ہمارے نظام میں فوری تبدیلی برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں: وزیراعظم

  • جمعرات 10 / فروری / 2022
  • 4530

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں نے فوری تبدیلی لانے کے بڑی انقلابی تصورات پیش کیے تھے لیکن پھر مجھے احساس ہوا کہ ہمارے نظام میں اچانک تبدیلی برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

بہترین کاکردگی دکھانے والی 10 وزارتوں میں تعریفی اسناد کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بہترین کارکردگی دکھانے والی وزارتوں کو مراعات بھی دی جائیں گی۔ ان مراعات کے ذریعے ہی بتدریج تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وزارت مواصلات کے نمبر ون آنے پر مراد سعید کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے معاون خصوصی اسٹیبلشمنٹ ارباب شہزاد اور ان کی ٹیم کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سزا اور جزا کے تصور کے بغیر دنیا کا کوئی نظام کامیاب نہیں ہوسکتا۔ سب کے سامنے وزارتوں کی کارکردگی کے اعلان سے گورننس سسٹم بہتر ہوگا۔

نجی شعبوں میں کارکردگی کی بنیاد پر بونس ملتے ہیں، لوگ سرکاری ہسپتال اسی لیے نہیں جاتے کیونکہ وہاں کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی۔وزیر اعظم نے کہا کہ آغا خان، الشفا اور شوکت خانم کو عالمی سطح پر اسی لیے مانا جاتا ہے کیونکہ وہاں  کارکردگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔ اور ترقی پرفارمنس کی بنیاد پر ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو خودانحصار بنانے کے لیے وزارتوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمیں منفرد حل تلاش کرنا ہوں گے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ ان اعزازات کا معیار قومی مفادات کے لیے ان وزارتوں کی کارکردگی، ایکسپورٹس بڑھانے اور عوام کے مسائل حل کرنے میں ان وزارتوں کا کردار ہونا چاہیے۔

وزارتوں کی پرفارمنس کا اس بنیاد پر جائزہ لیں کہ کون معمول سے ہٹ کر کچھ منفرد سوچ سکتا ہے، ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم کیسے لوگوں کی زندگیاں آسان بناسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کچھ بیوروکریٹس نیب کے خوف سے اقدامات نہیں اٹھاتے تھے جس سے بڑا نقصان ہوتا تھا۔ لیکن ہم نے اب وہ رکاوٹ بھی ختم کردی۔

انہوں نے کہا کہ ہم پرفارمنس کی بنیاد پر بونس بڑھاتے رہیں گے اور اگر وزارتیں کچھ نہ کررہی ہوں تو سزا کا تصور بھی لائیں گے۔