ہجوم نے ذہنی مریض کو توہین قرآن کے الزام میں بے دردی سے قتل کردیا
- اتوار 13 / فروری / 2022
- 4210
پاکستان میں پولیس نے ضلع خانیوال میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ایک شخص کی ہلاکت کا مقدمہ 33 نامزد اور 300 نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کی جانب سے اس واقعے میں ملوث 15 مرکزی ملزموں سمیت 85 افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
پنجاب پولیس کے مطابق واقعے کی ابتدائی رپورٹ وزیراعلی پنجاب کو پیش کر دی گئی ہے اور پولیس نے ملزمان کو پکڑنے کے لیے رات گئے مختلف مقامات پر 120 سے زائد چھاپے مارے ہیں اور دستیاب فوٹیجز کے فرانزک تجزیے کی مدد سے ملزمان کی شناخت اور ان کے کردار کا تعین کیا جائے گا۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ مزید افراد کی گرفتاری کے لیے ان کی ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں۔
یاد رہے گذشتہ روز ضلع خانیوال میں مشتعل ہجوم نے مبینہ توہینِ مذہب کے الزام میں تشدد کر کے ایک شخص کو ہلاک کر دیا تھا۔ خانیوال سے صحافی قلزم بشیر احمد کے مطابق واقعے میں ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت مشتاق احمد ولد بشیر احمد کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ قریبی گاؤں بارہ چک کے رہائشی تھے اور ان کی میت ان کے سوتیلے بھائی نے وصول کرلی ہے۔ قلزم بشیر احمد کے مطابق ’بارہ چک کے رہائیشیوں نے بتایا ہے کہ ملزم کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا اور وہ کئی کئی دن گھر سے باہر رہتے تھے۔ ذہنی توازن درست نہ ہونے کی بنا پر ان کی اہلیہ نے بھی چار سال قبل ان سے علیحدگی اختیار کرلی تھی اور بچے بھی اپنے ہمراہ لے گئی تھیں۔‘
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی فرد یا گروہ کی جانب سے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش قطعاً گوارا نہیں کی جائے گی اور پُرتشدد ہجوم کو نہایت سختی سے کچلیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے آئی جی پنجاب سے میاں چنوں واقعے کے ذمہ داروں اور فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی تفصیلات طلب کی ہیں۔
پنجاب کے وزیرِاعلیٰ عثمان بزدار نے نے بھی اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے ’ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر خلاف سخت ترین قانونی کارروائی‘ کی ہدایت کی ہے۔
تلمبہ پولیس سٹیشن میں اس واقعے کا مقدمہ ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ درج مقدمے میں انسپکٹر منظور حسین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’جب ہمیں اطلاع ملی کہ ایک نامعلوم شخص نے قرآن پاک کو آگ لگی دی ہے تو ہم موقع پر پہنچے جہاں لوگ اکھٹے تھے اور نعرے لگا رہے تھے اور ایک نامعلوم شخص کو رسی سے باندھ کر تشدد کررہے تھے۔‘ پولیس نے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش مگر وہ بدستور ڈنڈوں اور سوٹیوں سے اس شخص کو مارتے رہے۔ ملزماں کے تشدد سے مذکورہ شخص ہلاک ہو گیا تو اس کی لاش کو درخت سے باندھ دیا گیا جس سے خوف و ہراس پھیل گیا۔