دہشت گردی میں اضافہ کیوں

گزشتہ سال اگست میں افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت قائم ہونے کے بعد سے خیبر پختون خوا اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

سیکورٹی فورسز اور پولیس پر بیشتر حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے جب کہ عام شہریوں پر ہوئے زیادہ تر حملوں کے قاتل نامعلوم بتائے گئے ہیں۔ چند روز قبل بلوچستان کے علاقوں پنجگور اور نوشکی میں دہشت گردوں کے حملوں میں ایک میجر سمیت سیکورٹی فورسز کے سات اہلکار شہید ہو ئے تھے۔ پچھلے ماہ لاہور کے مشہور بازار انار کلی میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں تین افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ ایک ہفتہ قبل پشاور میں تین مسیحی افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں ایک پادری ولیم سراج کی موت ہوئی تھی۔ دہشت گردی کے ان تین واقعات کے علاوہ دیگر واقعات میں کالعدم ٹی ٹی پی، داعش خراسان اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ دہشت گردی کے حالیہ واقعات سمیت گزشتہ چند ماہ میں ہونے والی بیشتر دہشت گرد کاروائیوں بارے تشویش ناک بات یہ سامنے آئی ہے کہ ان کی منصوبہ بندی پاک افغان سرحدی علاقوں اور افغان سرزمین میں ہوئی ہے۔

اگرچہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان سرزمین کا استعمال کوئی نئی بات نہیں لیکن افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں تیزی آنا کئی وجوہ کی بنا پر تشویش ناک قرار دیا جا سکتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ گزشتہ کئی سالوں سے ہمارے ہاں یہ ریاستی بیانیہ قائم کیا گیا کہ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں اور کالعدم ٹی ٹی پی کو بھارت اور سابق افغان حکومت کی سرپرستی و حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں کا مکمل خاتمہ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی وحکومتی سطح پر ہمارے ہاں یہ بیانیہ بھی بڑے وثوق سے بیان کیا جاتا رہا کہ جیسے ہی افغانستان میں طالبان حکمران بنیں گے تو یا تو وہ راتوں رات وہاں سے ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں سمیت دیگر ملک دشمن گروہوں کا صفایا کر دیں گے یا کم ازکم افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کسی مسلح گروہ کوکارروائیوں کی اجازت کسی بھی صورت نہیں دیں گے۔ لیکن معاملہ اس کے بالکل برعکس ہو گیا۔

پاکستان نے اپنے طور پر خطے کے بہترین مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے افغانستان میں طالبان کی حکومت کی نہ صرف حمایت کی بل کہ ان کی حکومت کو اقوام عالم سے تسلیم کرانے کی کوششوں کا آغاز کرنے کے ساتھ ساتھ مالی مشکلات کے خاتمے کے لیے بھی امریکہ سمیت مغربی طاقتوں کو قائل کرنے کے عملی اقدامات اٹھائے۔  اس کے باوجود طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ سرد مہری والا رویہ اختیار کیا گیا۔ اگرچہ بظاہر طالبان حکومت نے کالعدم ٹی ٹی پی کو پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں بند کرنے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی لیکن عملی طور پر ایسا نہ ہوسکا۔ افغانستان میں طالبان حکومت بننے کے بعد ایک طرف کالعدم ٹی ٹی پی نے جنگ بندی ترک کرتے ہوئے پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی نئی کاروائیوں کا آغاز کر دیا اور دوسری طرف افغانستان میں موجود بلوچ علیحدگی پسند گروہوں نے بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانے سمیت دیگر دہشت گرد کارروائیوں میں تیزی لانا شروع کر دی ۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہونے کے واضح شواہد موجود ہیں جس سے بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو بھارت کے ساتھ ساتھ طالبان حکومت کی بھی آشیر باد حاصل ہے۔

پچھلی دو دہائیوں میں پاکستان دہشت گردی کی وجہ سے 80ہزار جانوں کا نقصان اٹھا چکا ہے، 30سے 40لاکھ افراد اندرون ملک دربدر ہو چکے ہیں اور دہشت گردی کی وجہ سے ملکی معیشت کو100ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ حکومتی وریاستی بیانیے کومدنظر رکھتے ہوئے عام توقع یہی تھی کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان میں دہشت گردی میں واضح کمی آنے کی صورت میں یہاں امن وامان کا قیام یقینی ہو جائے گا۔امن وامان کی صورت حال بہتر ہونے سے ایک طرف غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے اور اس کے نتیجے میں پائیدار ترقی کی توقع رکھی جا رہی تھی تو دوسری طرف ملک میں غیر ملکی ٹیموں کی آمد کے ساتھ ساتھ یہاں آئی سی سی کے بڑے ایونٹس کے انعقاد کے خواب بھی دیکھے جا رہے تھے لیکن پچھلے چند ماہ سے بتدریج تیز ہوتی دہشت گردی کی کاروائیوں سے دیرپا امن کے قیام کا خواب اور اس کے نتیجے میں آنے والی بہتریاں ممکن ہوتی دکھائی نہیں دے رہیں۔

پچھلے سال ستمبر میں نیوزی لینڈ کی ٹیم بغیر کوئی میچ کھیلے پاکستان سے واپس گئی تو اس کی وجہ دہشت گردوں کی جانب سے موصول ہونے والی دھمکی ہی تھی اور اب آسٹریلوی ٹیم کے پاکستان آنے سے پہلے دہشت گردی کے واقعات میں تیزی آ چکی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیکورٹی فورسزاور انٹیلی جنس ادارے اپنے طور پر دہشت گردوں کے مذموم ارادوں کو ناکام بنانے کے لیے پوری تندہی سے سرگرم عمل ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک کے وزیر داخلہ آنے والے دو ماہ میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں اضافے کاخدشہ ظاہر کر چکے ہیں۔ دو روز قبل وزیر داخلہ صاحب یہ بھی فرما چکے ہیں کہ ٹی ٹی پی سے بات چیت کے لیے ہمارا وفد گیا ہے لیکن ان کی شرائط ایسی ہیں کہ مذاکرات کی کامیابی کے امکانات نہیں۔ ٹی ٹی پی کے بڑے مطالبات میں سرفہرست مطالبہ قبائلی علاقوں کا سٹیٹس دوبارہ بحال کرنا ہے تاکہ وہ پھر سے وہاں اپنے قدم جماسکیں۔ ان کا دوسرا مطالبہ قبائلی علاقوں سے فوج کو ہٹانے کا ہے۔ تیسرا مطالبہ اپنے پکڑے گئے لوگوں کی رہائی کا ہے جب کہ اس کے علاوہ ٹی ٹی پی قبائلی علاقوں میں شرعی نظام کے قیام کا مطالبہ بھی کرتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹی ٹی پی کی درج بالا شرائط تسلیم کرنا ریاست کے لیے آسان نہیں تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ حالات میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن پاکستان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ طالبان حکومت نہ تو ٹی ٹی پی سمیت دیگرپاکستان مخالف گروہوں کے خلاف طاقت کے استعمال کے حق میں ہیں اور نہ ہی اب تک انہوں نے ٹی ٹی پی سمیت کسی گروہ کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی ہیں۔ افغان طالبان کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن کے حق میں بھی نہیں ہیں۔ ان حالات میں ہم اگر طالبان حکومت پر اپنا اثر ورسوخ استعمال کرکے ٹی ٹی پی کو اپنی پسند کے مطابق مذاکرات پر آمادہ کر لیں تو یہی بڑی کامیابی ہو گی۔