آئی ایم ایف کا اسٹیٹ بینک سے تعمیراتی سرگرمیوں سے متعلق اقدامات واپس لینے کا مطالبہ
- اتوار 06 / فروری / 2022
- 4190
عالمی مالیاتی فنڈ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے ہاؤسنگ اور تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اٹھائے جانے والے 2 اہم اقدامات سے دست بردارہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
جولائی 2020 میں اسٹیٹ بینک نے بینکوں کے لیے لازمی قرار دیا تھا کہ وہ دسمبر 2021 تک ہاؤسنگ اور تعمیراتی شعبوں کے لیے دیے جانے والے قرضوں میں اپنا حصہ 5 فیصد تک بڑھائیں۔ اسٹیٹ بینک نے جون 2021 میں کیپٹل ایڈیوکیسی ریوگولیشنز کو بھی تبدیل کیا تاکہ ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (آر ای آئی ٹیز) میں بینکوں کی سرمایہ کاری کو درپیش رسک 200 فیصد سے کم کر کے 100 فیصد تک لایا جاسکے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے دوبارہ شروع کیے گئے قرض پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالر کی قسط کے ساتھ جاری کی گئی۔ اسٹاف رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک کو تاکید کی ہے کہ وہ مالی استحکام کے خدشات کے باعث ان اقدامات کو ختم کرے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بینکوں کے ہاؤسنگ قرضے کے اہداف مالی استحکام کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں اور کریڈٹ کی غلط تقسیم کا سبب بن سکتے ہیں۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے ریسرچ ڈائریکٹر سید عاطف ظفر کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا خیال ہے کہ اس طرح کی مداخلت فری مارکیٹ اکانومی کے اصولوں کے منافی ہیں۔
آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ مالی لحاظ سے کمزور آبادی کے لیے سماجی پالیسی کے مقاصد مثلاً سستی رہائش کا حصول ’ٹارگٹڈ بجٹ سبسڈی پروگرام‘ سے زیادہ موثر طریقے سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام پر زور دیا کہ وہ نجی شعبے کے قرضے میں مدد کے لیے اسٹرکچر میں موجود دیرینہ خامیاں دور کریں۔
پاکستان نے اسٹریٹجی پیپر تیار کرنے کے لیے فروری کے آخر تک ایک ورکنگ گروپ کے قیام پر رضامندی ظاہر کی ہے جو ہاؤسنگ اور تعمیراتی شعبوں کی ترقی میں اسٹرکچرل مسائل کا حل پیش کرے گا۔
آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ نجی شعبے کے 2 بینکوں کی کم سرمایہ کاری کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے زیادہ فعال انداز اپنائے۔ آئی ایم ایف نے ان بینکوں کا نام نہیں لیا لیکن خیال ہے کہ آئی ایم ایف کا اشارہ ’سمٹ بینک لمیٹڈ‘ اور ’سلک بینک لمیٹڈ‘ کی طرف ہے جن کے پاس اسٹیٹ بینک کے معیار کے مطابق سرمائے کی کمی ہے۔
یہ دونوں بینک یا تو اپنے موجودہ سپانسرز سے ایکویٹی انجیکشن حاصل کرکے یا پھر دوسرے مالدار سرمایہ کاروں کی مدد سے اس مطلوبہ معیار کو حاصل کر سکتے ہیں۔
آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ری فنانس اسکیموں کو اسٹیٹ بینک سے حکومت کو منتقل کرنے کے لیے ایک ترقیاتی مالیاتی ادارہ قائم کرے۔ آئی ایم ایف نے یہ بھی تجویز کی کہ حکومت اگلے بجٹ میں کھاد اور ٹریکٹروں پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرے۔