پاکستان لٹیروں کے لئے نہیں بنا تھا: وزیر اعظم

  • بدھ 09 / فروری / 2022
  • 3480

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اسلامی فلاحی ریاست کے خواب پر وجود میں آیا ہے یہ ملک اس لیے قائم نہیں ہوا تھا کہ عوام کی دولت لوٹ کر نواز شریف اور زرداری ٹاٹا اور برلا بن جائیں۔

فیصل آباد میں نیا پاکستان صحت کارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب، ڈاکٹر یاسمین اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرف لے جانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 74 سال میں کئی وزیر اعظم آئے لیکن کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا کہ غریب گھرانے میں کوئی بیماری آجائے تو اس کا علاج کروانا کتنا مشکل ہے۔ ریاست نے کھبی صحت کی طرف توجہ نہیں دی۔

ہمیں سمجھنا چاہیے کہ پاکستان کسی وجہ سے بنا تھا، ہم سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان کے سارے مسلمانوں نے پاکستان کے لیے ووٹ دیا تھا، حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ تمام مسلمانوں کو پاکستان نہیں آنا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بانیان پاکستان ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواب دیکھا تھا، اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم نے پاکستان کو نبیﷺ نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے لیکن پاکستان کی تاریخ میں اس بارے میں کسی حکومت نے نہیں سوچا۔

انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ امیروں اور غریبوں میں فاصلے بڑھتے گئے۔ میں اور میری ساری بہنیں سرکاری ہسپتالوں میں پیدا ہوئی تھیں لیکن اب صاحب حیثیت افراد نجی ہسپتالوں میں جاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ملک کے سرکاری ہسپتال خستہ حال ہوتے گئے اور نجی ہسپتالوں کا رجحان بڑھنے لگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ جن لوگوں نے عوام کی صحت کی ذمہ داری اٹھانی تھی وہ کھانسی پر بھی لندن ، امریکا ، دبئی جارہے ہیں۔ انہیں کیا معلوم پاکستان کی عوام کس حالت ہیں ہے۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج سے چند سال پہلے یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو چور کہتی تھی، زرداری کو جیل میں مسلم لیگ (ن) نے ڈالا تھا۔ یاد رکھیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے زرداری کو جیل میں نہیں ڈالا۔ پاکستان اس لیے نہیں بنایا تھا کہ ٹاٹا اور برلا کی طرح نواز شریف اور زرداری امیر ہوجائیں، انہوں نے کبھی نہیں سوچا کہ عام شہری ہماری ذمہ داری ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ڈاکٹر اور نرسوں کا تناسب آبادی کے مطابق ہوتا ہے اور پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے یہ ریشو نہ ہونے کے برابر ہے، ضلعی ہسپتالوں میں ڈاکٹر اور نہ ہی نرسز ہوتی ہیں۔ ڈاکٹروں اور نرسز کا فقدان اچانک نہیں ہوا بلکہ حکمران طبقے نے ملک میں عوام کے لیے ایک الگ جبکہ اپنے لیے الگ پاکستان بنادیا۔

وزیر اعظم چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کیے بغیر کہا کہ وہ کہتے ہیں ہم ہیلتھ انشورنس پر نہیں بلکہ ہسپتالوں پر پیسے خرچ کریں گے تو آپ نے 13 سال سے کیا کر رہے ہیں، آپ ہسپتالوں پر ہی پیسے خرچ کرلیں۔ آپ کو صرف یہ پتا ہے کہ ’بارش آتی ہے تو پانی آتا ہے‘ آپ کو سندھ کے دیہاتوں کا حال نہیں معلوم، آپ جاکر دیکھیں کہ لوگ کیسے زندگی گزار رہے ہیں، زرداری صاحب چوری کے پیسے سے صرف لوگوں کو خریدتے ہیں۔

میں صرف سیاست میں ان دو خاندانوں کی وجہ سے آیا تھا جو کئی سال سے پاکستان کو لوٹ رہے ہیں، میں نے 25 سال پہلے ان کے خلاف جہاد شروع کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دنیا دیکھی ہے، میں نے مغرب کے خوشحال گھرانے دیکھے ہیں۔ اللہ نے مجھے سب کچھ دیا ہے، مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے، میں صرف سیاست میں ان دو خاندانوں کی وجہ سے آیا تھا کیونکہ ان کے ہوتے ہوئے پاکستان کا کوئی مستقبل نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ سیاست میں آنے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ پاکستان اسلامی فلاحی ریاست کے نظریے پر بنا تھا اس نظریے پر ملک کو چلانا تھا، میں آزاد پاکستان میں پیدا ہونے والی پہلی نسل میں سے ہوں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کامیاب معاشرے کے لیے دو چیزیں لازمی میں جس میں سب سے پہلے قانون کی بلادستی ہے۔ انہوں نے قول رسولﷺ بیان کرتے ہوئے کہا کہ نبی ﷺ نے کہا تھا کہ ’تم سے پہلے بہت سی قومیں تباہ ہوئیں‘ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ’میں نے دنیا کی امامت کے لیے تمہیں سب عظیم قوم میں پیدا کیا ہے کیونکہ تم اچھائی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہو اور بدی کو ختم کرتے ہو‘۔

یہ دو چیزیں ہیں جس پر مدینہ کی ریاست کی بنیاد رکھی گئی۔ نبیﷺ رحمت اللعالمین بن کر آئے، سارے دنیا کے لیے رحمت تھے جو ان کی سنت پر چلے کا اللہ اس کا مرتبہ بلند کرے گا۔

وزیر اعظم نے اپوزیشن کو پیغام دیا کہ ’پاکستان کی اصل جنگ قانون کی بالا دستی ہے  جب قانون پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو کرپشن ہوتی ہے‘۔ تمام قبضہ گروپوں کو ہم نے اس قانون کے نظام کے نیچے لانا ہے جس دن یہ ہوگیا تو سمجھ لیں تبدیلی آگئی ہے۔