حجاب پر پابندی کے خلاف بھارت کی مزید ریاستوں میں احتجاج
- جمعرات 10 / فروری / 2022
- 6530
بھارت کی ایک ریاست کے اسکولوں میں طالبات پر حجاب پہننے پر پابندی عائد کرنے پر اشتعال اور غصہ نہ صرف بھارت بلکہ بیرون ملک بھی پھیل رہا ہے۔
ایک بھارتی پارلیمنٹیرین اور ایک نوبل انعام یافتہ شخصیت نے بھی اس پر اعتراض کیا جبکہ پاکستان کے وزیر خارجہ نے بھی اس معاملے پر رد عمل ظاہر کیا ہے۔ کولکتہ میں گزشتہ روز سینکڑوں طلبہ نے حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی اور سڑکیں بلاک کردیں۔
کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ (ایم پی ) ششی تھرور کا کہنا تھا کہ بھارت میں مذہبی لباس پر پابندی لگانے والا کوئی قانون نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ششی تھرور کا کہنا تھا کہ یہاں بھارت میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو مذہبی لباس پر پابندی عائد کرے۔ جیسے سکھوں کی پگڑی یا مسیحی افراد کے گلے میں صلیب ڈالنا یا پیشانی پر تلک لگانا۔ یہ سب چیزیں فرانس کے سرکاری اسکولوں میں منع ہیں لیکن بھارت میں ان سب چیزوں کی اجازت ہے۔
بھارت میں کھڑے ہونے والے اس تنازع پر نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے بھی اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں ملالہ یوسف زئی کا بھارتی رہنماؤں سے کہنا تھا کہ وہ مسلم خواتین کو سماجی سطح پر دبانے کی کوششوں اور اقدامات کو ترک کریں۔
اپنے ٹوئٹ میں ملالہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کو حجاب پہن کر اسکول جانے سے روکنا بہت خوفناک ہے۔ حجاب کے معاملے پر خواتین کو کسی طرح سے بھی مجبور کرنا غیر مناسب ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ نے گزشتہ ہفتے خبریں دی تھیں کہ کرناٹک کے کئی اسکولوں نے وزارت تعلیم کے ایک حکم کا حوالہ دیتے ہوئے حجاب پہننے والی مسلم لڑکیوں کو داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا، جس نے والدین اور طالب علموں کو احتجاجی مظاہروں پر مجبور کردیا۔
مسلم طلبہ اور والدین کے مظاہروں کے جواب میں حالیہ دنوں میں پابندی کی حمایت کرتے ہوئے ہندو طلبہ نے بھی جوابی مظاہرے کیے اور ریلیوں کی شکل میں اسکولوں میں آئے۔ دو کمیونیٹیز کے درمیان حالیہ کشیدگی اور تناؤ کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے کرناٹک کی ریاستی حکومت تین دن کے لیے اسکول اور کالج بند کرنے پر مجبور ہوگئی۔
گزشتہ روز کولکتہ میں احتجاج کرنے والی طالبات میں زیادہ تر حجاب پہننے والی خواتین تھیں۔ ان مظاہروں میں کوئی حادثہ نہیں ہوا، مظاہرین طلبہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے آئندہ روز دوبارہ احتجاج کا منصوبہ بنایا ہے۔ تنازع کے خلاف طلبہ کی جانب سے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں بھی مظاہروں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
کرناٹک کی 12 فیصد آبادی مسلمان ہے اور وہاں ہندو قوم پرست بی جے پی کی حکومت ہے۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ طلبہ کو اسکولوں کے وضع کردہ ڈریس کوڈ پر عمل کرنا چاہیے۔ بھارت کے ٹیکنالوجی کے مرکز بنگلور میں انتظامیہ نے گزشتہ روز اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے ارد گرد احتجاج پر دو ہفتوں کے لیے پابندی لگا دی ہے۔
بھارت میں طلبہ پر حجاب پہننے پر عائد پابندی پر تنقید کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ طلبہ پر پابندی بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور عالمی برادری سے صورتحال کا نوٹس لینے کے لیے زور دیا۔
کرناٹک میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک ہجوم کا حجاب میں ملبوس ایک مسلمان لڑکی کو ہراساں کرنے کے واقعے پر رد عمل دہتے ہوئے وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ مسلمانوں کو سماجی سطح پر دبانے کے بھارتی ریاستی منصوبے کا حصہ ہے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت میں اقلیتی برادریوں کے ساتھ جاری بدسلوکی انتہائی تشویشناک ہے۔ بھارت روشن خیالی اور جمہوریت کا چیمپئن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، جبکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ وہاں کے مسلمان شہریوں کو اپنے لباس پر بھی پابندیوں کا سامنا ہے۔
مذہبی ہم آہنگی کے لیے وزیر اعظم کے خصوصی نمائندے اور پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ جمعہ کا دن 'بھارت کی بیٹیوں' کے ساتھ یکجہتی کے دن کے طور پر منایا جائے گا۔
پاکستان نے بھارتی ریاست کرناٹک میں طالبات کے حجاب پہننے پر لگائی گئی پابندی اور انہیں ہراساں کرنے کی مذمت کرتے ہوئے بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا۔
بھارتی ریاست کرناٹکا میں ایک سرکاری ہائی اسکول کی طالبہ کو پچھلے مہینے حجاب نہ پہننے کی ہدایت کی گئی تھی اور بعدازاں دیکھتے ہی دیکھتے ریاست کے دیگر تعلیمی اداروں کے لیے بھی یہی ہدایات جاری کردی گئیں۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد میں ہندوستانی ناظم الامور کو آج وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا اور انہیں بھارتی ریاست کرناٹک میں مسلمان طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے انتہائی قابل مذمت اقدام پر حکومت پاکستان کی شدید تشویش سے آگاہ کیا گیا۔
بھارتی ناظم الامور پر زور دیا گیا کہ وہ بھارتی حکومت کو اس حجاب مخالف مہم کے حوالے سے پاکستان کی تشویش سے آگاہ کریں۔