یوکرین سے امریکیوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا مشورہ
- جمعہ 11 / فروری / 2022
- 3920
امریکی صدر جو بائیڈن نے روسی فوجی کارروائی کے بڑھتے خدشے کے باعث یوکرین میں مقیم تمام امریکی شہریوں سے فوری طور پر ملک چھوڑنے کا کہا ہے۔
بائیڈن کا کہنا تھا کہ اگر ماسکو نے یوکرین پر حملہ کیا تو امریکی فوج امریکی شہریوں کو ریسکیو کرنے نہیں آئے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں حالات اچانک خراب ہو سکتے ہیں۔
ادھر روس کی جانب سے بارہا تردید کی گئی ہے کہ وہ یوکرین پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن اس کی جانب سے یوکرین کی سرحد پر ایک لاکھ سے زیادہ فوجی تعینات کیے جا چکے ہیں۔ روس نے ہمسایہ ملک بیلاروس سے مل کر بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں اور یوکرین نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس کی سمندر تک رسائی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔
کریملن کا کہنا ہے کہ وہ 'سرخ لکیر' کھینچنا چاہتا ہے تاکہ اس کا سابق سوویت ہمسایہ نیٹو میں شامل نہ ہو سکے۔ برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے جمعرات کو کہا تھا کہ یورپ اس وقت اس تناؤ کے باعث کئی دہائیوں میں سب سے بڑے سکیورٹی بحران کا شکار ہے۔
امریکہ کے دفترِ خارجہ نے بھی یوکرین میں موجود امریکیوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا کہا ہے۔ این بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ 'امریکی شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑ دینا چاہیے۔' ہم اس وقت دنیا کے سب سے بڑی فوجوں میں سے ایک سے نبرد آزما ہیں۔ یہ بہت مختلف صورتحال ہے اور یہ بہت تیزی سے خراب ہو سکتی ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے کہ انہیں وہاں موجود امریکیوں کو ریسکیو کرنے کے لیے فوج بھیجنی پڑے۔ اس پر بائیڈن نے جواب دیا: 'نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔'
اگر امریکی اور روسی ایک دوسرے پر حملہ کر دیں تو یہ عالمی جنگ بن جائے گی۔ ہم پہلے کی نسبت ایک بہت مختلف دنیا میں زندہ ہیں۔
دریں اثنا عالمی رہنما یوکرین کے حالیہ بحران پر قابو پانے کے لیے سفارت کاری کی کوششوں کو مزید تیز کر رہے ہیں۔ روس اور یوکرین نے جمعرات کی شام یہ اعلان کیا تھا کہ فرانسیسی اور جرمن حکام کے ساتھ اس تنازع کے خاتمے کے بارے میں ہونے والی ایک دن کی بات چیت کے بعد کسی نتیجے پر نہیں پہنچے۔
حالیہ تناؤ روس کی جانب سے یوکرین کے جنوب میں واقع جزیرہ نما کرائمیا کے کچھ حصے پر قبضے کے آٹھ برس بعد سامنے آیا ہے۔ اس کے بعد سے یوکرین کی فوج روس کی سرحد کے قریب روسی حمایت یافتہ باغیوں سے ملک کے مشرقی علاقوں میں جنگ مصروف ہے۔
اس سے قبل، برطانیہ کے وزیرِ اعظم نے امید ظاہر کی تھی کہ جنگ روکنے کی بھرپور کوششیں اور سفارت کاری میں صبر کا مظاہرہ، اس بحران سے نکلنے میں مدد دے سکتا ہے لیکن بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔
برسلز میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل ینس ستولتنبرگ کے ساتھ ہونے والی مشترکہ نیوز کانفرنس میں بورس جانسن کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ روس نے ابھی تک یوکرین پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن برطانیہ کو ملنے والی انٹیلیجنس بھی حوصلہ افزا نہیں ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ برطانیہ یوکرین کی مدد میں کس حد تک جا سکتا ہے اور اگر روس حملہ کرتا ہے تو کیا اس کی امداد میں فوجی مدد بھی شامل ہو گی تو بورس جانسن نے کہا کہ 'ہم اس بات پر غور کریں گے کہ ہم اس بارے میں مزید کیا مدد کر سکتے ہیں۔'