عدم اعتماد کی سیاست کے امکانات

پاکستانی سیاست میں حزب اختلاف کی سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے ہر محاذپر کچھ نہ کچھ  مہم جوئی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاکہ اس مہم جوئی کی مدد سے اپنی سیاست، جماعت اور کارکنوں کو یکجا رکھا جائے۔پاکستان کی مجموعی سیاست میں حزب اختلاف مثبت سیاست کے مقابلے میں منفی سیاست پر زیاد ہ زور دیتا ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ ایک عمومی خیال یہ ہوتا ہے کہ سیاست میں حزب اختلاف کے پاس  متبادل کی بجائے حکومت کے خلاف  محاذ آرائی پر مبنی  ایجنڈا ہی  ہوتا ہے۔اس لیے جہاں ہمیں حکمران طبقات میں مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں وہیں حزب اختلاف کی سیاست بھی محض الزام تراشی،  حکومت گرانا اور ٹکراؤ کی  کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ اس وقت پاکستان کی سیاست میں حزب اختلاف بظاہر حکومت کی تبدیلی کی خواہش مند ہے۔ یہ ہی وجہ حزب اختلاف کی جماعتیں اپنی داخلی سیاست کے ساتھ ساتھ حکومتی اتحادی جماعتوں کو بھی ٹارگٹ کرکے ”تحریک عدم اعتماد“ کی مدد سے وزیر اعظم عمران خان کو رخصت کرنے کا ایجنڈا لے کر سیاسی میدان میں کودی ہے۔بظاہر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ حزب اختلاف کی تینوں بڑی قوتوں جن میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی شامل ہیں تحریک عدم اعتماد پر متفق ہوچکی ہیں۔پچھلے ساڑھے تین برسوں میں پی ڈی ایم او رپیپلزپارٹی یا مولانا فضل الرحمن نے حکومت کے خاتمہ میں جو بھی حکمت عملی اختیار کی وہ نتیجہ خیز نہیں ہوسکی۔مولانا فضل الرحمن کے لانگ مارچ کے خاتمہ پر مولانا فضل الرحمن نے اس یقین دہانی پر دھرنا ختم کیا تھا کہ چھ ماہ بعد حکومت کو گھر بھیج دیا جائے گا۔لیکن مولانا کا یہ خواب محض خواہش بن کر ہی رہ گیا ان کو  سیاسی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

بہت سے سیاسی پنڈت مارچ کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں اور وہ میڈیا کے افرادجو صحافت سے زیادہ حزب اختلاف کے ایجنڈے کو بنیاد بنا کر حکومت مخالف مہم کا حصہ ہیں ان کے بقول حزب اختلاف اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان حکومت کی رخصتی کے معاملات طے ہوچکے ہیں۔ اگرچہ حکومتی کیمپ میں سب اچھا نہیں او ران کی اتحادی جماعتیں بھی روائتی انداز میں ان پر تنقید کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہیں جیسے وہ بھی حکومت سے نالاں ہیں۔لیکن جب بھی حکومت کو عددی تعداد میں اتحادی جماعتوں کی ضرورت ہوتی ہے تو یہ ہی اتحادی جماعتیں تمام تر تحفظات کے باوجود حکومتی حمایت میں پیش پیش ہوتی ہیں۔ اس لیے حکومت کو فی الحال حزب اختلاف پر معمولی سی سیاسی برتری حاصل ہے۔ یہ جو دلیل پیش کی جاتی ہے کہ حکمران جماعت میں سے بیس سے پچیس افراد حزب اختلاف کے رابطوں میں ہیں کوئی نتیجہ نہیں دے سکی بلکہ ان کے اپنے  ممبران اسمبلی میں ووٹنگ کی سیاست میں منظر سے غائب ہوجاتے ہیں۔

پچھلے دنوں آصف زرداری، بلاول بھٹوکی شہباز شریف، حمزہ شہباز، مریم نواز سمیت چوہدری برادران سے ملاقاتیں، شہباز شریف سے ایم کیو ایم کے وفد کی لاہو رآمد اور ملاقات،فضل الرحمن کی ایم کیو ایم سے ملاقات کو سیاسی حلقوں میں بڑی اہمیت دی جارہی ہے۔ اگرچہ ایم کیو ایم اور چوہدری برادران نے ابتدائی طور پر ان تمام امور کی سختی سے تردید کی ہے کہ ہم تحریک عدم اعتماد میں حزب اختلاف کے ساتھ کھڑے ہیں۔دوسری طرف تحریک عدم اعتماد کے تناظر میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی میں اعتماد سازی ک مقابلے میں بداعتمادی کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔یہ بات ہی طے نہیں ہوسکی کہ تحریک عدم اعتماد کس کے خلاف پیش کرنی ہے۔ کیا چیرمین سینٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، وزیر اعلی پنجاب یاسیدھا وزیر اعظم کو ٹارگٹ کرنا ہے۔پیپلزپارٹی اگر تحریک عدم اعتماد میں آگے آتی ہے تو اس کا  مقصد وزارت عظمی ہوگا۔لیکن کیا اس تحریک کی کامیابی کے بعد پیپلز پارٹی فوری طور پر اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات کا راستہ اختیار کرے گی، ممکن نظر نہیں آتا۔ کیونکہ سندھ میں ان کی اپنی صوبائی حکومت ہے وہ نہیں چاہیں گے وقت سے پہلے ان کی اسمبلی یا حکومت رخصت ہو۔جبکہ مسلم لیگ ن کبھی نہیں چاہے گی کہ پیپلز پارٹی کا وزیر اعظم اگلے ڈیڑھ برس حکومت کا حصہ رہے۔اسی طرح تحریک عدم اعتماد پرمسلم لیگ ن دو حصوں میں تقسیم ہے۔ایک اس کی حمایت کرتا ہے تو دوسرااس کی مخالفت کرتا ہے۔ اس لیے بڑا مسئلہ مسلم لیگ ن کا اپنا داخلی بحران ہے جہاں شہباز شریف کی حیثیت کمزور او رنواز شریف یا مریم کی سوچ زیادہ غالب ہے۔خاقان عباسی، خواجہ آصف، رانا تنویرسمیت کئی لوگ پیپلزپارٹی پر اعتماد کے لیے تیار نہیں۔

پیپلز پارٹی پنجاب کو بھی ٹارگٹ کرنا چاہتی ہے او ران کی حمایت پرویز الہی ہیں۔ اول مسلم لیگ ن پنجاب میں تبدیلی کی حامی نہیں کیونکہ ایسی صورت میں وزرات اعلی شریف خاندان سے باہر ہوگی یا وہ کسی بھی صورت میں پر ویز الہی کو بطور وزیر اعلی قبول نہیں کریں گے۔دلچسپ پہلو یہ ہے کہ حزب اختلاف کی اس سیاسی تقسیم کا سب سے بڑا فائدہ عمران خان کی حکومت کو ہورہا ہے جو سمجھتی ہے کہ یہ لوگ اپنی اپنی حکمت عملی میں مشترکہ نکات پر یکجا نہیں ہوسکیں گے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا تحریک عدم اعتماد پیش کرنے سے قبل پس پردہ قوتوں نے ان کی حمایت کی ہے یا یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں ہورہا ہے۔ کیونکہ یہ سوال حزب اختلاف میں زیر بحث ہے کہ اگر طاقت کے مراکز تحریک عدم اعتماد کی حمایت نہیں کرتے تو ہمیں ایسی مہم جوئی کا نتیجہ اور زیاد ہ سیاسی مشکلات کی صورت میں مل سکتا ہے۔کیونکہ اگر تحریک عدم اعتماد ناکام ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں حزب اختلاف سیاسی طور پر نقصان بھی ہوگا او رحکومت کو ایک اور سیاسی برتری حاصل ہوگی۔

جہاں تک اتحادی جماعتوں کا تعلق مسلم لیگ ق او رایم کیو ایم یقینا دباؤ کی سیاسی حکمت عملی اختیار کرتی ہیں۔ ایم کیو ایم کو کبھی بھی اپوزیشن کی سیاست پسند نہیں اور نہ ہی وہ طاقت کی سیاست سے خود کو علیحدہ رکھ سکتی ہے۔ پنجاب میں ایم کیو ایم اپنی کم عددی تعداد کے باوجود زیادہ بہتر انداز میں حکومت سے فائدہ اٹھارہی ہے۔ یہ جماعتیں بھی اسی صورت میں حکومت مخالف فیصلہ کرسکتی ہیں جب طاقت کے مراکز واقعی کوئی بڑی تبدیلی چاہتے ہیں۔ دراصل اتحادی جماعتیں حزب اختلاف کا سیاسی کندھا استعمال کرکے حکومت کو مجبور کرتی ہے کہ ان کو اقتدار کی عملی شراکت میں اور زیادہ حصہ دیا جائے۔اگر عمران خان حکومت کو کہیں بھی اندازہ ہوا کہ حالات ان کے قابو میں نہیں او ران کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوسکتی ہے تووہ اسمبلی توڑنے کا آپشن بھی اختیار کرسکتے ہیں۔ یہ بیان بھی وزیر اعظم کا موضوع بحث رہا ہے کہ اگر وہ واقعی اقتدار میں نہ رہے تو اپنے مخالفین کے لیے اور زیادہ مشکلات پیدا کریں گے۔اس وقت کسی بھی قسم کی مہم جوئی جو عمران خان حکومت کو گرانے کا سبب بنے گی اس کا عملی نتیجہ عمران خان کو کمزور کم او رمضبوط زیادہ بنائے گا۔

وزیر اعظم جو ہمیشہ فرنٹ پر اور جارحانہ انداز میں کھیلنے کے عادی ہیں ان کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کے نعرے کو کمزو رکرنے کے لیے عملی طور پر براہ راست عوامی رابطہ مہم اور سیاسی جلسوں کا اعلان کردیا ہے۔وہ جلسوں کی سیاست سے یہ تاثر بھی دینا چاہتے ہیں کہ عوامی فرنٹ پر ان کو کمزور نہ سمجھا جائے اور وہ تمام تر مشکلات کے باوجود اب بھی پاپولر سیاست دان ہیں۔دوسرا فروری او رمارچ ایسے مہینہ ہیں جہاں کوئی سیاسی مہم جوئی ہوسکتی ہے وگرنہ اپریل میں رمضان المبارک اور عید کے بعد چاروں صوبوں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کی سیاسی مہم بھی حزب اختلاف کو تحریک عدم اعتماد سے زیادہ کہیں اور الجھا کر رکھ دے گی۔حزب اختلاف کی مجموعی سیاست میں آصف زرداری نے زیادہ بہتر کارڈ کھیلے ہیں اور انہوں نے پی ڈی ایم کے مقابلے میں خود کو متبادل کے طور پر پیش کیا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے سیاسی شوشے میں بھی پیپلزپارٹی نے دیگر اپوزیشن جماعتوں کو اپنے پیچھے لگایا ہے۔

اصولی طور پر اب تحریک عدم اعتماد سے وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کا نہیں بلکہ سب کی نظریں نئے انتخابات پر ہونی چاہیے اور تبدیلی کا عمل انتخابات کی صورت میں ہی ہونا چاہیے۔اگرچہ تحریک عدم اعتماد ایک آئینی راستہ ہے لیکن اس میں جو سیاسی پیچیدگیاں ہیں اس سے حزب اختلاف کا سیاسی فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوگا۔یہ بات حزب اختلاف بھی سمجھتی ہے لیکن خود کو سیاست میں زندہ رکھنے کے لیے حکومت پر دباؤ  ڈالنا اور ان کو سیاسی طور پر کمزور رکھنا بھی ان کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔