مقامی جمہوری نظام پر سپریم کورٹ کا فیصلہ
- تحریر سلمان عابد
- ہفتہ 05 / فروری / 2022
- 3440
پاکستان میں مقامی سیاست، جمہوریت، طرز حکمرانی اورعوامی مفادات پر مبنی سیاست کا ایک بنیادی نقطہ ”مضبوط اور خود مختار مقامی حکومت“ کے نظام سے جڑا ہوا ہے۔
بدقسمتی سے ہم کئی دہائیوں سے جاری جمہوری سفر یا اس کے ارتقائی عمل میں جمہوریت کی بنیادی کنجی یعنی ہم مقامی حکومت کے نظام کو اپنی سیاسی ترجیحات میں کوئی بڑی اہمیت نہیں دے سکے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک میں جمہوریت سمیت مقامی سطح پر جمہوریت کا مجموعی عمل کمزور بھی ہے اور عام آدمی کے مفادات کے برعکس بھی نظر آتا ہے۔جمہوریت اور سیاست سے جڑے وہ افراد جن کی ترجیحات میں مقامی جمہوریت کا نظام ہے ان کو سیاسی جماعتوں اور سیاسی قیادتوں کے مقابلے میں عدالت کی جانب دیکھنا پڑتا ہے۔ ان کو لگتا ہے کہ اگر یہ نظام اپنی سیاسی جگہ یا ساکھ قائم کرسکا تو اس میں عدالتوں کے فیصلے زیادہ اہمیت کہ حامل ہوں گے۔
سندھ مقامی حکومت کے نظام کے تناظر میں حالیہ سپریم کورٹ کا عدالتی فیصلہ یقینی طور پر ایک بڑا فیصلہ ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد یہ فیصلہ ایم کیو ایم کی درخواست پر سنایا۔ ایم کیو ایم او رپی ٹی آئی کی جانب سے درخواستیں 2017میں دائر کی گئیں تھیں۔اس مقدمہ کا فیصلہ 26اکتوبر 2020کو محفوظ کیا گیا تھا جسے یکم فروری 2022میں سنایا گیا۔ یعنی پانچ برس بعدیہ فیصلہ سنایا گیا ہے۔اس فیصلہ میں چار بنیادی اصول وضع کیے گئے ہیں۔اول سندھ حکومت صوبہ میں بااختیار مقامی حکومتوں کے نظا م یا اداروں کو قائم کرنے کی پابند ہے جس کے تحت ان اداروں کو سیاسی، انتظامی او رمالی اختیارات کی منتقلی شامل ہے او راس نظام کو اسی شق کی مدد سے تشکیل دیا جائے۔ دوئم سندھ مقامی نظام حکومت 2013کی شق74۔ 75کو کالعدم قرار دیا گیا ہے جس میں صوبہ کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اس نظام کو کسی بھی وقت ختم یا تحلیل کرسکتی ہے۔ سوئم سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کے ڈی اے قوانین کو آئین کے مطابق ڈھالنے، واٹر بورڈ قانون، ملیرڈولیپمنٹ اتھارٹی اور حیدرآباد ڈولیپمنٹ اتھارٹی،سہیون اور لاڑکانہ ڈولیپمنٹ اتھارٹی کے قوانین کو تبدیل کرنے یا ترمیم کرنے
کا حکم دیا گیا ہے۔چہارم فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ مقامی حکومت کے تحت آنے والا کوئی نیا منصوبہ صوبائی حکومت شروع نہیں کرسکتی اس کے لیے اسے مقامی حکومتوں سے مشاورت کرنا ضروری ہے۔پنجم شہروں کے ماسٹرز پلان بنانا اور اس پر عملدرآمد مقامی حکومتوں کے اختیارات ہیں جسے صوبائی حکومت سلب نہیں کرسکتی۔ششم جہاں صوبائی و مقامی حکومتوں کے اختیارات میں تضاد ہے ان شقوں میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کی جائیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سندھ حکومت اس فیصلہ کو بنیاد بنا کر واقعی سندھ میں ایک مضبوط اور خود مختار مقامی حکومت کے نظام کو تشکیل نو میں مثبت کردار اداکرے گی یا عدالتی فیصلہ کے برعکس روائتی، کمزور او رلاغر قسم کا مقامی نظام کو چلانے پر ہی اکتفا کرے گی۔ لیکن اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک کی میں موجود چاروں صوبائی حکومتوں کو پابند کرنے، ان پر دبا ؤبڑھانے یا ان کو ایک واضح اور شفاف پالیسی گائیڈ لاین دینے میں معاون ثابت ہوسکے گا؟ کیونکہ مقامی حکومتوں کی خود مختاری اور ان میں تسلسل سمیت مکمل اس نظام کو سیاسی، انتظامی اورمالی اختیارات کا مسئلہ محض سندھ تک محدود نہیں۔ یہ قومی مسئلہ ہے اور چاروں صوبوں میں طرز حکمرانی یا گورننس کے بڑے بحرانوں کی ایک بڑی بنیادی وجہ مضبوط او رمربوط مقامی حکومتوں کے نظام سے انحراف کی پالیسی ہے۔اس وقت جو چاروں صوبوں کی سطح پر جو مقامی حکومتوں کے نظام سے جڑے قوانین ہیں ان کا مسئلہ ہی عدم شفافیت اور آئین کی شق140 اے او ر 32سے مکمل طور پر سنگین انحراف کی پالیسی ہے۔
یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک میں مقامی جمہوریت کی جنگ سیاسی اور قانونی محاذ سمیت اہل دانش کی سطح پر موجود ہے او ریہ جنگ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں سیاسی او رقانونی محاذ پر جاری ہے۔بدقسمتی سے جو فیصلے سیاست او رجمہوریت کے تناظر میں سیاسی حکومتوں اور سیاسی پارلیمانی فورمز میں ہونے چاہیے تھے وہ عدالتوں کے محاذ پر اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ نے ایک بنیادی نقطہ کی نشاندہی بھی کی ہے کہ صوبہ کے نظام میں جو بھی مسائل مقامی حکومتوں کے نظام سے تضاد رکھتے ہیں یا ٹکراؤ پیدا کرتے ہیں یا مقامی حکومتوں کے مقابلے میں صوبائی حکومت کو زیادہ بااختیار یا مقامی حکومت کے مقابلے میں متبادل سطح کے نظام کو سامنے لاتے ہیں ان میں بنیادی نوعیت کی ترامیم کرنا ہوگی۔ تاکہ صوبائی او رمقامی نظام میں اہم آہنگی او ربہتر ورکنگ تعلقات کو مضبوط بنایاجاسکے۔ اس وقت واقعی صوبائی اورمقامی نظام میں ایک ٹکراؤ ہے اور صوبائی حکومتیں اس مقامی نظام کو اپنے لیے ایک بڑا سیاسی خطرہ محسوس کرتی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ صوبائی ارکان اسمبلی اور مقامی منتخب نمائندوں کے درمیان اختیارات اور ترقیاتی فنڈ ز پر قبضہ کی جنگ بھی ہے۔جب تک ارکان اسمبلی کو قانون سازی یا نگرانی کے نظام تک محدودکرکے ترقیاتی کام مقامی حکومتوں کے نظام کو منتقل نہیں کیے جائیں گے، حالات کی درستی ممکن نہیں۔
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کے بقول یہ ممکن نہیں کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کردیے جائیں۔ سوال یہ نہیں بلکہ اصل مسئلہ صوبائی حکومتوں کو مقامی حکومتوں کے نظام پر اتفاق ہی نہیں اور وہ اس نظام کے حامی نہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ تواتر کے ساتھ صوبائی حکومتیں اول نہ تو مضبوط نظام تشکیل دیتی ہیں او رنہ ہی ان کے انتخابات کو یقینی بناتی ہے۔ ان کی اصل ترجیح اس نظام کو کمزور کرنا او ران کی تشکیل میں تاخیری حربے اختیار کرنا ہے۔حالانکہ 18ویں ترمیم کے مطابق صوبائی حکومتیں ایک مضبوط مقامی نظام حکومت اور اختیارات کی سیاسی، انتظامی او رمالی تقسیم کو صوبوں سے اضلاع تک منتقل کرنے کی پابند ہیں۔اب بھی اگر ملک میں مقامی سطح پر مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنا کر ملک کی حکمرانی او رمحروم طبقات کی سیاست کو شفاف او رمضبوط بنانا ہے تو ہمیں اس نظام میں تسلسل کے لیے وفاق کے کردار کو سامنے لانا ہوگا۔ کیونکہ محض صوبائی حکومتوں کے رحم وکرم پر اس بنیادی جمہوری اداروں کو چھوڑ کر یہ ریاست سمیت حکومت حکمرانی کے حقیقی بحران سے نہیں نمٹ سکیں گے۔کچھ بنیادی اصول اور فریم ورک وفاقی سطح پر طے کرکے صوبائی نظام کی تشکیل کو یقینی بنائیں جو چاروں صوبوں میں اہم اہنگی بھی پیدا کرسکے۔ صوبائی سطح پر ہر ایک کا اپنا اپنا نظام یا سیاسی بولی جمہوری بنیادی اداروں کی کمزوری کا سبب بن رہی ہیں۔
سپریم کورٹ کی جانب سے سندھ اور پنجاب میں حالیہ فیصلوں سے یقینی طور پر ملک میں مقامی جمہوریت سے وابستہ لوگوں یا اداروں میں ا ایک امید پیدا ہوئی ہے۔ کیونکہ اس فیصلہ سے مقامی حکومتوں کے نظام کی مضبوطی کی جنگ میں جاری بحث میں عدالتی فیصلے قومی سطح پر ایک بڑی معاونت کا کردار ادا کرسکے گا۔ عوامی رائے عامہ بنانے والے افراد یا ادارے سمیت ملک کے اہل دانش علمی و فکری محاذ پر اس بحث کو مثبت انداز میں آگے بڑھائیں کہ عدالتی فیصلہ کی روشنی میں صرف سندھ ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں مقامی نظام حکومت کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرسکیں۔