ہم کیا کر سکتے ہیں

معروف برطانوی مفکر برٹرینڈرسل اپنے ایک مضمون "ہم کیا کر سکتے ہیں " میں رقم طراز ہیں کہ بہت سے مرد اور خواتین انسانوں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ پریشان خیالی میں مبتلا ہیں اور ان کی توانائیاں اور صلاحتیں بے حد معمولی دکھائی دیتی ہیں۔

اپنی ناتوانیوں کے تصور سے وہ گہری مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جن کا انسانی خدمت کا جذبہ زیادہ شدید ہوتا ہے، ان کو اپنی ناتوانی کے احساس سے رنج بھی زیادہ پہنچتا ہے۔ بات یہ ہے کہ توجہ اگر فوری مستقبل تک محدود رہے تو پھر لگتا ہے کہ ہم واقعتاً کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دے سکتے۔ کسی خون خرابے کو یا کسی بڑی جنگ کو ختم کروانا غالباً ہمارے بس کا روگ نہیں ہے۔ فوراً ہی ہم تعلیم سمیت کسی بھی شعبے میں نئی روح نہیں پھونک سکتے۔ اس قسم کے معاملات میں ہم کو خرابی اور بدی کا احساس تو ہو سکتا ہے لیکن ہم معمول کے طریقوں کی مدد سے ان کو یک دم ختم نہیں کر سکتے۔ ہم کو مان لینا چاہیے کہ دنیا کا نظام غلط طریقے سے چل رہا ہے اور یہ بھی کہ پلک جھپکتے ہی اس کو راہ راست پر نہیں لایا جا سکتا، لہذا ہماری امیدوں کا تعلق آنے والے کل یا مستقبل قریب سے نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہم کو وہ زمانے پیش نظر رکھنے چاہیں جب وہ تصورات اکثر لوگوں تک پھیل جائیں گے اور مقبول عام ہو جائیں گے جو آج صرف چند لوگوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔

ہم میں حوصلہ اور صبر ہو تو ہم ایسے خیالات پر غور وفکر کر سکتے ہیں اور ایسی امیدیں پال سکتے ہیں جو جلد یا بدیر لوگوں کو متاثر کریں گی اور ان کو عمل پر اکسائیں گی۔ رسل کہتے ہیں کہ خیالات کی طاقت بالآخر کسی اور انسانی طاقت سے عظیم ترثابت ہوتی ہے۔ جو لوگ سوچنے کی اہلیت رکھتے ہیں اورانسانی ضرورتوں کے مطابق سوچنے کا تخیل رکھتے ہیں وہ عام طور پر جلد (زندگی میں) یا بدیر (مرنے کے بعد) اپنا مقصد حاصل کر لیا کرتے ہیں۔

انفرادی و اجتماعی سطح پر ہم زندگی میں بہت کچھ کر سکتے ہیں لیکن ہم سب کے لیے کرنے کا سب سے پہلا کام یہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے مقصد حیات کا تعین کریں۔ مشہور امریکی ماہر تعلیم ہربرٹ ہاکس کے مطابق کالج میں فیل ہونے والے طلباء کو  دو کیٹیگریز میں شامل کیا جا سکتاہے۔ ایک وہ جوامتحان پاس کرنے کے لیے کوشش کرتے ہیں لیکن فیل ہوجاتے ہیں اور دوسرے وہ جو کوشش ہی نہیں کرتے۔ اسی طرح دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو ساری زندگی خواہشات کا غلام بن کر گزار دیتے ہیں اور دوسرے وہ جو کسی مقصد کے تحت جیتے ہیں۔ زندگی گزارنے اور زندگی جینے میں فرق مقصد حیات کے تعین کرنے یا نہ کرنے میں ہی مضمر ہے۔ کسی مقصد کے تحت جینے والوں کے برعکس مقصد کا تعین نہ کرنے والے لوگ بس دوسروں کی دیکھا دیکھی ایک روبوٹ کی طرح محنت کرتے زندگی گزارتے رہتے ہیں۔

نصب العین کے بغیر زندگی جینا بغیر چھت یا ستونوں کے دیواریں کھڑی کرتے جانے کے مترادف ہے۔مقصد کا تعین کرنے کے لیے فرصت اور یکسوئی کے لمحات میں اپنے آپ سے آپ کیا چاہتے ہو یا کرسکتے  ہو جیسے بنیادی سوال کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔ لیکن زیادہ تر لوگ یا تو زندگی بھر اپنے آپ سے یہ سوال ہی نہیں کر پاتے یا پھر خود کو ان سوالات کا کوئی مدلل جواب نہیں دے پاتے۔ مقصد کا تعین نہ کرنے والے اکثر وبیشتر لوگ ساری زندگی پریشان خیالی کا شکار رہتے ہیں۔ ایسے افراد بس ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کے تحت زندگی گزارتے رہتے ہیں۔ انفرادی یا اجتماعی سطح پر کچھ غیر معمولی کر گزرنے کے لیے مقصد کا تعین ضروری ہے۔ کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جیسے ہی کوئی فرد اپنے دماغ میں اپنی زندگی کا مقصد واضح کر لیتا ہے اس کی زندگی میں ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر خود بخود آ جاتی ہے۔

ویسے تو دنیا میں ہر کوئی اپنی پسند و ناپسند، خواہش و مزاج اور رجحان و صلاحیت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے لیے کسی بھی مقصد کا تعین کر سکتا ہے لیکن  پھر بھی کوشش یہی ہونی چاہیے کہ آپ کا مقصد حیات ایسا ہو جو آپ کو زندگی میں کامیاب فرد بنانے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لیے بہترین انسان بھی بنا سکے۔ ہمارے مقصد حیات میں علم کی جستجو اور محبت کی تلاش کے ساتھ ساتھ انسانی دکھوں کے لیے بے پایاں درد محسوس کرنے کا جذبہ بھی شامل ہونا چاہیے۔ اگرچہ ہم مقامی، ملکی اور عالمی سطح پر موجود جہالت غربت، بے روزگاری، ظلم، جبر اور ناانصافی کا فوری اور یکسر خاتمہ نہیں کر سکتے تاہم ہم غربت کی چکی میں پسنے والے، ظلم وجبر کا شکار اور ابنیادی انسانی حقوق اورنصاف سے محروم انسانوں کے دکھ درد محسوس کرتے ہوئے ان کی دادرسی کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کر سکتے ہیں۔

کسی نے کہا تھا اور کیا خوب کہا تھا کہ"سماج کے لیے لڑو، لڑ نہیں سکتے تو لکھو، لکھ نہیں سکتے تو بولو، بول نہیں سکتے تو ساتھ دو۔ ساتھ نہیں دے سکتے تو جو سماج کے لیے لڑ، لکھ اور بول رہے ہیں ان کی مدد کرو اور اگر مدد بھی نہ کر سکتے تو ان کے حوصلوں کو مت گرنے دو کیوں کہ وہ آپ کے حصے کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ہم غلط کو کھل کر غلط کہنے کی جرات کرنا شروع کر دیں تو کئی ایک سماجی برائیوں کی شدت میں کمی لانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ مولانا عبید اللہ سندھی نے کہا تھا "مظلوم کا مذہب اور قوم پوچھے بغیر اس کے حق میں کھڑے ہو جاؤ۔ اسی طرح اگر ہم سے ہر ایک سیاسی و انتخابی نظام سمیت ملکی سیاست میں پائی جانے والی خرابیوں پر آواز بلند کرنا شروع کر دے تو تھوڑے عرصے میں  بتدریج بہتری آنا شروع ہو سکتی ہے۔ ملکی سیاست میں ہمارا کردار یا تو پانچ سال بعد ووٹ ڈالنے تک محدود ہے یا پھر ہم تھڑے اورسوشل میڈیا پر بیٹھے ملکی معاملات پر بحث کرتے رہتے ہیں۔

حکومت کی عوام دشمن پالیسیز کے خلاف یا ملک و قوم کے حق میں کسی خاص قانون سازی پر زور دینے کے لیے پرامن انداز میں سڑکوں پر آ کر اپنا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں۔ افلاطون نے کہا تھا کہ ’سیاست سے کنارہ کشی کا انجام یہ ہوگا کہ تم سے کم تر لوگ اٹھ کر تم پر حکومت کریں گے‘۔ سیاست کی فریب کاریوں کو سمجھنے کے لیے فرحت عباس شاہ کی نئی کتاب "مزاحمت کریں گے ہم " سے چند اشعار پیش خدمت ہیں:

ممکن تھا جتنا حشر اٹھایا گیا سمجھ

جمہوریت کو کھیل بنایا گیا سمجھ

اعلی فریب کاری سیاست کہی گئی

مہروں کو آگے پیچھے بڑھایا گیا سمجھ

جکڑا گیا ہے قرضوں کے بے رحم جال میں

یہ کام کس سے کیسے کرایا گیا سمجھ

کب کس طرح سے کونسے مقصد کے واسطے

کس کس کو اقتدار میں لایا گیا سمجھ