اقرار الحسن اور ساتھیوں پر تشدد کے الزام میں آئی بی کے 5 عہدیدار معطل
- بدھ 16 / فروری / 2022
- 5910
معروف اینکر اور ٹی وی میزبان اقرار الحسن نے دعویٰ کیا ہے کہ حساس ادارے کے ایک اہلکار کی کرپشن بے نقاب کرنے پر انہیں اور ان کی ٹیم کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
وقوعہ منظرِعام پر آنے کے بعد ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل انٹیلیجنس بیورو نے گریڈ 19 کے ایک ڈائریکٹر سمیت 5 عہدیداروں کو معطل کردیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں انہیں زخمی حالت میں ہسپتال میں دیکھا گیا۔
اے آر وائے کے ہی ایک اور اینکر وسیم بادامی نے ویڈیو شیئر کی جس میں اقرار الحسن نے کہا کہ تشدد کے نتیجے میں ان کے سر پر ٹانکے لگے ہیں، کندھا اتر گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ادارے کے کرپٹ افسر کے بارے میں ان کے افسران کو آگاہ کیا گیا تو اسلحے کے زور پر دھمکا کر ٹیم کے کپڑے اتروا کر ویڈیو بنائی گئی۔
ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ہم ذہنی طور پر صدمے سے گزر رہے ہیں، ٹیم کے سارے اراکین کے کپڑے اتروا کر ان پر تشدد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی ٹیم کے اراکین کو برہنہ کر کے نہ صرف ویڈیو بنائی گئی بلکہ نازک اعضا پر کرنٹ لگایا گیا۔
بعدازاں ایک اور ویڈیو میں انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر نے انہیں ہسپتال میں رہنے کی تجویز دی تھی البتہ میں کچھ بہتر محسوس کررہا ہوں اس لیے گھر جانا چاہتا ہوں۔
دوسری جانب اے آر وائے ٹی وی کی ایک ٹوئٹر پوسٹ کے مطابق اقرار الحسن نے دعویٰ کیا کہ انٹیلیجنس بیورو کے ایک انسپکٹر کی بدعنوانی بے نقاب کرنے پر انہیں اور ان کی ٹیم کو برہنہ کر کے ویڈیوز بنائی گئیں اور دھمکایا گیا کہ اگر کرپشن کی ویڈیو منظرِ عام پر لائی گئی تو تمہاری ویڈیوز جاری کردی جائیں گی۔
اینکر کا کہنا تھا کرپشن بے نقاب کرنے پر ٹیم سرِ عام کو 3 گھنٹوں تک حبسِ بے جا میں رکھا گیا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کی ٹیم کے 2 اراکین کے اعضائے مخصوصہ کو بجلی کے جھٹکے لگائے گئے جو اس وقت شدید تکلیف میں ہیں اور علاج جاری ہے۔
اقرار الحسن نے دعویٰ کیا کہ آئی بی کے ایک انسپکٹر دفتر کے باہر کھڑے ہو کر رشوت لے رہے تھے، جنہیں ہم نے رشوت دے کر اس کے ثبوت ان کے اعلیٰ افسران کو فراہم کیے۔ بجائے اس کے کہ کرپٹ افسر کے خلاف کارروائی کی جاتی ڈائریکٹر آئی بی رضوان شاہ اپنے اہلکاروں کے ساتھ پر ٹوٹ پڑے۔
اقرار الحسن نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کے سامنے برہنہ کر کے آنکھوں پر پٹی باندھ کر کئی گھنٹے زمین پر بٹھایا گیا۔ اس واقعے کے بعد ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آئی بی افتخار نبی تونیو نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے مطابق 5 اہلکاروں کو اے آر وائی نیوز کی ٹیم کے ساتھ بدسلوکی اور صورتحال کو خراب کرنے پر معطل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب معروف صحافی حامد میر نے بھی واقعے پر رد، عمل دیتے ہوئے کہا کہ انٹیلی جینس بیورو نے اس دور کی یاد تازہ کر دی جب ایسا سلوک صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ لاہور اور اسلام آباد میں ہوا کرتا تھا۔ پاکستان آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں 30 سال پہلے کھڑا تھا۔ اقرار الحسن پر تشدد انتہائی قابل مذمت ہے۔ یہ دور گزشتہ ادوار سے زیادہ بدتر زیادہ شرمناک ہے۔
اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ قابل مذمت، اُمید ہے مجرموں کو سخت سزا دی جائے گی، تشدد کسی طور قابل برداشت نہیں ہے۔ وسیم بادامی نے اپنی ٹوئٹ میں سوال اٹھایا کہ اقرار الحسن پر اس تشدد کا ذمہ دار کون ہے؟ جب عام آدمی کے مقابلے میں بااثر سمجھے جانے والے افراد کے ساتھ یہ سب ہوتا ہے تو عام آدمی کے ساتھ کیا نہیں ہوتا ہوگا؟
اس کا مطلب ہے تشدد کرنے والوں کو بھی یقین تھا کہ ان کا جو دل چاہے گا کریں گے اور کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑسکتا۔