جمہوری شفافیت کے مسائل
- تحریر سلمان عابد
- بدھ 16 / فروری / 2022
- 4290
دنیا بھر میں جمہوریت کے تناظر میں مختلف نوعیت کے چیلنجز علمی و فکری حلقوں میں اس وقت موضوع بحث ہیں۔جمہوریت کے حق ومخالفت میں مختلف ماہرین فکری دلائل دے کر اپنااپنا نقطہ نظر پیش کررہے ہیں۔
اگرچہ جمہوریت کوئی حتمی نظام نہیں لیکن دنیا کے مروجہ سیاسی نظام میں جمہوریت کو ہی دیگر نظاموں پر فوقیت حاصل ہے۔لیکن یہ بھی تسلیم کرناہوگا کہ جمہوریت کے نظام کو جو چیلنجز درپیش ہیں ان میں سے بیشتر نکات ایسے ہیں جن کا براہ راست تعلق داخلی مسائل سے ہے۔ کیونکہ جس انداز سے جمہوری نظام کو جمہوریت سے جڑے افراد یا ادارے چلانے کی کوشش کررہے ہیں وہ عملی طور پر جمہوریت کے مقدمہ کو کمزور کرتاہے۔جمہوریت کا براہ راست تعلق عام لوگوں یا معاشرے کے کمزور طبقات کے مفادات سے جڑا ہوتا ہے۔لیکن ہمارا جمہوری نظام مراعات یافتہ طبقہ کو تحفظ دینے کا سبب بن رہا ہے۔
دنیا میں دانشوروں کی ایک بڑی تعداد کے بقول اگر موجودہ عالمی جمہوری نظام نے خود کو نہ بدلااور غیر معمولی اصلاحات نہ کیں تو لوگوں کا جمہوریت پر اعتماد کمزور گا۔اس وقت اگر ہم پاکستان کی سیاست کو دیکھیں تو اس میں غربت، معاشی بدحالی، عدم انصاف، سماجی و سیاسی حقوق، بنیادی حقوق کی عدم فراہمی جیسے چیلنجز کا سامناہے۔ان مسائل کی ایک بڑی وجہ حکمرانی کا بحران ہے۔ حالانکہ جمہوریت کی بنیاد ہی عام آدمی کی شراکت، فیصلہ سازی میں ان کی موثر شمولیت، کمزور طبقات پر زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری او ران کے مفادات کے تحفظ سے جڑی ہوتی ہے۔
حالیہ دنوں میں اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ)آی آئی یو(کی ایک رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ 2021میں عالمی وبا اور آمریت کی بڑھتی ہوئی حمایت کے باعث دنیا بھر میں ایک بار پھر جمہوری معیار میں کمی واقع ہوئی ہے۔ای آئی یو کے مطابق سالانہ جمہوریت انڈیکس کے مطابق 2010کے بعد سب سے بڑی جمہوری حمایت میں کمی جمہوریت کے حامیوں کے لیے فکر مندی کا پہلو ہے۔لیکن المیہ یہ ہے کہ ایک طرف جمہوریت کے حامی جمہوریت کی شفافیت پر مختلف سوالات اٹھارہے ہیں تو دوسری طرف عملی طور پر جمہوری نظام سے جڑے سیاست دان، سیاسی جماعتیں اور حکمران طبقات میں وہ فکر مندی نہیں جو ہونی چاہیے۔پاکستان جیسے ممالک میں یہ تجزیہ کہیں اہل سیاست میں نظر نہیں آرہا کہ داخلی جمہوری مسائل حل کئے جائیں۔ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جمہوری قوتوں میں ادراک، فہم اور تدبر کی کمی ہے۔کیونکہ جب اہل سیاست میں جمہوری سیاست سے جڑی حالات کی سنگینی کا احساس ہی نہ ہو تو پھر مسائل کا حل پیچھے چلا جاتا ہے۔
سیاسی جماعتیں پاکستان میں جمہوریت کے حق میں جو جنگ لڑتی ہیں اس کا بیشترحصہ خارجی مسائل سے جڑا ہوا ہے۔ ان میں اسٹیبلیشمنٹ کی مداخلت، انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے سیاسی مداخلت، طاقت ور طبقات کا دباو جیسے مسائل کو بنیاد بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔لیکن یہ ہی اہل جمہوریت داخلی مسائل کو نظر انداز کردیتے ہیں جو ان کی اپنی سوچ، فکر او رپالیسیوں سے جڑی ہوتی ہیں۔ان میں سیاسی جماعتوں میں موجود آمرانہ طرزعمل،سیاسی جماعتوں کا داخلی نظام، کرپشن اور بدعنوانی پر سمجھوتے، سیاست کو پیسے او ردولت کا کھیل بنانا، کسی بھی سیاسی مخالف کو اپنی جماعتوں میں برداشت نہ کرنا، فیصلہ سازی میں پارٹی کے لوگوں کو نظرانداز کرنا، چور دروازوں سے اسٹیبلیشمنٹ کی مدد سے باہمی گٹھ جوڑ کا کھیل، سیاسی جماعتوں میں خاندانی اجارہ داری جیسے مسائل پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔اسٹیبلیشمنٹ کی سیاسی مداخلت یا دیگر خارجی مسائل اہم ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ان خارجی مسائل کا مقابلہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب وہ اپنے اندر موجود ان داخلی مسائل کو حل کریں گے۔ یہ ممکن نہیں کہ سیاسی جماعتیں یا جمہوریت سے جڑے افراداپنے داخلی مسائل کو درست نہ کریں اور یہ خواہش پیدا کریں کہ خارجی مسائل حل ہوجائیں، ایسا ممکن نہیں ہوگا۔
آج ایک بڑی بحث جمہوریت کے تناظر میں کارپوریٹ جمہوریت یعنی منافع کی بنیاد پر چلایا جانے والا جمہوری نظام ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب دنیا کے جمہوری نظاموں پر سیاست دانوں سے زیادہ سرمایہ داروں او رملٹی نیشنل کمپنیوں کا قبضہ ہے۔ اس لیے اب جمہوری نظام میں جو سیاسی فیصلے ہورہے ہیں اس میں عام آدمی کے مفاد سے زیادہ کاروباری طبقات کے مفادات کو تحفظ دیا جاتاہے۔اس لیے ایک بڑی تنقید جمہوری نظام پر یہ ہورہی ہے کہ اس نے بھی مجموعی نظام میں ایک طبقاتی حیثیت کو بنیاد بنالیا ہے۔ پاکستان میں بھی اب سیاست ایک کاروبار کی شکل اختیا رکرلی ہے۔ جو جتنا بڑا سرمایہ دار ہوگایا جو جتنا سرمایہ سیاسی جماعتوں پر لگائے گا اس کی سیاسی نظام میں اہمیت بڑھ جاتی ہے اور وہ سیاسی فیصلوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔
جمہوریت سے جڑے نظام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اب محض سیاسی نعروں، دعووں، تقریروں اور خوشنما گفتگو یا جذباتیت پرمبنی بیانیہ کی بنیاد پر لوگوں کے دلوں پر راج نہیں کرسکیں گے۔لوگ جمہوری ثمرات کو براہ راست دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ اقدامات سب کو واضح اور شفاف طور پر نظر بھی آنے چاہئیں۔ جمہوری نظام وہیں اپنی سیاسی ساکھ قائم کرسکیں گے جب وہ اپنی گورننس کی مدد سے لوگوں کے دلوں پر راج کرے گا۔ لوگوں کو محسوس ہوگا کہ واقعی جمہوری نظام ان کی زندگیوں میں پہلے سے موجود مشکلات کو کم کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب وقت آگیا ہے ہمیں اپنے موجودہ جمہوری نظام میں موجود مسائل کا ادراک کرکے اس میں ایسی اصلاحات لائیں جو عام لوگوں کو جمہوریت کے حق میں کھڑا کرے۔