فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی

لتا دیدی مرگئی۔ من یہ ’’جھوٹی ‘‘ خبر ماننے کو تیار ہی نہیں ہورہا۔ خود کو لاکھ سمجھایا ہے کہ یہ سال لتا دیوی کیلئے بہت خطرناک ثابت ہوا ہے۔ 8جنوری کو کورونا یعنی سینے میں سانس کی الجھن کے باعث انہیں ممبئی کے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ وہ آئی سی یو میں تھیں اور پھر وینٹی لیٹرپر چلی گئیں۔ 3فروری کو ان کی حالت بہتر محسوس ہوئی تو وینٹی لیٹر کو ان سے ہٹا دیا گیا مگر اگلے روز طبیعت دوبارہ بگڑی تو مصنوعی تنفس کی مشین کا سہارا بھی جواب دے گیا۔ یوں 6فروری بروز اتوار کی صبح سوا آٹھ بجے وہ سب ہو گیا جسے ماننے کیلئے دل ہنوز آمادہ نہیں۔ ان کی عمر اور گرتی ہوئی صحت کو دیکھتے ہوئے بلاشبہ خدشات ابھرتے تھے وہ کچھ سالوں سے آواز کا نیا جادو جگانے کے قابل بھی نہیں رہی تھیں مگر ان کا وجود غنیمت تھا چاہنے والے ان کی زبان سے نکلتےایک ایک لفظ کو انہماک کےساتھ سوغات سمجھ کر سنتے تھے۔ ان کو دیکھ کر نوعمری کی ان گنت یادیں تازہ ہو جاتیں جب ان کے گیت ریڈیو پر سنتے یا کیسٹس ٹیپ ریکارڈر پر لگا لیتے تو یوں محسوس ہوتا کہ ہم ایک دوسری ہی دنیا میں چلے گئے ہیں۔

لتاجی سے محبت کرنے والوں کیلئے جغرافیائی سرحدیں کوئی معنی رکھتی تھیں نہ نظریاتی و مذہبی تفرقے دیوار بن سکتے تھے۔ وہ پیار محبت کی دیوی اور امن و آشتی کی تصویر تھیں۔ انہوں نے جو گیت گائے وہ امر ہو گئے۔ وہ جب تک زندہ رہیں ان کے پرستار بلاتمیز رنگ ونسل و مذہب و ملت ان کے گائے ہوئے گیتوں سے سکون حاصل کرتے رہے۔ آج جب وہ اس جہان فانی سے گئی ہیں تو ہر کوئی انہیں گلہائے عقیدت پیش کرنے کیلئے بے چین و بے قرار ہے۔ پورا جنوبی ایشیا گویا ایک ملک لگ رہا ہے سارا سوشل میڈیا ان کی پوسٹوں سے بھرا پڑا ہے۔ ہماری حکومتوں نے جو منافرتوں کی دیواریں اٹھا رکھی ہیں کاش یہ ٹوٹ جائیں۔ مہذب اقوام میں حکومتیں ہمیشہ عوامی جذبات کے خلوص اور محبت بھرے اسلوب کا احترام کرتی ہیں مثبت عوامی رائے کے احترام میں بدترین دشمنی پر استوار دیواریں ٹوٹ جاتی ہیں جغرافیائی سرحدیں بے نشان ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس پسماندہ معاشروں میں منافرتیں پھیلانے کی تو کامل آزادیاں ہوتی ہیں مگر اظہار اپنائیت پر نادیدہ قدغنیں عائد کی جاتی ہیں۔

 اگر مخصوص طبقات کےمفادات یا نظریات کا دہندہ یا شکنجہ نہ ہوتا تو ہزاروں لوگ خوشی غمی میں شرکت کیلئے لاہور سے امرتسر یا دہلی کیا ممبئی اور کلکتہ تک پہنچتے۔ ذرا تصور کیجئے اگر لتا منگیشکر لاہور کے سب سے بڑے اسٹیڈیم میں کنسرٹ کر رہی ہوتیں تو ہمارے لوگ لندن کے البرٹ ہال سے بھی کہیں زیادہ بڑھ چڑھ کر جوش وخروش کے ساتھ یوں پہنچتے کہ تل دھرنے کو جگہ نہ مل رہی ہوتی۔ کتنے دکھ کی بات ہے وہ پارٹیشن کے بعد پون صدی تک جیتی رہیں مگر ہر دو اطراف کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ کم از کم اپنے عوام کی خوشی کیلئے، خطے میں امن و سلامتی اور بھائی چارے کو فروغ دینے کیلئے یا کاروباری و تجارتی سرگرمیوں کو بڑھاوا دینے کیلئے یا لٹریچر و آرٹ کی ترقی کیلئے، اس نوع کا کوئی عوامی میلہ منعقد کرتا جس سے مخصوص مفادات کے پچاریوں کی پھیلائی گئی منافرت و دشمنی کا خاتمہ ہوتا۔

کہنے کو ہر کوئی پروپیگنڈہ کر رہا ہے کہ فن کی سرحدیں نہیں ہوتیں گریٹ آرٹسٹ پورے خطے میں بسنے والے کروڑوں عوام کا مشترکہ اثاثہ ہوتے ہیں لیکن جونہی دوستی و محبت کو پھیلانے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں عوامی احساسات کو ڈسنے کیلئے زہریلے سانپ بلوں سے باہر سر نکال کر امن و سلامتی کے گیت گانے والوں کو ڈسنے لگتے ہیں جن کو مذہبیت کی ابجد کا بھی علم نہیں اور کرتوت ایسے کہ شیطان بھی ان کی شیطانیوں پر شرما رہا ہو، ایسے بولیں گے کہ جیسے

آر آئی پی لکھ دیا تو گویا مذہب کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔ سوشل میڈیا پر ایمان و ایقان کے وعظ شروع ہو جائیں گے۔ نوجوانو دیکھو کافر کو مرحومہ نہ لکھنا آنجہانی لکھنا ورنہ ایمان سے ہاتھ دھ بیٹھو گے۔ اس کے بعد جنت اور دوزخ کی بحثیں شروع کرانے کی سکیمیں بتائی جاتی ہیں۔ ایک دوسرے سے تقابل شروع کر دیا جاتا ہے۔ ایک بی بی صاحبہ جسے اپنے شوق لگن یا کسی مجبوری سے کئی قانونی یا غیر قانونی خاوندوں کو بدلنا پڑا اس کیلئے تو بالآخر بہشتی سرٹیفکیٹ جاری ہونے لگتے ہیں جبکہ دوسری بیچاری جسے پوری طویل زندگی میں ایک خاوند بھی نصیب نہ ہوا جو اپنے بھائی او ربہنوں کو ان کی اولادوں سمیت تمام عمر پالتی رہی یا اپنے مرحوم باپ کی یاد میں ٹرسٹ ہسپتال بنواتی رہی، اس کیلئے مذہبی منافرت کے تحت دوزخی پروانے جاری کرنے شروع کر دیے جاتے ہیں۔

 گندگی پھیلانے والے پانچ فیصد متشدد لوگ 95فیصد امن و اعتدال کی بات کرنے والوں پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ گویا شدت پسندانہ غنڈہ گردی نے طویل دہائیوں سے امن پسند عوام کو یرغمال بنایا ہوا ہے نفرت و تشدد ہمیشہ نفرت و تشدد کو ہی جنم دیتے ہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ کیکر یا ببول پر آم یا انگور اگنے لگیں۔ جیسی پنیری ہم نے سو سال پہلے بوئی تھی ویسی ہی فصل لہلہانی تھی سو ہر دو اطراف لہلہا رہی ہے۔ حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ شاہ رخ خاں جیسا لبرل خیالات کا حامل آرٹسٹ پورے احترام و عقیدت کےساتھ لتا جی کے جسد خاکی پر کچھ پڑھ کر پھونکتا ہے تو نفرت کے جواب میں پروان چڑھنے والی نفرت الزام دھرتی ہے کہ یہ تو پڑھ کر پھونکا نہیں تھوکا گیا ہے۔ مثبت ترین جذبے کو منفی معنی پہنانے والے بہانوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ شاہ جی کو بھی اس نوع کا موقع نہیں آنے دینا چاہئے تھا مسلمانوں میں اس نوع کی کہیں کوئی روایت نہیں رہی ہے کہ میت پر کچھ پڑھ کر پھونکا جائے۔ ہاں اگر کوئی بیمار ہو تو اس پر مسلمان دم کرتے ہوئے پڑھ کر پھونکتے ہیں۔ شرعی حکم جو بھی ہے ایک روایت یا رسم کے طور پر یہ چیز موجود ہے لیکن میت کے حوالےسے ایسی کوئی رسم بھی نہیں ہے۔ بات جو بھی تھی اس کا بتنگڑ بنانے کی ضرورت نہ تھی اور نہ ہی کسی حجاب والی خاتون پر آوازے کسنے کی کوئی تک تھی مگر اس نوع کے حرکات کو جواز بنا کر منافرتوں کے سوداگروں کو اپنا گندا سودا بیچنے کے مواقع دینے سے اجتناب کرنا چاہئے۔

 اس کے مثبت پہلو کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہئے کہ خود ہندو بھائی بہنوں کے اندر سے اپنے شدت پسندوں کے خلاف توانا آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ وہ اپنے گند کو خود آپ آگے بڑھ کر صاف کر رہے ہیں۔ اتنے ہجوم میں کوئی اس ایک لڑکی کو نقصان پہنچانے کی ہمت نہیں کرتا۔ اس نوع کی بحث میں پڑتے ہوئے ہمیں دو پہلو نظرانداز نہیں کرنے چاہئیں کہ چھوٹی موٹی باتوں کو ہمیں بھی دین ایمان کا تقاضا بنا کر پیش کرنے سے احتراز کرنا چاہئے۔ محمود مدنی صاحب جیسوں کو جلتی پر تیل نہیں چھڑکنا چاہئے اور ہماے لوگوں کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ اس نوع کے کار خیر کی شروعات کرنے والےکوئی اور نہیں ہم خود ہیں۔