دنیائے موسیقی کا عظیم ستارہ رخصت ہوا
- تحریر افتخار بھٹہ
- بدھ 09 / فروری / 2022
- 4780
آج سر اور تان کی بے تاج بادشاہ لتا منگیشتر جہان فانی سے رخصت ہوئی۔ ان کے فن اور زندگی کے بارے میں بہت کچھ لکھا جائے گا۔ آج بیماری کے باوجود میں ان کے بارے میں چند الفاظ لکھنے کی کوشش کررہا ہوں۔
اس کی بنیادی وجہ ہے کہ بچپن سے اچھے گلوکاروں اور موسیقی سننے کا شوق رہاہے۔ لتا منگیشتر، نور جہاں اور مہدی حسن میرے پسندیدہ گلو کارہیں۔ دیگر گلوکاروں آشا، اقبال بانو، فریدہ خانم، شمشاد بیگم، بیگم اختر، امانت علی خان، سلامت علی خان، غلام علی، شوکت علی، محمد رفیع، مکیش، اشوک کمار طلعت محمود وغیرہ بھی بلند پائے کے گلوکار ہیں مگر جو مقام آواز کی سریلی گائیکی میں لتا منگیشتر، میڈم نورجہاں، مہدی حسن اور محمدرفیع کو ملا ہے وہ بالکل منفرد ہے۔ لتاجی ایک صدی کی گائیکہ ہیں۔ انہوں نے چھبیس زبانوں میں ہزاروں گیت گائے۔ پہلا گیت تیرہ سال کی عمر میں گایا۔ پہلے لتاجی کو کورس میں گانے کیلئے پچھلی قطار میں کھڑا کیا جاتا تھا کیونکہ ان کی آواز باریک تھی۔ 1946 میں ان کی گائیکی کو عروج ملنا شروع ہوا۔ ان کی گائیکی میں کھنکار، لہجے کی شیرینی، انکساری شرافت اور اردو زبان کی درست ادائیگی شامل تھی۔ ہندوستاُن کے مشہور شاعر جاوید اختر کے بقول لتاجی نے اردو ادب وشاعرکی بہت بڑی خدمت کی ہے۔ وہ ہر گیت کو اتنی لگن سے سرتال کے ملن سے صرف تین منٹ میں مکمل کرتی تھیں شاہد کسی کو اس کو جوڑنے میں کئی دن لگ جائیں۔
لتاجی نے گائیکی تربیت اپنے والد دینا ناتھ بنڈت سے حاصل کی۔ موسیقاراستاد غلام حیدر نے لتاجی، میڈم نورجہاں اور شمشاد بیگم کوفلم انڈسٹری میں متعارف کرایا جو کہ بعدازاں چونا منڈی لاہور میں آباد ہوئے اورپاکستانی فلموں کی مو سیقی ترتیب دی۔ لتاجی کی لاہور کے ساتھ عقیدت کا رشتہ استاد غلام حیدر اور میڈم نورجہاں کی وجہ سے تھا۔ وہ کہتی تھیں کہ کہ ساری دنیا میری مداح ہے جبکہ میں میڈم نورجہاں کو اعلی گلوکارہ سمجھتی ہوں۔ میڈم کے بقول لتاجی کے گلے وہ شیرینی وحلاوت ہے وہ دنیا میں اللہ سے صرف لتا جی کی ملی ہے - وہ کہتی تھیں مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔ وہ سروں کا مہارت کے ساتھ اتار چڑھاؤ سے استعمال کرتے ہیں۔
وہ استاد سلامت علی خان کی بھی مداح تھیں استاد صاحب کو ملاقات کیلئے ہنُدوستان بلایا کرتی تھیں۔ استادنصرت علی خان اورغلام علی ان کے مداحوں میں شامل تھے، ان کی گلوکاری کوچار چاند لگانے میں اعلی شاعری اور موسیقاروں کا حصہ جنہوں نے عمدہ گیت اور سریلی دھنیں تخلیق کیں۔ ان کو بلند پایہ فنکاروں محمد رفیع، مکیش اور کشور کمار کا ساتھ ملا جس سے گائیگی کا حسن دوبالا ہوا۔ وہ میرے عہد کے لوگوں کی پسندیدہ گلوکار ہیں اور وہ سروسنگیت کی وجہ سے امر رہیں گی۔ بے شک لتاجی اور میڈم نورجہاں مہان گلوکاریں ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔
میں نے اپنی زندگی میں شاعری، موسیقی اور گائیکی کا اتار چڑھاؤ دیکھا ہے۔ پاکستانی گلوکاروں کے لائف پروگراموں کی شرکت کی ہے جس میں سلامت علی، نزاکت علی، امانت علی فتح علی، اقبا ل بانو، فریدہ خانم، ثریاملتانیکر، تصور خانمُ، غلام فرید صابری، نصرت فتح علی وغیرہ شامل ہیں۔ لتاجی اور میڈم نورجہاں کے لائف پروگراموں شرکت تو کی مگر ان کے ریکارڈڈ لائف پروگرام سکرین پر دیکھے ہیں۔ کیا شاندار الفاظ کی گائیکی تھی جس میں سر سے اترنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ لتاجی نے پچاس سال تک لوگوں کو کے کانوں میں رس گھولتی رہیں۔ میڈیم نورجہاں نے ان کے تلفظ کی بہتر ادائیگی میں مدد کی۔
لتاجی تین نسلوں کی پسندیدہ گلوکارہ ہیں۔ انہوں نے کچھ سال پہلے گانا چھوڑ دیا کیونکہ وہ کہتی تھیں کہ آج کی شاعری اور موسیقی میری گائیکی سے ہم آہنگ نہیں۔ اس نے جس شاعر کا کلام گایا تو وہن امر ہوگئے۔ ان کے گیت صدیوں تک زندہ رہیں گے۔