کیا نواز شریف کی حکمت عملی کامیاب ہورہی ہے
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 11 / فروری / 2022
- 13220
ملک میں دیگر تمام مسائل اور معاملات کو بھلا کر اس ایک معاملہ پر بحث ہورہی ہے کہ کیا لاہور میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے لیڈروں کی ملاقات کے بعد وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجائے گی۔ خاص طور سے عمران خان کو اقتدار سے محروم کرنے کے معاملہ میں نواز شریف نے اعتراض واپس لے کر ان قیاس آرائیوں میں شدت پیدا کی ہے۔ خیال کیاجارہا ہے کہ نواز شریف کے اشارے کے بعد قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرلینا مشکل نہیں ہوگا۔
اس یقین کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اسٹبلشمنٹ نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اب وہ سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد سے یہ اشارے دیتے رہے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ اب نیوٹرل ہوچکی ہے۔ اس یقین دہانی یا اشاروں سے یہ قیاس کیا جارہا ہے کہ اگر اپوزیشن اتفاق رائے سے موجودہ حکومت کو ہٹانے کے لئے اقدام کرتی ہے تو اسٹبلشمنٹ کے اشارے پر رائے دینے والے ارکان صرف سیاسی نقطہ نظر اور اپنے ذاتی مفاد کے حوالے سے فیصلہ کریں گے۔ اپوزیشن کے خیال میں ایسی کسی صورت میں وہ موجودہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد لاسکتی ہے۔
عدم اعتماد کی کامیابی یا ناکامی سے قطع نظر اس قسم کا انتہائی اقدام ملکی سیاست اور آئینی انتظام پر دوررس اثرات مرتب کرے گا۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں ان مشکلات سے آگاہ نہ ہوں۔ سب سے بڑی مشکل تو یہی ہوگی کہ عدم اعتماد کے بعد عبوری حکومت کون قائم کرے گا۔ اس حوالے سے گزشتہ دنوں یہ خبر بھی چلوائی گئی تھی کہ نواز شریف اس صورت میں آصف زرداری کو عبوری وزیر اعظم کے طور پر قبول کرنے پر آمادہ ہیں۔ اگر ان افواہ نما خبروں میں کچھ صداقت موجود ہے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ نواز شریف کا سارافوکس آئیندہ انتخابات پر ہوگا تاکہ وہ 2023 کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرکے مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم کرواسکیں۔ تاہم آصف زرداری یا پیپلز پارٹی کو عبوری طور پر ہی سہی، حکومت سونپنا سیاسی خطرات سے خالی نہیں ہوگا۔ کیا نواز شریف نے یہ حتمی فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ عمران خان سے نجات پانے کے لئے پیپلز پارٹی پر مکمل ’بھروسہ‘ کرنے پر تیار ہیں؟ اس سے پہلے آصف زرداری اور پیپلز پارٹی نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ متعدد مواقع پربدعہدی کرچکے ہیں۔
عمران خان کی حکومت گرانے کے بعد عبوری حکومت قائم کرنے کا معاملہ یوں بھی اہم ہے کہ مسلم لیگ (ن) یا نواز شریف کی طرح پیپلز پارٹی مقررہ وقت سے پہلے انتخابات کی حامی نہیں ہے۔ سندھ میں اس کی حکومت ہے اور وہ آئیندہ انتخابات سے پہلے اس سے دست بردار ہونے پر آمادہ نہیں ہے۔ تحریک انصاف کے خلاف ابھرنے والی ناپسندیدگی کی فضا میں پیپلز پارٹی کو ایک سال ہی کے لئے سہی اگر مرکز میں حکومت قائم کرنے کا موقع ملتا ہے تو وہ شاید اسے اپنے لئے مفید سمجھے گی۔ مسلم لیگ (ن) عبوری مدت کے لئے حکومت لینے سے کترا رہی ہے کیوں کہ اسے اندیشہ ہے کہ اس صورت میں عمران خان حکومت کی معاشی ناکامیوں کا سارا ملبہ اس کے سر پڑے گا اور انتخابات میں اس کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کو ایسا اندیشہ کیوں لاحق نہیں ہے؟
موجودہ حکومت گرانے کی صورت میں اگر پیپلز پارٹی کو حکومت سازی کا موقع ملتا ہے تو وہ یوں بھی اسے خوش دلی سے قبول کرنے پر آمادہ ہے کہ فوری انتخابات کی صورت میں شاید اس کے لئے سند ھ میں اکثریت قائم رکھنا بھی ممکن نہ رہے لیکن مرکز میں عبوری مدت کے لئے حکومت ملنے کی صورت میں پیپلز پارٹی کئی محاذوں پر اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرسکتی ہے۔ ایک تو اسے سندھ میں تحریک انصاف کی حکومت سے براہ راست چیلنج درپیش رہا ہے۔ یہ مشکل ٹلنے کے بعد وہ ایسے سیاسی اقدامات کرسکے گی جو آئیندہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کی کامیابی کو یقینی بنا سکیں۔ اس کے علاوہ حکومت کے اس ایک سالہ دورانیہ کو خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کے لئے استعال کیا جاسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے لیڈروں کو یقین ہے کہ خاص طور سے جنوبی پنجاب کو کچھ سہولتیں دے کر 2023 کے انتخابات میں وہاں سے خاطر خواہ کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایسے میں اگر مسلم لیگ (ن) باقی ماندہ پنجاب میں اکثریت حاصل کر بھی لے تو بھی اقتدار تک اس کا راستہ روکنے کا بند و بست کیا جاسکتا ہے۔
اس تجزیہ کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ مرکز میں حکومت لے کر پیپلز پارٹی خود کو عوام کے نجات دہندہ کے طور پر پیش کرے گی اور قوم کو باور کروایا جائے گا کہ ایک ایسے بحران کے وقت جب مسلم لیگ (ن) بھی سیاسی ذمہ داری لینے سے گریز کررہی تھی تاکہ اسے ووٹوں کا نقصان نہ ہوجائے، پیپلز پارٹی نے اپنے سیاسی مستقبل کی فکر کئے بغیر عمران خان سے قوم کو نجات دلانے کے لئے حکومتی ذمہ داری قبول کرلی حالانکہ تحریک انصاف کی غلطیوں کا سارا بوجھ اسے اٹھانا پڑا۔ پارٹی قیادت کو یہ احساس بھی ہوگا کہ مرکزی حکومت کے اختیارات کے تحت وہ پارٹی کی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کے لئے زیادہ منظم طریقے سے کام کرسکتی ہے۔ خاص طور سے ہوا کا رخ دیکھ کر چلنے والے الیکٹ ایبلز کو یہ باور کروایا جاسکے گا کہ پیپلز پارٹی کو اسٹبلشمنٹ کی حمات حاصل ہے، اس لئے اس کا ہاتھ تھامنے والے اگلے مرحلے میں فائدے میں رہیں گے۔ پیپلز پارٹی کے لیڈر یہ امید بھی کرسکتے ہیں کہ پنجاب میں تحریک انصاف بہر حال مسلم لیگ (ن) کے لئے بڑا چیلنج ہوگی۔ اور اس کی مکمل انتخابی کامیابی کا خواب ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے جس کا حتمی فائدہ پیپلز پارٹی حاصل کرسکے گی۔
ماضی قریب میں سینیٹ انتخابات کے بعد رونما ہونے والے واقعات میں اس بات کے اشارے سامنے آئے تھے کہ آصف زرداری اسٹبلشمنٹ سے قربت قائم کرنے اور خود کو عمران خان کے متبادل کے طور پر پیش کرنےمیں کامیاب ہورہے ہیں۔ اسٹبلشمنٹ میں نواز شریف کے اشاروں پر چلنے والی مسلم لیگ (ن) کے بارے میں تحفظات زیادہ شدید ہیں۔ اس لئے تحریک انصاف کے تجربے کی ناکامی کے بعد پیپلز پارٹی ایک بہتر متبادل ہوسکتی ہے۔ ایک تو پنجاب میں پیپلز پارٹی کو پہلے جیسی طاقت حاصل نہیں ہے اور اس کمزوری کی وجہ سے نواز شریف یا مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں اس کے ساتھ معاملات کرنا آسان ہوگا۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی گزشتہ انتخابات میں اگرچہ سندھ کے علاوہ کسی صوبہ میں قابل ذکر نمائیندگی حاصل نہیں کرسکی تاہم آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کا وفاقی امیج برقرار رکھا ہے۔ اب بھی پنجاب کے علاوہ خیبر پختون خوا میں پیپلز پارٹی کا بنیادی ڈھانچہ موجود ہے جس پر محنت کی صورت میں ان صوبوںمیں پارٹی کو سیاسی لحاظ سے مستحکم کیا جاسکتا ہے۔
اپوزیشن اگر مارچ کے دوران عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے اور کامیاب کروانے میں کامیاب ہوجائے تو کسی بھی عبوری وزیر اعظم کو پاک فوج کے نئے سربراہ کی تقرری بھی کرنا ہو گی۔ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بدستور توسیع کے امید وار دکھائی دیتے ہیں۔ یعنی ایک مزید توسیعی مدت کے لئے فوج کے کمانڈر رہنا چاہتے ہیں۔ نیا وزیر اعظم ان کی یہ خواہش پوری کرکے اسٹبلشمنٹ کا پلڑا پنی طرف جھکانے کی کوشش کرسکتا ہے یا مرضی کا آرمی چیف لاکر اپنے لئے سیاسی سہولت کا سامان مہیا کرسکتا ہے۔
گویا بین السطور یہ بات کہی اور تسلیم کی جارہی ہے کہ اسٹبلشمنٹ بدستور ملکی سیاست میں اہم کردار ہے اور اسے ساتھ ملائے بغیر نہ تو کوئی سیاسی تبدیلی لائی جاسکتی ہے اور نہ ہی کوئی مستحکم حکومت قائم ہو سکتی ہے۔ ان حالات میں نواز شریف کس بنیاد پر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے اور بظاہر پیپلز پارٹی کی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے پر آمادہ ہورہے ہیں۔ ان کا مؤقف تو یہ رہا ہے کہ وہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے مخالف نہیں ہیں لیکن اسٹبلشمنٹ کی حمایت سے ایسا سیاسی اقدام نہیں کرنا چاہتے۔ مریم نواز کے اس بیان کے بعد کہ اب عدم اعتماد کے لئے فضا سازگار ہے، یہ ظاہر ہورہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے معاملہ کو نواز شریف کی تائد حاصل ہوچکی ہے۔ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد کی تیاری اس بنیاد پر ہی کررہی ہے کہ اسٹبلشمنٹ سیاسی پیش رفت میں تحریک انصاف کی حمایت نہیں کرے گی۔ ملک میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی کے عمل میں اسٹبلشمنٹ کا یہ اقرار کہ وہ سیاست میں ملوث نہیں ہوگی درحقیقت سیاسی منظر نامہ میں ایک اہم وقوعہ ہوگا۔ اگر نواز شریف کے اصرار پر اپوزیشن پارٹیاں اسٹبلشمنٹ کو اس حد تک لانے میں کامیاب ہوگئی ہیں تو یہ بجائے خود عمران خان کو اقتدار سے محروم کرنے سے بڑی کامیابی ہے۔
اسٹبلشمنٹ کو ’نیوٹرل‘ کرنے کے اس عمل میں نواز شریف کی استقامت اور سخت سیاسی مؤقف کا اہم کردار ہے جسے تسلیم کرنا ضروری ہے۔ تاہم کیا نواز شریف اپنی اس کامیابی کو محض عمران خان کو اقتدار سے محروم کرنے کے امکان پر ضائع کرنے کے لئے آمادہ ہوچکے ہیں۔ کیا وہ نہیں چاہیں گے کہ اسٹبلشمنٹ اگر سیاست سے گریز کر کے اپنے آئینی کردار تک محدود ہونے پر مجبور ہوچکی ہے تو اپنی ناکامیوں کے ہاتھوں کمزور ہونے والی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی بجائے اسے پارلیمنٹ میں ٹف ٹائم دیا جائے اور اس دوران آئیندہ انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کی جائے۔ اگر تحریک عدم اعتماد لائی جاتی ہے تو کامیابی یا ناکامی سے قطع نظر یہ تصور کیا جائے گا کہ اپوزیشن کا مطمح نظر محض اقتدار کا حصول تھا؟
یہ بھی ممکن ہے کہ تحریک عدم اعتماد لانے کی ’تیاریاں‘ عمران خان کو بدحواس کرنے اور کسی سیاسی غلطی پر مجبور کرنے کے کی چال ہو اور درحقیقت تحریک عدم اعتماد لانے کا کوئی پروگرام طے نہ کیا گیا ہو۔ آئیندہ چند ہفتوں میں یہ صورت حال واضح ہوجائے گی۔ البتہ سیاسی قوتیں جمہوری جد و جہد میں اگر اسٹبلشمنٹ کو اس کی غلطیاں تسلیم کروانے میں کامیاب ہوئی ہے تو اس کا سہرا بلا شبہ نواز شریف کی سیاسی حکمت عملی کے سر باندھا جائے گا۔