اٹارنی جنرل نے نواز شریف کی صحت سے متعلق برطانیہ میں ان کے معالج کو خط لکھ دیا

  • بدھ 16 / فروری / 2022
  • 3670

پاکستان کے اٹارنی جنرل نے لندن میں مقیم پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی صحت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے ان کے برطانیہ میں معالج ڈیوڈ لارس کو خط لکھا ہے۔

لندن ہائی کمشین کے ذریعے لکھے گئے اس خط میں ڈاکٹر ڈیوڈ لارس سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ڈاکٹر ان سے مل کر نواز شریف کی صحت سے متعلق تصدیق کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کارروائی میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے بیان حلفی کی روشنی میں کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ میاں شہباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ میں جو بیان حلفی جمع کروایا تھا اس میں کہا گیا تھا کہ میاں نواز شریف علاج کروانے کے لیے برطانیہ جا رہے ہیں اور علاج کے بعد اگر ڈاکٹروں نے انھیں سفر کی اجازت دی تو وہ وطن واپس آئیں گے۔

اس بیان حلفی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر حکومت کو کوئی شک ہو کہ میاں نواز شریف علاج کروا کر صحت مند ہو گئے ہیں اور جان بوجھ کر وطن واپس نہیں آ رہے تو برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کا کوئی بھی اہلکار ان کے معالج سے مل کر اس بارے میں معلومات حاصل کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر ڈیوڈ لارس کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے نامزد کردہ ڈاکٹر آپ سے مل کر نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لینا چاہتے ہیں اور اس کے لیے پاکستانی ڈاکٹر سے ان کی ملاقات 22 فروری سے 13 مارچ کے دوران شیڈول کی جائے گی۔

یاد رہے کہ دو ہفتے قبل نواز شریف کے معالج ڈاکر فیاض شاول کی طرف سے لکھی گئی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ نواز شریف اس وقت شدید ذہنی دباؤ میں ہیں اور علاج کروائے بغیر برطانیہ سے واپس چلے جانا ان کے لیے شدید خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم کے معالج کی طرف سے یہ میڈیکل رپورٹ ایک ایسے وقت میں لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی جب حکومت کی طرف سے نواز شریف کی بیرون ملک سے واپسی کی یقین دہانی پر عمل درآمد نہ ہونے پر سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے اسے جھوٹ کا پلندہ قرار دیا تھا۔