر رہا تھا۔ اس سلسلے میں امریکیوں اور یہودیوں کے ساتھ ساتھ شیعہ ان لوگوں کے بنیادی اہداف یا ٹارگٹ تھے ۔ داعش کیلئے جڑیں اگرچہ ابو مصعب الذرقاوی نے استوار کی تھیں جو اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی کی حیثیت سے اس کی عراقی برانچ کا امیر تھا اور اس نے 1999 میں ایک بنیاد پرست سلفی گروہ جماعۃ التوحید و الجہاد کی تشکیل کی تھی جسے مابعد البغدادی نے مسلح جہادی تنظیم داعش میں بدل ڈالا۔
داعش کے متعلق ہمارے اردو پڑھنے والوں کو بالعموم زیادہ آگہی نہیں ہے کیونکہ نام سے بظاہر ایسی کوئی اسلامی یا جہادی جھلک نہیں دکھتی۔ دراصل یہ مخفف ہے اس تنظیم کا جسے عربی میں لکھا جاتا ہے دولتہ الاسلامیہ فی العراق و الشام جس کا انگریزی ترجمہ کیا جاتا ہے:
ISLAMIC STATE IN IRAQ AND SYRIA (ISIS)
قدیمی عربی میں شام کو ’’السوریہ‘‘ لکھا جاتا ہے درویش نے اپنی یہ الجھن نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود صاحب کے سامنے رکھی کہ السوریہ میں تو نقطے نہیں ہیں جبکہ داعش میں س کی بجائے ش ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ صدام کے عرب نیشنلزم میں ’’العراق و الشام‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی رہی ہے۔ داعش کے متعلق ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے کے راسخ العقیدہ سکالرز اور علماء بھی اس کے ساتھ وابستہ تھے اور ان کی شوریٰ میں شریعت کے حوالے سے بھرپور بحثیں ہوتی تھیں اور فتاویٰ جاری ہوتے تھے۔ جو بھی ہے یہ بنیاد پرست سلفی العقیدہ لوگ تھے اور ہیں جن کا مدعا پوری دنیا میں نہ صرف یہ کہ سخت گیر سنی اسلام کا احیا ہے بلکہ وہ عالمی اسلامی خلافت کے بھی داعی ہیں ۔ اس حوالے سے وہ اپنی دولۃ یا خلافت میں شرعی قوانین کی خلاف ورزی پر سخت ترین سزائیں بھی دیتے رہے ہیں ۔ ان کی ایک برانچ خراسان کے حوالے سے بھی ہے جس کا سیاہ جھنڈوں کے حوالے سے کتب احادیث میں خاصا ذکر ملتا ہے ۔
درویش کی اس پس منظر میں ڈاکٹر اسرار احمد سے خاصی بحثیں ہوتی رہی ہیں کیونکہ ناچیز کا استدلال تھا کہ یہ تمام مواد ابو مسلم خراسانی کے حوالے سے ہے۔ امویوں کے خلاف عباسیوں کی بغاوت میں یہ مناظر گزر چکے ہیں۔ آنے والے حالات پر اس نوع کے مقدسات کو چسپاں کرنے سے احتراز کرنا چاہئے۔ کچھ اس نوعیت کا مسئلہ غزوہ ہند کے حوالے سے بھی گھڑا گیا ہے۔ خالص اہل علم کو اس نوع کی خرافات کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے تاکہ مذہب کے مقدس نام کو اپنے زہریلے جہادی یا دہشت گردی کے پروگرام کے ساتھ نتھی نہ کیا جا سکے۔ اس پس منظر میں درویش طالبانی ذہنیت کو پروموٹ کرنے والوں کو بھی توجہ یا احساس دلانا ضروری سمجھتا ہے۔ بالخصوص ہماری موجودہ حکومت کے ذمہ داران کو، وہ یہاں جس طرح عوامی اذہان کو گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کے چکروں میں الجھاتے ہیں، اس سے باز آ جائیں۔ اس کا نقصان بالآخر پاکستان کو پہنچے گا، اس خطے کو پہنچے گا اور پوری انسانیت کو پہنچے گا۔ طالبان ہوں یا القاعدہ یا داعش یا حماس یا اسلامی جہاد یا حزب اللہ یا الشباب، یہ جتنے بھی راسخ العقیدہ بنیاد پرست گروہ ہیں یہ سب ایک مذہب اور اس کے پیروکاران کی ذلت کا ہی باعث نہیں ہیں بلکہ انسانیت دشمنی پر مبنی سوچ کے حاملین ہیں۔
آپ لوگوں کو خدا اور رسول کا واسطہ ہے انڈیا دشمنی میں اندھے ہونا چھوڑ دیں۔ میرے پاکستانیو! آپ کو اس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا سوائے تباہی و بربادی کے، یہود وہنود ہمارے دشمن نہیں ہیں۔ الحمدللہ ہم اپنے دشمن آپ ہیں اب افغانستان سے انڈیا کی ہمدرد اشرف غنی کی نااہل حکومت ختم ہو چکی ہے۔ ہمارے اپنے اسلامی بھائی طالبان افغانستان کی حکمرانی سنبھال چکے ہیں تو دہشت و وحشت نے پھر ہمارے کے پی اور بلوچستان میں سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ یہ چیز آگے چل کر مزید بڑھے گی ۔ آپ لوگ جہلاء کی طرح انڈیا کو کوسیں گے اور ساتھ ہی یہ خبریں چلائیں گے کہ کشمیر میں جناح صاحب اور جناح ثانی کے پوسٹر لگ گئے ہیں۔ لگواتے رہو پوسٹر کرلو جھوٹا پروپیگنڈہ لیکن درویش کی گناہ گار آنکھیں جو منظر نامہ دیکھ رہی ہیں کاش وہ تحریر کرنے کی اجازت اور برداشت کرنے کی ہمت ہمارے لوگوں میں ہو۔