سیاست میں سوچ اور فکر کو بدلنا ہوگا
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 14 / فروری / 2022
- 4720
علمی اور فکری حلقوں میں سیاسی موضوعات پر گفتگو میں دو نکات ہمیشہ اہم ہوتے ہیں۔او ل ہماری سیاست اور جمہوریت کو نظریاتی بنیادوں پر ہونا چاہیے جس میں سچائی، دیانت داری، شفافیت، خود احتسابی، جوابدہی، خدمت اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر قومی مفادات کو ترجیحی بنیاد پر فوقیت شامل ہو۔
دوئم علمی، فکری اور نظریاتی سے زیادہ لوگ عملی سیاست سے جڑے معاملات کو ترجیح دیتے ہیں او ر ان کے بقول جو بھی سیاست کے طور طریقے ہیں ان کو ہی بنیاد بناکر آگے بڑھنا ہوگا۔کیونکہ نظریاتی سیاست کے مسائل پیچھے اور طاقت یا اقتدار کی سیاست کی بالادستی کو قبول کرکے ہی اقتدار کا راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے۔پاکستان کی موجود ہ سیاست بھی اسی دوسرے نکتہ پر کھڑی ہوئی ہے جہاں اقتدار کی سیاست کو ہی اپنی منزل بنالیا گیاہے۔ ان کے بقول جائزیا ناجائز کسی بھی طریقے سے ہمیں اقتدار کی سیاست کے کھیل میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ اقتدار کا کھیل برا نہیں۔ یقینی طور پر جو بھی سیاست میں آئے گا اس کے سامنے اقتدار کی سیاست ہی اہم ہوتی ہے۔لیکن جو سوال سب سے زیادہ توجہ طلب ہے کہ کیا اقتدار کی سیاست کے حصول کا براہ راست تعلق عوام یا محروم طبقات یا معاشرے کو حقیقی معنوں میں بدلنا ہے یا اس کھیل کو محض اپنی ذات،خاندان یا دوستوں، رشتوں داروں سمیت ایک مخصوص طبقہ کی طاقت کو برقرار رکھنے سے جڑا ہے۔کیونکہ اس وقت کی سیاست میں ایک عمومی تصوریہ ہی ہے کہ اقتدار کی سیاست میں ایک مخصوص طبقہ یا خاندان کی اجارہ داری ہے جو عوامی حاکمیت سے محروم ہے۔
سیاست دان ہو یا سیاسی راہنما ان کی گفتگو، طرزعمل اور عملی معاملات میں اس حد تک تضاد بڑھ گئے ہیں کہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے کس بیان کو سچ سمجھا جائے او رکس کو غلط سمجھا جائے۔کیونکہ روزانہ کی بنیاد پر ان کے بیانات میں تبدیلیوں کو دیکھ کر لگتا ہے ان کا سیاسی طرز عمل ایک خاص ردعمل کی سیاست سے جڑا ہوتا ہے۔سیاست میں تلخیوں کا پیدا ہونا، محاذ آرائی کی صورتحال کا رونما ہونا سیاسی عمل کا حصہ ہوتا ہے لیکن یہ کھیل جب شعوری طور پر کیا جاتا ہے تو اس کا عملی نتیجہ محاذآرائی پر مبنی سیاست ہی ہوسکتا ہے۔سیاسی جماعتوں کی سطح پر اس مسئلہ پر سوچ و بچار کم نظر آتی ہے کہ ہمیں عوام کے ساتھ اپنے تعلق کو کیسے مضبوط بنانا ہے۔سیاست میں عوام کو ہی طاقت کا درجہ حاصل ہے۔لیکن یہاں عوام کے مقابلے خواص اور طاقت ور حلقوں کو ہی طاقت کا مسیحا سمجھا جاتا ہے اور عوام کے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوتا۔
سیاسی جماعتوں کے نظام میں اس حد تک جکڑ بندی ہے کہ جو بھی ان جماعتوں کے مروجہ نظام یا قیادت کو چیلنج کرے گا یا کوئی متبادل بات کرے گا اس کو یا تو دیوار سے لگایا جاتا ہے۔ سیاسی سطح پر سیاسی جماعتیں متبادل آوازں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہیں او ران کو آغاز سے ہی ایک خاص حکمت عملی کے تحت علیحدہ کردیا جاتا ہے۔ان ہی سیاسی جماعتوں میں اچھے لوگ ہیں لیکن ان کے بقول جب سیاسی جماعتیں افراد کے تابع ہوں گی تو نتیجہ ان کے حق میں نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس کی ہمیں حمایت حاصل ہوتی ہے۔
یہ بات سمجھنی ہوگی کہ جب ہمارا مجموعی سیاسی نظام جدیدت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے لیے تیار نہیں او رنہ ہی ہم دنیا کے سیاسی تجربوں یا ان کی سیاسی حکمت عملیوں کو سیکھنے کے لیے تیار ہیں۔سیاست کبھی بھی جامد نہیں ہوسکتی، اس نے حالات و واقعات کی بنیاد پر خود کو تبدیل کرنا ہوتا ہے مگر اس تبدیلی میں اصل نقطہ مرکز ملک، ریاست اور عوام کا مفاد ہوتا ہے۔ہمارے نظام کو جب روائتی، فرسودہ اور قبائلی اور دھن، دولت اور اختیار کی بنیاد پر چلایا جائے گا تو اس میں جدید تبدیلی کا تصور بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔ ایک منطق یہ دی جاتی ہے یہاں سیاسی جماعتوں کو مضبوط ہی نہیں بننے دیاجاتا او راسٹیبلیشمنٹ ان کے خلاف ہوتی ہے۔ یہ سچ آدھا ہوسکتا ہے مگر پورا سچ یہ ہے کہ خود ان سیاسی جماعتوں نے اپنی جماعتوں کی سیاسی ساکھ اور شفافیت کے لئے کچھ نہیں کیا۔
ہماری سیاست او رجمہوریت کی یہ جنگ تمام طبقات سے جڑے لوگوں کو ساتھ ملانے یا ان کو یکجا کرنے میں ناکام ثابت ہورہی ہے اور عملی طور پر سیاسی، سماجی، علاقائی، لسانی، فرقہ وارانہ یا مذہبی تقسیم کا کھیل عروج پر ہے۔جب سیاسی جماعتیں ملک میں اجتماعیت کا عمل پیدا کرنے کی بجائے لوگوں کو انفرادی جدوجہد کا حصہ بنادیں گی تو اجتماعی ترقی کی بات کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔اس ملک کو ایسے سیاست دانوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو تقسیم کرنے کی بجائے جوڑیں۔ انتہا پسندی، فرقہ واریت، لسانیت اور علاقایت کی بنیاد پر معاشرے کی تقسیم خطرناک نتائج سے ہمیں دوچار کرے گی۔ہماری سیاست کو لانگ ٹرم، مڈٹرم اور شارٹ ٹرم کی بنیاد پر ایک بڑے روڈ میپ کی ضرورت ہے جو کسی کی مسلط کردہ نہ ہو بلکہ اس میں تمام فریقین کی مشاورت ہو،تاکہ اتفاق رائے سے آگے بڑھا جاسکے۔لیکن سوال یہ ہی ہے کہ کیا سیاسی جماعتیں او ران سے جڑ ے افراد واقعی کچھ تبدیل کرنا چاہتے ہیں یا سیاست کو بطو رہتھیار استعمال کرکے نہ صرف سیاسی طاقت چاہتے بلکہ سب کچھ اپنے اختیار میں ہو۔
سیاسی جماعتوں کو سمجھنا ہوگا کہ گورننس کا بحران مقامی حکومتوں کے خود مختار اورمضبوط نظام سے جڑا ہے۔لیکن ہماری سیاسی جماعتیں ان معاملات پر توجہ دلانے کی بجائے محاذ آرائی کے کھیل میں مگن ہیں۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں کا پڑھا لکھا طبقہ اور رائے عامہ بنانے والے افراد یا ادارے سیاسی جماعتوں پر عملی دباؤ ڈالنے میں ناکام رہے ہیں پاکستان میں سوچنے، سمجھنے، پرکھنے اور متبادل تجویز دینے والے وہ افراد جو عملی کاموں کا حصہ ہیں اور وہ ملک بھی بنانا چاہتے ہیں مگر ان کی کوئی پزیرائی ان حکمران طبقات میں نہیں۔ یہاں کا حکمران طاقت ور طبقہ طاقت ور افراد کے مقابلے میں کمزور لوگوں کو پسند کرتا ہے اور ان ہی کو مختلف عہدوں سے نواز کر سنجیدہ لوگوں کو اور پیچھے دھکیل دیتا ہے۔کوئی سیاسی جماعت عوام کو منظم کرنے، سیاسی وسماجی شعور کی آگاہی اوراپنے کارکنوں کو سماجی کاموں سمیت معاشرے کی تشکیل نو میں شمولیت پر یقین ہی نہیں رکھتیں۔
ہماری مجموعی سیاست میں بہت کچھ بدلنا ہے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ اہم بات ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ کی ہے اور یہ ہی کمٹمنٹ پورے سیاسی نظام کو بدلنے میں معاون ثابت ہوگی۔ لیکن یہ کام محض سیاسی تنہائی یا کسی ایک سیاسی جماعت تنہا نہیں کرسکے گی۔ اس کے لیے تبدیلی سے تمام اداروں، افراد، سول سوسائٹی، میڈیا، دانشور، شاعر، ادیب، وکیل، استاد، سمیت بالخصوص نوجوانوں کو اپنا قبلہ بھی درست کرنا ہوگا اور سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی کرنا ہوگی۔