کشمیر علاقائی تنازعہ نہیں ہے
- تحریر اطہر مسعود وانی
- بدھ 16 / فروری / 2022
- 6630
وزیر اعظم عمران خان نے امریکی نشریاتی ادارے’سی این این‘ اور ایک فرانسیسی میڈیا آؤٹ لیٹ”لی فیگارو“ کو افغانستان کے بارے میں انٹرویو دیے ہیں۔”سی این این“ اور ”لی فیگارو“ نے اس موقع پر انڈیا سے تعلقات اور کشمیر کے بارے میں بھی سوال کئے۔
ان دونوں مغربی صحافتی ا داروں کی طرف سے خاص طور پر یہ بات دیکھنے میں آئی کہ ان دونوں کی طرف سے کشمیر کی صورتحال کو چین کے علاقے شن جیان کی صورتحال سے موازنے پر زور دینے کی کوشش کی گئی۔عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ پاکستان دیگر علاقائی ملکوں کے ساتھ مل کر ہی کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مستحکم حکومت کا قیام وہاں موجود دہشت گرد گروپوں کے محدود کرنے کے حوالے سے بھی اہم ہے اور اس سے بحر ہند کے راستے وسط ایشیا تک علاقائی تجارت کو فروٖغ حاصل ہو گا۔
”سی این این“ کے نمائندے فرید ذکریا کو انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ کشمیر پاکستان اور انڈیا کے درمیان متناعہ علاقہ ہے۔ گزشتہ پینتیس سال میں ایک لاکھ کشمیری ہلاک ہوئے ہیں،5اگست2019کو انڈیا نے کشمیرکا سٹیٹس تبدیل کیا جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان متنازعہ خطہ ہے۔ کشمیر میں آٹھ لاکھ انڈین فوج موجود ہے، کشمیر کا موازنہ شن جیان کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا،لیکن اس پر اتنی توجہ نہیں دی جا رہی جتنا یہ مسئلہ توجہ دیئے نے مستحق ہے۔کشمیر میں جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ مجرمانہ ہے۔
”لی فیگارو“ کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان نے بھارت کے ساتھ بات چیت کے بارے میں کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے لیکن کشمیر کی خودمختاری کے بغیر نئی دہلی سے بات کرنا کشمیریوں کے ساتھ غداری کے مترادف ہوگا۔بی جے پی حکومت اور ”آر ایس ایس“کا پاکستان اور کشمیر کے حوالے سے رویہ تشویشناک ہے۔ ہم ایک ایسی حکومت سے نمٹ رہے ہیں جو عقلی نہیں ہے، جس کا نظریہ مذہبی اقلیتوں اور پاکستان سے نفرت پر مبنی ہے، ہم ان سے بات نہیں کر سکتے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پیرس میں پاکستان کے سفیر کی تعیناتی کا معاملہ زیر عمل ہے۔
پاکستان کا سرکاری سطح پہ کشمیر کے حوالے سے یہی موقف ہے کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا معاملہ ہے۔تاہم اب وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے کشمیر کے مسئلے کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک خطے کے تنازعہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کے باشندوں کی واضح اکثریت اس بات کی شاکی ہے کہ دنیا میں مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے بجائے پاکستان اور انڈیا کے درمیان علاقائی تنازعہ کے طور پر دیکھا جا تا ہے۔انڈیا عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو پاکستان کے ساتھ باہمی معاملہ قرار تو دیتا ہے لیکن اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مذاکرات کے لئے پاکستان پر اپنی مرضی کی شرائط عائد کرتے ہوئے بات چیت سے راہ فرار اختیار کرتا ہے۔ انڈیا واضح طور پر کشمیر کے معاملے میں پاکستان کو کمزور سے کمزور تر پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا نظر آتا ہے۔
پاکستان کی سرکاری سطح پہ اصولی پالیسی یہی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق رائے شماری کے ذریعے حل کیا جانا ہے۔ جبکہ اب وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے عالمی میڈیا پہ کشمیر کے مسئلے کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان متنازعہ خطے کے معاملے کے طور پر پیش کرنا پاکستان کی روائیتی کشمیر پالیسی کے برعکس ہے۔گزشتہ دنوں ہی پاکستان انتظامیہ نے ایک مخفی قومی سلامتی پالیسی کا اعلان کیا ہے جس میں انڈیا کے ساتھ کسی صورت جنگ نہ کرنے کی کوشش اورخواہش کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے کشمیر کے مسئلے کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک خطے کا تنازعہ قرار دینے سے عندیہ ملتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان انتظامیہ کی ترجیحات میں نیچے سے نیچے ہی جاتا جا رہا ہے۔
اب یوں معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں کشمیر کا مسئلہ اس غریب کی مونچھ کی طرح بنا د یا گیا ہے کہ جو غریب آدمی رعب دکھانے کے بجائے اس لئے رکھتا ہے کہ بوقت ضرورت مونچھ نیچی کر کے خود کو محفوظ رکھ سکے۔