تلمبہ میں توہین قرآن پر قتل ہونے والا شخص ذہنی مریض تھا
- سوموار 14 / فروری / 2022
- 4210
خانیوال کے علاقے تلمبہ میں ذہنی طور بیمار شخص کے قتل کے ایک دن بعد اتوار کی شام تک 120 سے زائد چھاپوں کے دوران 85 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
اسی طرح کا ایک واقعہ گزشتہ روز فیصل آباد میں بھی سامنے آیا، تاہم پولیس نے مشتعل ہجوم کے ہتھے چڑھ جانے والے مشتبہ ملزم کی جان بچالی۔
تلمبہ سانحہ نے گزشتہ سال سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں سری لنکن شہری کی ہلاکت کے سنگین واقعے کی یاد تازہ کردی۔ حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس اندوہناک واقعے کو پوری قوم کے لیے باعث شرمندگی قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ مذمت کی تھی۔ حالیہ افسوسناک واقعے کے بعد وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی خانیوال پہنچے جہاں انہوں نے ایک پریس سے خطاب کرتے ہوئے اس واقعے کی شدید مذمت کی تھی۔
میاں چنوں میں جنازہ اور تدفین کے بعد ڈان سے بات کرتے ہوئے مقتول کے بڑے بھائی نے بتایا کہ مقتول 17 سے 18 سال سے ذہنی بیماری میں مبتلا تھے اور گزشتہ ماہ گاؤں واپس آنے سے پہلے تک کراچی میں دوسرے بھائی کے ساتھ رہ رہے تھے۔ وہ برسوں ہسپتال میں زیر علاج رہے لیکن صحت یاب نہیں ہو سکے۔ مقتول کی بیوی نے طلاق لے لی تھی جبکہ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی بھی ہے۔
مقتول کے بھائی نے مزید بتایا کہ گزشتہ روز وہ سگریٹ خریدنے گئے تھے، شام تک واپس نہیں آئے اور بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ انہیں توہین مذہب کے الزام میں قتل کردیا گیا ہے۔ مقتول کے بھائی نے بتایا کہ اہل علاقہ مقتول کی ذہنی حالت کے بارے میں جانتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہجوم نے پولیس کی موجودگی میں ان کے بھائی کو پتھر مار مار کر ہلاک کیا اور انہیں بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ مقتول کے بھائی نے شکایت کی کہ اس خوفناک واقعے کے بعد اس کے بھائی کی انگلیاں غائب تھیں۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ توہین مذہب کا مقدمہ ایک روز پہلے درج کیا گیا تھا جس کے شکایت گزار محمد رمضان نے بتایا تھا کہ شاہ مقیم مسجد سے دھواں اٹھتا دیکھ کر دو افراد اظہر عباس اور مختیار حسین وہاں پہنچے اور انہوں نے وہاں دیکھا کہ ایک نامعلوم شخص قرآن کو نذرِ آتش کررہا ہے۔
اس کے بعد لوگ وہاں جمع ہونا شروع ہوگئے اور اس شخص کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ تلمبہ پولیس کا کہنا تھا کہ جنگل ڈیرہ والا سے ایک کال کرنے والے نے ہفتے کی شام انہیں بتایا کہ انہوں نے ایک شخص کو پکڑا ہے جس نے مسجد میں قرآن پاک کے کچھ صفحات شہید کر دیے ہیں۔
پولیس کی ایک ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور ملزم کو حراست میں لے لیا۔ تاہم وہاں جمع ہونے والے کئی سو لوگوں نے مشتبہ شخص کو پکڑلیا اور اس پر پتھر اور اینٹیں برسانا شروع کر دیں۔ بعد میں ہجوم نے اس شخص کو درخت سے باندھ دیا اور پتھر مار مار کر اسے ہلاک کر دیا۔ پولیس کی بھاری نفری پہنچنے تک مشتبہ شخص ہلاک ہو چکا تھا۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیےہسپتال منتقل کیا گیا جس کے بعد لاش کو تدفین کے لیے لواحقین کے حوالے کر دیا گیا۔
دوسری جانب وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کا اپنے ٹوئٹر پیغام میں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ واقعہ قابل مذمت ہے اور اس کے ذمےداروں کو لازمی سزا دی جانی چاہیے۔ پنجاب حکومت کو فوری طور پر ان پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کرنی چاہیے جنہوں نے اس واقعے کو ہوتے ہوئے دیکھا اور خاموش رہے۔