اچھا تو ہم چلتے ہیں(لتا جی کی یاد )

ایک ایسے زمانے میں جب آوازیں خاموش کی جارہی ہیں ، معدوم اور کئی مقامات پر بے معنی بھی ہوتی جارہی ہیں۔ ایک ایسے زمانے میں جب آواز نہیں رہی۔ ایک ایسے زمانے میں جب آوازیں لاپتا بھی کی جارہی ہیں۔

جب آوازوں کی مسخ شدہ لاشیں سڑکوں پر پھینک دی جاتی ہیں ۔ اور ایک ایسے مہینے میں جب ہم نے کشمیریوں کی آواز دبانے اورانہیں خاموش کرانے پر احتجاج کیا صرف احتجاج کیا ، صرف نعرے لگائے اور تصویریں بنوائیں ۔عین اس مرحلے پر ایک ایسی ہستی کا رخصت ہوجانا بہت اہمیت کاحامل ہے جو واقعی آوازتھی۔ ایک ایسی آواز کہ جو سرحدوں ، عقیدوں اور فرقوں سے بالاتر ہو کر سب کے کانوں میں یکساں رس گھولتی تھی اور یہ کسی اور کی نہیں صرف لتا منگیشکر کی آوازتھی جنہیں لتا جی کہنا ہی سب کو اچھا لگتا ہے۔ لیکن ان کے ذکر سے پہلے آوازوں کوسمجھنا اوران پربات کرنا ضروری ہے تاکہ عام آوازوں اور لتا جی کی آواز کافرق واضح ہوسکے۔

قارئین محترم آواز گرج دار بھی ہوتی ہے جو لوگوں کو خوفزدہ کردیتی ہے ، آواز سنسناتی ہوئی بھی ہوتی ہے جو گولی کی طرح سینہ چیر دیتی ہے۔آوازرعب دار ہوتی ہے جو یک دم سننے والوں کو لرزہ براندام کردیتی ہے ۔ آوازغصیلی بھی ہوتی ہے جو سامع کو تھرتھرکانپنے پر مجبورکرتی ہے اور آواز سریلی بھی ہوتی ہے جو کانوں میں رس گھولتی ہے، کانوں کے ذریعے آپ کے دلوں اور ذہنوں کومسخرکرتی ہے اور بہت سے بھید کھولتی ہے۔ رس گھولنے اوربھید کھولنے والی یہ سریلی آواز کئی گلوکاروں کے حصے میں آئی اور وہ اپنے گیتوں کے ساتھ امر ہوگئے۔ ان میں برصغیر پاک وہند کے بہت سے گلوکار بھی شامل ہیں جن کے چاہنے والے سرحد کے دونوں جانب ہی نہیں، دنیا بھر میں موجود ہیں اور برصغیر کے علاوہ بھی دنیابھر میں ایسی آوازیں دلوں پر حکمرانی کررہی ہیں۔

لیکن سریلی آوازوں میں بھی لتا جی کی آواز سب سے منفرد تھی۔۔ کیوں منفرد تھی؟ اس پر بات کرنے سے پہلے آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔ نیوز روم میں قتل وغارت ، لوٹ مار اور جھوٹ سچ کی خبروں کے دوران کچھ وقفے ایسے بھی آتے تھے جب ہم کچھ دیر کے لیے ایسی باتیں کرتے تھے جن کا اخبار کی دنیا سے تعلق نہیں ہوتاتھا۔ کبھی شاعری ، کبھی موسیقی کی باتیں اورکبھی نئے پرانے زمانوں کی یادیں ۔ ایسے میں ایک روز ہمارے نیوز ایڈیٹرعاشق علی فرخ صاحب نے اپنے ایک سینئر کا واقعہ ہمیں سنایا۔ کہنے لگے کہ ان کاجملہ مجھے کبھی نہیں بھول سکتا (اور عاشق صاحب کا سنایا ہوا جملہ آج تک مجھے بھی نہیں بھولا )۔ عاشق صاحب کے دوست نے کہا تھا کہ میں نے اپنی زندگی میں نہ کبھی فجرکی نمازقضا کی اورنہ لتا جی کے ریڈیوسیلون سے نشرہونے والے گیت“۔
بتانا یہ چاہ رہا ہوں کہ سریلی آواز تو ہر گلوکار کی ہوسکتی ہے لیکن لتا کی آواز میں جو پاکیزگی تھی وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔ اسی لیے انہیں سننا بھی عبادت کادرجہ رکھتاتھا۔ لتا منگیشکر ایک ایسی آوازتھی جس نے نسل در نسل سفر کیا۔ بہت کم عمری میں شہرت کی بلندیوں پرپہنچ جانے والی اس عظیم گلوکارہ نے مختلف زبانوں میں کم وبیش 50ہزار گیت گائے۔1945ءسے شروع ہونے والا ان کافلمی کیریئر 2015 تک جاری رہااوراس دوران صرف ایک سال 2003 ایسا ہے جب ان کا کوئی گیت ریلیز نہیں ہوا۔
میری یادوں میں ان کاپہلا گیت 1970 کے عشرے کا ہے جب میں پانچویں یاچھٹی جماعت کاطالب علم تھا اور اس زمانے میں ہرگلی سے صرف ایک ہی گیت سنائی دیتا تھا  ”حسن حاضر ہے محبت کی سزا پانے کو، کوئی پتھر سے نہ مارے مرے دیوانے کو“ ۔ اور اسی زمانے میں میں اپنے نانا کے ہوٹل پر ان کی پسند کے جو گیت سنتا تھا ان میں:
جیا بے قرار ہے چھائی بہارہے
آئے گا آئے، آنے والا
چپ چپ کھڑے ہو ضرور کوئی بات ہے،
جیسے گیت شامل ہیں ۔ اوراسی زمانے میں میں نے اپنی والدہ کو لتا ہی کا گیت گنگناتے سنا تھا جو وہ آج بھی کبھی کبھی گنگناتی ہیں:
ہوا میں اڑتا جائے میرا لال دوپٹہ ململ کا
لتا کی رخصتی کی خبر سن کر ان کے بہت سے گیت اور بہت سے زمانے یاد آٰگئے۔ سکول سے کالج ، کالج سے عملی زندگی اور پھرلاہور کا زمانہ کہ جب ہمارے پاس کیسٹ سننے کے سوا کوئی مصروفیت ہی نہیں تھی اور ہم لتا جی کوہی سنتے تھے اور پھر مختلف تقریبات میں گائے جانے والے بہت سے گیت کانوں میں رس گھولنے لگے اورساتھ میں وہ منظر اورتقریبات بھی یاد آگئیں کہ جہاں جہاں ہم نے وہ گیت سنے تھے۔ کون سی فلم کس کے ساتھ دیکھی تھی ، کون سا گیت کس تقریب میں سناتھا۔یہ سب لتا جی کے حوالے سے ہمارے خوبصورت ماضی کی یاد ہے۔ ان کے ان گیتوں کی فہرست ویکیپیڈیا پر موجودہے اورمیں اس میں سے ہرعشرے کے چند گیت اس لیے یہاں درج کررہا ہوں تاکہ لتا جی کی یاد میں اپنے خوبصورت ماضی کاجو لطف میں حاصل کیا آپ بھی اپنے زمانوں کے حوالے سے اپنے اپنے عہد کو محفوظ کریں اور اس عظیم گلوکارہ کو خراج عقیدت پیش کریں:
1940
جیا بے قرارہے چھائی بہارہے
چپ چپ کھڑے ہو ضرور کوئی بات ہے
1950
تم نہ جانے کس جہاں میں کھوگئے
گھرآیا میرا پردیسی
بچپن کی محبت کو دل سے نہ بھلادینا
جادوگرسیاں
1960
جب پیارکیا تو ڈرنا کیا
محبت کی جھوٹی کہانی
آپ کی نظروں نے سمجھا پیارکے
آج پھرجینے کی تمنا ہے
1970
کوئی پتھرسے نہ مارے مرے دیوانے کو
اچھاتو ہم چلتے ہیں
ملوں نہ تم تو ہم گھبرائیں
نہ کوئی امنگ ہے نہ کوئی ترنگ ہے
ڈفلی والے ڈفلی بجا
1980
میرے نصیب میں توہے کہ نہیں
ہم بنے تم بنے ایک دوجے کے لیے
سولہ عمر کی بالی عمر کوسلام
جب ہم جواں ہوں گے جانے کہاں ہوں گے
دشمن نہ کرے دوست نے وہ کام کیا ہے
رام تیری گنگا میلی ہوگئی
1990
گوری ہیں کلائیاں تولادے
چوڑی مزہ نہ دے گی گنگن مزہ نہ دے گا
کبھی تو چھلیالگتا ہے
اوے میرے دل کے چین
آکے تیری بانہوں میں ہرشام لگے سندوری
2000
کبھی خوشی کبھی غم
ہم کو ہمی سے چرالو
اک اجنبی سا احساس ہے

(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)