نادہند ہونے پر فوری طور سے سعودی قرض واپس کرنا ہوگا: شوکت ترین
- جمعہ 11 / فروری / 2022
- 6340
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب سے لیے گئے قرض کے معاہدے میں یہ شرط شامل ہے کہ کسی قرض پروگرام میں نادہندہ ہوجانے کی صورت میں 72 گھنٹوں میں سعودی قرض واپس کرنا پڑے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسی شرائط شامل ضرور کی جاتی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس پر وہ عمل کریں گے۔ سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق کی جانب سے 4 فیصد کی بلند شرح سود پر قرض لینے اور اس کے باوجود معاشی زبوں حالی سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت سعودی عرب سے لیے گئے قرض کی مدت ایک سال ہے اور ضرورت پڑی تو اس میں توسیع کی درخواست کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہماری برآمدات بڑھ رہی ہیں اور ترسیلات زر کی شرح بھی اچھی ہے، اس لیے میرے خیال میں اس میں توسیع نہیں کروائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شرح سود 4 فیصد ہونے کی وجہ یہ ہے دنیا بھر میں قرضوں پر شرح سود بڑھی ہے۔ آئی ایم ایف سے جو قرض لیا جاتا ہے اس کے مقابلے میں یہ ٹھیک ہے، 2 سال قبل اگر 3.25 شرح سود تھی تو دنیا میں اب شرح سود کی صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے لیے گئے قرض کو خرچ کیا جاسکتا ہے لیکن اس قرض سے اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں جس سے بیرونی سطح پر ساکھ بہتر اور روپے پر دباؤ کم ہوتا ہے لیکن اگر ضرورت پڑی تو خرچ کیا جاسکتا ہے۔
قرض کی شرائط میں کسی بین الاقوامی قرض دہندہ کے نادہندہ ہوجانے کی صورت میں 72 گھنٹوں میں قرض کی رقم واپس کرنے کی شق شامل ہونے کے سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ شرائط شامل کی جاتی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس پر وہ عمل کریں گے۔ شوکت ترین نے تصدیق کی کہ سعودی قرض کے معاہدے میں یہ شرط شامل ہے کہ ڈیفالٹ کی صورت میں یہ قرض واپس کیا جائے لیکن انشا اللہ ہم ڈیفالٹ ہی نہیں کریں گے۔
وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ ہمارے مخالف ملک سیاسی ایجنڈے کے تحت ہماری مخالفت کررہے ہیں جب کہ فیٹف میں ہمارے خلاف جن ممالک نے پوزیشن لی ہوئی ہے وہ ہمارے دوست ہیں۔
وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ ہم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 40 فیصد تک اضافہ کیا ہے۔ہماری ایکسپورٹ میں 25 سے 28 فیصد اضافہ ہوا، روپے پر پریشر تھا اب روپیہ 174 پر آگیا ہے۔ اس وقت روپیہ انڈر ویلیو نہیں ہے، ایک دو روپے کا فرق ہے۔ ہم نے چینی، گندم امپورٹ کی جس کے باعث امپورٹ بل میں اضافہ ہوا۔ صرف جنوری میں امپورٹ بل میں 1.5 ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔ دو ارب ڈالر کی کورونا ویکسین خریدی گئی۔
ایف اے ٹی ایف پر جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے 28 شرائط تھیں، جن میں سے پاکستان نے 27 شرائط پوری کردی ہیں اور اٹھائیسویں نمبر کے شرط کے بھی کچھ نکات کو پورا کیا ہے۔ محض ایک شرط ہے وہ بھی ٹرانسزیکنشل ہے، اس کے باوجود ہمیں جان بوجھ پر دباؤ کا شکار اور انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اگر کوئی اور ملک اٹھائیس میں سے ستائیس شرائط پورا کرتا تو وہ کب کا گرے لسٹ سے نکل جاتے۔
شوکت ترین نے کہا کہ ہمارے مخالف ملک سیاسی ایجنڈے کے تحت ہماری مخالفت کررہے ہیں، جب کہ فیٹف میں ہمارے خلاف جن ملکوں نے پوزیشن لی ہوئی ہے وہ ہمارے دوست ہیں۔ نگراں حکومت میں ہم فیٹف کی گرے لسٹ میں گئے، پچھلی حکومت میں ہم وائٹ لسٹ میں تھے۔