عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا جواز ختم ہوچکا
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 06 / فروری / 2022
- 10950
اپوزیشن لیڈروں کا یہ دعویٰ کہ’ملک کو بچانا ہے تو عمران کو ہٹانا ہوگا‘ ایک سستے سیاسی ہتھکنڈے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ تحریک انصاف کی پالیسیوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ عمران خان کی ناکامیوں اور ان کے سیاسی طریقہ کار کو ان سطور میں مسترد کیا جاتا رہا ہے لیکن ایک شخص کو ملک کی سیاسی ، معاشی اور سماجی ابتری کا ذمہ دار قرار دے کر مسائل کو حل نہیں کیا جاسکتا۔ ملک کو بچانا ہے تو عمران خان کو ملک کادشمن کہنے کی بجائے سب سیاسی قوتوں کو مل کر اصلاحات کے وسیع تر ایجنڈے پر اتفاق کرنا ہوگا۔ ایسے کسی عمل میں تحریک انصاف کو شامل کرنا ناگزیر ہوگا۔
گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی دعوت پر پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اور معاون چئیرمین آصف زرداری نے ان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور دونوں پارٹیوں کے دیگر قائدین بھی موجود تھے۔ خبروں کے مطابق اس سیاسی ملاقات کے لئے ظہرانے کا اہتمام شہباز شریف نے پارٹی کے قائد نواز شریف کی ہدایت پر کیا تھا تاکہ دونوں پارٹیاں مشترکہ سیاسی لائحہ پربات چیت کرسکیں۔ ملاقات کے دوران دونوں پارٹیوں نے اپنا اپنا سیاسی مؤقف ایک دوسرے کے سامنے پیش کیا اور موجودہ حکومت کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ پیپلز پارٹی نے پنجاب اور مرکز میں حکومتوں کے خلاف عدم اعتماد لانے پر زور دیا ۔ بلاول بھٹو زرداری کے بقول ’حکومت عوام کی حمایت کھو چکی ہے، اس لئے اب اسے پارلیمنٹ کے اعتماد سے بھی محروم ہونا چاہئے‘۔ مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں نے اس مؤقف کو سننے کے بعد اس نکتہ پر اتفاق کیا کہ موجودہ حکومت سے نجات کے لئے ’تمام آئینی، سیاسی اور پارلیمانی طریقے اختیار کئے جائیں‘۔
ملک کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے درمیان پی ڈی ایم کے نام سے بننے والے اتحاد میں پیدا ہونے والے اختلافات کے ایک سال بعد اعلیٰ قیادت نے براہ راست ملاقات کی ہے اور مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ یہ اختلاف اسمبلیوں سے استعفوں کے علاوہ سینیٹ انتخاب کے بعد قائد حزب اختلاف کے انتخاب کے سوال پر پیدا ہؤا تھا۔ یوسف رضا گیلانی جب چئیرمین سینیٹ منتخب نہیں ہوسکے تو پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ معاہدہ ختم کرتے ہوئے انہیں قائد حزب اختلاف منتخب کروالیا۔ تاہم اب دونوں پارٹیوں کے لیڈر کہہ رہے ہیں کہ سیاست میں اختلاف بھی ہوجاتا ہے اور اتفاق بھی پیدا کیا جاسکتا ہے۔ اسی لئے ملک کی سنگین سیاسی صورت حال میں وہ ایک بار پھر سے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں تاکہ موجودہ حکومت سے نجات حاصل کر نےکا مؤثر اور تیر بہدف طریقہ تلاش کیا جاسکے۔ اسی لئے ملک کی نجات کو عمران خان کی اقتدار سے علیحدگی کے ساتھ نتھی کیا گیا ہے۔
ملاقات میں دونوں پارٹیوں نے اپنا اپنا مؤقف صراحت سے ایک دوسرے کے سامنے پیش کیا حالانکہ ان دونوں پارٹیوں کو اپنی سیاسی حکمت عملی کا مقدمہ عوام کے سامنے پیش کرنا چاہئے اور یہ وضاحت کرنی چاہئے کہ کیا وجہ ہے کہ موجودہ حکومت کو مدت پوری کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔ اپوزیشن اگر ملکی اصلاح کے حوالے سے پریشان ہے تو وہ اس سلسلہ میں تجاویز پارلیمنٹ میں پیش کرسکتی ہے۔ اور حکومت کی طرف سےزور ذبردستی کے ہتھکنڈوں کو عوام کے سامنے لا سکتی ہے تاکہ آئیندہ انتخاب میں عوام خود یہ طے کرسکیں کہ کون سی پارٹی جمہوری روایت کے زیادہ قریب ہے اور عوام کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ اس وقت پاکستانی سیاست کا سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ ملک کو گوناں گوں مسائل کا سامنا ہے لیکن حکومت اور اپوزیشن اس مسائل کے لئے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا کر خود ذمہ داری سے عہدہ برا ہونا چاہتے ہیں۔
کسی کے پاس ملک کو درپیش معاشی، سفارتی، سیکورٹی اور سیاسی مسائل کا کوئی متبادل حل تو موجود نہیں ہے لیکن نعرے بازی اور ایک دوسرے کی ذات میں کیڑے نکال کر کام چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اپوزیشن عمران خان کو نااہل کہہ کر یہ باور کروانا چاہتی ہے کہ ان کے خلاف عدم اعتماد ہی مسئلہ کا واحد حل ہے اور حکومت اپوزیشن لیڈروں کو لٹیرے قرار دے کر یہ ثابت کرناچاہتی ہے کہ ملکی مسائل کی اصل وجہ سابقہ لیڈروں کی کرپشن ہے ، ان سب کو جیلوں میں ہونا چاہئے۔ لاہور میں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات کے بعد بھی یہی راگ الاپنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حتی کہ چین کے دورے پر گئے ہوئے وزیر اطلاعات نے اس ملاقات کو ’غیر اہم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’چور ایک دوسرے کو بچانے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملارہے ہیں‘ ۔ اسی قسم کا بیان اسد عمر نے بھی جاری کیا ہے حالانکہ اگر حکومت اپوزیشن کے ’گٹھ جوڑ‘ سے اسی قدر لاپرواہ ہے تو وزیروں کو ان معمولی ملاقاتوں پر تبصرے کرکے اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
اپوزیشن کسی بھی قیمت پر حکومت پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتی ہے ۔ لاہور میں ہونے والی ملاقات اسی مقصد کے لئے کی گئی تھی۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں ملک کے سیاسی مستقبل کے لئے لائحہ عمل پر اتفاق نہیں ہے۔ دونوں پارٹیاں کسی نہ کسی طریقے سے اسٹبلشمنٹ کی اعانت سے اقتدار تک پہنچنا چاہتی ہیں لیکن وہ مل کر کوئی ایسا سیاسی پلیٹ فارم فراہم کرنے میں ناکام ہیں جس کی بنیاد پر اسٹبلشمنٹ کسی بڑے سیاسی فساد کے بغیر موجودہ حکومت سے فاصلہ قائم کرلے اور ملک میں پارلیمان کے ذریعے سیاسی تبدیلی کی راہ ہموار ہوجائے۔ اپوزیشن کی اس ناکامی کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ دونوں بڑی پارٹیاں نہ تو ملکی مسائل حل کرنے کا کوئی فارمولا پیش کرسکی ہیں اور نہ ہی کوئی ایسا سیاسی جواز فراہم کیا جاسکا ہے جو عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد عبوری مدت کے لئے قابل عمل سمجھا جاسکے۔ دوٹوک الفاظ میں کہا جاسکتا ہے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بدستور خود کو مستقبل کی متبادل حکومت کے طور پر پیش کررہی ہیں۔ ابھی تک کوئی ایک پارٹی بھی دوسرے کے حق کو فائق سمجھنے پر راضی نہیں ہے اور نہ ہی انتخابات کے نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کرنے کا رویہ موجود ہے۔ شہباز شریف اور آصف زرداری اپنے اپنے طور پر اسٹبلشمنٹ کو رجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی لئے ملک میں سیاسی تعطل ہے اور اپوزیشن بھاری بھر کم نمائیندگی کے باوجود پارلیمنٹ میں کوئی کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔
یوں تو پیپلز پارٹی پنجاب میں عثمان بزدار اور مرکز میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے پر زور دیتی ہے لیکن اپوزیشن ابھی تک یہ ثابت نہیں کرپائی کہ وہ پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی کوئی تحریک منظور کروانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ حالانکہ سینیٹ میں واضح اکثریت کی صورت میں ایوان بالا میں حکومت کے لئے رکاوٹ کھڑی کرنے کا موقع بہر حال اپوزیشن کے پاس موجود رہا ہے لیکن جب بھی ایسا کوئی مرحلہ آیا تواپوزیشن کی صفوں میں دراڑیں نمایاں ہوگئیں اور خفیہ ووٹنگ یا غیر حاضری کے ذریعے حکومت کو مرضی کا قانون منظور کروانے کا موقع فراہم کیا گیا۔ ان پارٹیوں کو جو اس وقت عمران خان کے اقتدار کو ملک کے لئے مہلک قرار دے رہی ہیں، اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ حال ہی میں سٹیٹ بنک بل کے خلاف بلند بانگ دعوے کرنے کے باوجود جب اسے سینیٹ میں نامنظور کرانے کا موقع آیا تو کیا وجہ ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کے 8 اراکین غیر حاضر رہے۔ حتی کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی بھی اس موقع پر موجود نہیں تھے۔
بعد میں انہوں نے چئیر مین سینیٹ پر پارلیمانی طریقہ کار کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کے طور پر استعفیٰ دینے کا اعلان ضرور کیا لیکن اس اعلان کو سچ ثابت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اس عذر پر معاملہ ٹل گیا کہ پارٹی قیادت نے استعفیٰ منظور نہیں کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس کوتاہی کی ذمہ داری حکومت پر ڈال کر جان چھڑا لی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سٹیٹ بنک بل کے خلاف سیاسی اور عوامی فضا سازگار تھی۔ اپوزیشن کے پاس سینیٹ میں اس بل کو روکنا سہل تھا۔ اس وقت جس عدم اعتماد کی بات کی جارہی ہے ، اس بل کو نامنظور کرکے یاحکومت سے اس میں اپوزیشن کی تجویز کردہ ترامیم شامل کرواکے عملی طور سے حکومت کو دیوار سے لگایا جاسکتا تھا۔ کسی فعال جمہوری نظام میں کوئی بھی وزیر اعظم ایسی ناکامی کے بعد استعفیٰ دے دیتا۔ عمران خان سے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی لیکن اپوزیشن یہ ثابت کرسکتی تھی کہ وہ حکومت کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں ہے ۔ لیکن جب قومی سیاست کا سارا کھیل اسٹبلشمنٹ کے اشاروں پر کھیلا جائے تو کوئی اصول پیش نظر نہیں رہتا۔
دو اہم اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کے درمیان ہفتہ کے روز ہونے والی ملاقات اگرچہ موجودہ سیاسی بے عملی کی صورت حال میں ایک مثبت اقدام ہے لیکن ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ خیر سگالی کے اظہار کے بعد عملی سیاسی اقدامات میں دونوں پارٹیاں کس حد تک قدم سے قدم ملا کر چلتی ہیں۔ فوری چیلنج تو حکومت مخالف مظاہروں کے سلسلہ میں درپیش ہے۔ پیپلز پارٹی اس ماہ کے آخر میں لانگ مارچ کرنا چاہتی ہے جبکہ پی ڈی ایم نے 23 مارچ کو احتجاج کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔ گزشتہ روز دونوں پارٹی لیڈروں نے ایک دوسرے کے احتجاج کی حمایت ضرور کی ہے لیکن مل کر حکومت مخالف ایجی ٹیشن کا کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح عدم اعتماد کے بارے میں پیپلز پارٹی کی تجویز پر بھی کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا بلکہ اس معاملہ کو مسلم لیگ(ن) کی سنٹرل کمیٹی اور پی ڈی ایم کے سامنے پیش کیاجائے گا۔ نواز شریف کی حتمی منظوری کے بغیر یہ بیل منڈھے نہیں چڑھے گی۔
عمران خان کے خلاف عدم اعتماد اسٹبلشمنٹ کی مدد سے سرکاری اتحاد کے ارکان توڑ کر ہی کامیاب ہوسکتی ہے۔ نواز شریف واضح کرچکے ہیں کہ وہ عدم اعتماد کے خلاف نہیں ہیں لیکن انہیں اسٹبلشمنٹ کے تعاون سے ایسا اقدام کرنے سے اتفاق نہیں ہے۔ یوں بھی اقتدار کے ابتدائی عرصے میں تحریک عدم اعتماد لائی جاتی تو اس سے کوئی فائدہ حاصل ہوسکتا تھا۔ اب حکومت اپنی مدت کے آخری سال میں داخل ہونے والی ہے۔ ایسے میں عدم اعتماد لانے سے سیاسی بحران ہی پیدا ہوگا۔ اپوزیشن اگر ملک میں واقعی عوام دوست تبدیلی لانا چاہتی ہے تو اسے آئیندہ انتخابات میں کسی ٹھوس منشور کے ساتھ شرکت کی تیاری کرنی چاہئے۔ سیاسست کو ذاتی دشمنی کا اسیر بنانے کی بجائے اصولوں کی بنیاد پر قومی مسائل کا حل سامنے لایا جائے اور عوامی حاکمیت پر درپردہ سازشوں اور اسٹبلشمنٹ کے ساتھ جوڑ توڑ سے مفاہمت کا طریقہ ترک کیا جائے۔