حزب اختلاف کی سیاست کا المیہ

عمومی طور پر حزب اختلاف کی سیاست مستقبل کی حکومت کے طور پر سمجھی جاتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جمہوریت میں حزب اختلاف  کو بھی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔حزب اختلاف کی سیاست حکومت کے مقابلے میں ایک متبادل سیاست کو سامنے لانا ہوتا ہے تاکہ لوگ حکومت کی ناکامی کے بعد متبادل حکومت  موجود ہو۔

پاکستان کی حالیہ سیاست کو دیکھیں تو حکومت کو مختلف محاذ پر بہت سے چیلنجز کے باوجود ایک کمزور، تقسیم شدہ، تضادات پر مبنی  حزب اختلاف کا سامنا ہے۔یہ ہی حکومت کی کامیابی بھی ہے کہ ایک کمزور حزب اختلاف اس کے مقابلے میں پارلیمان اور سیاسی میدان میں وہ کچھ نہ کرسکی جو حکومت کو کمزو رکرنے یا کا سبب بن سکتی۔ حزب اختلاف کی سیاست نے حکومت مخالفت میں کئی  دعوے بھی کیے اور کئی ایسے اعلانات بھی  کہ بس اب حکومت کو گرانے کا حتمی فیصلہ ہوچکا۔حزب اختلاف نے اپنی سیاست میں پانچ اہم نکات کو بنیاد بنا یا۔ اول یہ حکومت جعلی مینڈیٹ کی ہے او راس حکومت کو ا اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت سے لایا گیا جو عوامی تائید و حمایت سے محروم ہے۔ دوئم حکومت کی کارکردگی اس حد تک گرچکی ہے کہ لوگ حکومت سے نالاں ہیں اور حکومت کے مقابلے میں حزب اختلاف کی سیاست کو اپنی امید سمجھتے ہیں۔ سوئم اسٹیبلیشمنٹ خود اپنی غلطی پر ناد م ہے اور وہ خود اس حکومت کے مقابلے میں ایک نیا سیاسی بندوبست چاہتی ہے۔چہارم حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان تعلقات میں بگاڑ کی وجہ سے حکومت کی تبدیلی ناگزیر ہوگئی ہے۔ پنجم حکومت سے جہاں اس کے اتحادی نالاں ہیں وہیں حکمران جماعت میں بھی ایک بڑی تعدادحکومتی  کارکردگی سے نالاں ہوکر متبادل راستے کی تلاش میں بھی ہے۔

 2018کے انتخابات کے بعد سے لے کر اب جو بھی حزب اختلاف نے سیاسی حکمت عملی اختیار کی اس پر اس کو عملی طور پر سیاسی میدان میں  پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔سب سے اہم ناکامی حزب اختلاف کے اتحاد کے انتشار  تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی او رمسلم لیگ ن میں ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جو ایک دوسروں پر درپردہ اسٹیبلیشمنٹ سے ساز باز کا الزام بھی لگاتے ہیں۔ اس وقت اگر ہم مجموعی طور پر حزب اختلاف کی سیاست کو دیکھیں تو اس میں صرف تین کردار ہی نمایاں ہیں جن میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور جمعیت المائے اسلام فضل الرحمن گروپ۔  اس کے برعکس کافی عرصہ سے عوامی نیشنل پارٹی، محمود خان اچکزئی، آفتاب شیر پاؤ، انس نورانی اور اختر مینگل گمنام نظر آتے ہیں۔چھوٹی جماعتیں الزام لگاتی ہیں کہ بڑی سیاسی جماعتوں نے ان کو سیاسی ڈھال کے طور پر استعمال کیا او راپنی اپنی جماعتوں کا مخصوص ایجنڈا ہم پر مسلط کیا جو اختلافات کی بنیاد بن رہا ہے۔اس وقت بھی دو لانگ مارچ کے اعلان نے  حزب اختلاف کو سیاسی طور پر تقسیم اور کمزور کیا۔

دو سطحوں پر  لانگ مارچ کی سیاست کا ایک تجزیہ یہ بھی ہے کہ پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کے مقابلے میں سیاسی حلقوں میں یہ تاثر قائم کرنا چاہتی ہے کہ ہم ہی پی ڈی ایم کے مقابلے میں اصل حزب اختلاف ہیں۔جبکہ اس کے مقابلے میں پی ڈی ایم خود کو اصل حزب اختلاف اور پیپلزپارٹی کوکھل کر  اسٹیبلیشمنٹ کی بی ٹیم کے طور پر پیش کررہی ہے۔حزب اختلاف کے یہ تمام دعوے بھی غلط ثابت ہوئے کہ اسے جہاں اپنی عددی تعداد پر بھروسہ ہے وہیں اسے حکمران جماعت کے اندر بھی حمایت حاصل ہے۔ کیونکہ جب بھی پارلیمانی سیاست میں عددی تعداد کا میچ ہوا تو حکومت کو حزب اختلاف کے مقابلے میں  کامیابی  ملی اور حزب اختلاف کی عددی تعداد  کم نکلی۔حالیہ سینٹ میں حزب اختلاف کی سیاسی عددی برتری کے باوجود فنانس کمیشن بل کی منظوری نے عملی طور پر حزب اختلاف کی پارلیمانی سیاسی قوت کو بھی بری طرح بے نقاب کیا اور ثابت ہوا کہ اسے اپنے ہی جماعت کے اندر سے  مزاحمت کا سامنا ہے۔اسی طرح لانگ مارچ، حکومت کے خلاف عوامی اجتجاجی تحریک، تحریک عدم اعتماد کی سیاسی حکمت عملی بھی کوئی بڑا سیاسی نتیجہ نہیں دے سکی۔

اس سیاسی تقسیم کے باوجود کبھی کبھی ہم دو بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی او رمسلم لیگ ن کے درمیان مشترکہ جدوجہد کے تناظر میں سیاسی رومانس بھی دیکھتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں شہباز شریف کی جانب سے آصف زرداری او ربلاو ل بھٹو کو دیا جانے والا سیاسی ظہرانہ جس میں حکومت کے خلاف آئینی آپشنز اختیار کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔جبکہ شہباز شریف نے یہ منطق  دی ہے کہ جلد ہی پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے دوبارہ متحد ہونے کا اعلان بھی متوقع ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں آصف زرداری کے بقول پیپلزپارٹی کا پی ڈی ایم میں شمولیت کا کوئی امکان نہیں۔یہ ملاقات عملی طور پر تحریک عدم اعتماد کے تناظر میں ہے،جبکہ پیپلزپارٹی جو سندھ میں حکومت میں ہے وہ کبھی نہیں چاہے گی کہ وفاق کی حکومت کو گرانے  سے سندھ کی حکومت کا خاتمہ  ہو۔ اس لیے اس حکومت کو مدت پوری کرنے کا سیاسی فائدہ حقیقی طور پر پیپلزپارٹی ہی کو ہوگا۔ کم ازکم پیپلز پارٹی حکومت کے خلاف دباؤ ضرور بڑھانا چاہتی ہے مگر وہ کسی ایسی سیاسی مہم جوئی کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں جو اس کے سیاسی مفادات کو نقصان پہنچائے۔

ایک طرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں سیاسی رومانس  کے ساتھ ایک دوسرے  پر تنقیدی مقابلہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی او رمسلم لیگ ن کے سیاسی کارکن اپنی اپنی جماعتوں کے ایک دوسرے سے اتحاد کو منفی بنیادوں پر دیکھتے ہیں۔ بالخصوص پنجاب میں پیپلزپارٹی کا سیاسی کارکن سمجھتا ہے کہ آصف زرداری کی مفاہمتی سیاست نے پنجاب  میں پارٹی کو کمزور کیا ہے۔اسی طرح حزب اختلاف کی مجموعی سیاست نے ایسا کوئی ایجنڈا بھی پیش نہیں  کیاجو ثابت کرسکے اس وقت جو قومی چیلنجز او رمسائل ہیں ان کا حل ان ہی کے پاس ہے۔جہاں تک عوامی تحریک کا تعلق ہے تو عوامی سطح پر بھی اگر لوگ حکومت سے نالاں ہیں تو حزب اختلاف کی جماعتوں کے بارے میں بھی ان کا رویہ مثبت نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حزب اختلاف لوگوں کو حکومت گراؤ مہم میں سڑکوں پر نہیں لاسکی او رجو مہنگائی کے خلاف اجتجاج مارچ ہوئے اس میں لوگوں کی عدم شرکت ظاہر کرتی ہے کہ لوگ عملی طور پر حکومت مخالف تحریک میں سٹرکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

اس وقت حزب اختلاف کا مسئلہ حکومت گرانے سے زیادہ 2023کے انتخابات میں خود کو حکومت کے مقابلے میں ایک متبادل سیاسی قوت کے طور پرپیش کرنا ہے۔ پیپلزپارٹی کی ساری سیاست اسی  نکتہ کے گرد گھومتی ہے۔ اسی طرح شہبازشریف اور مولانا فضل الرحمن بھی اسی بنیاد پر اپنی سیاسی حکمت عملی  ترتیب دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ حزب اختلاف کی تمام بڑی جماعتیں کسی نہ کسی شکل میں پس پردہ قوتوں سے رابطوں میں بھی ہیں او ران کو اندازہ ہے کہ ان کی حمایت کے بغیر وہ اپنا سیاسی راستہ نہیں نکال سکیں گے۔اس لیے حالیہ حزب اختلاف کی سیاست سے کسی مہم جوئی کی توقع رکھنا یا حکومت کو گھر بھیجنے کی سیاست کمزور نظر آتی ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قومی اسمبلی میں موجود ارکان اسمبلی کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر تحریک عدم اعتماد کا مقصد عمران خان حکومت کو گھر بھیج کر فوری انتخابات کروانا ہے تو کیوں ایسی سیاست کا حصہ بنیں جس میں ان کو وقت سے پہلے گھر جانا پڑے۔