پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں: امریکی سفیر
- جمعرات 17 / فروری / 2022
- 4730
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکا کے پاس افغانستان کی طرف بڑھنے کے لیے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے۔
واشنگٹن میں واقع امریکی ادارہ برائے امن و امان میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ٹوم ویسٹ نے طالبان کے ساتھ امن معاہدے میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا، لیکن شکایت کی کہ اسلام آباد نے واشنگٹن کی تجاویز کو نظر انداز کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ پاکستانی رہنماؤں کے ساتھ میرا اچھا، ایماندار اور نتیجہ خیز تعلق رہا اور وہ افغانستان کے معاملات میں اپنے سسٹم کے حوالے سے ماہر ہیں‘۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے پاس پاکستان کے ساتھ آگے بڑھنےکے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں‘۔
انہوں نے طالبان کے اقتدار سنبھالنے نے بعد امریکا کی طالبان، افغان شہریوں اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مشاورت پر زور دیا۔ تاہم اس موقع سابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر اسٹیفن جے ہاڈلی نے امریکا پاکستان تعلقات، اسلام آباد اور کابل کے نئے حکمرانوں کےدرمیان فرق اور ٹی ٹی پی اور ڈیورنڈ لائن پر پاکستان کے نقطہ نظر کے حوالے سے سوال بھی اٹھایا۔
ٹوم ویسٹ کا کہنا تھا کہ جنوری سے اگست اور اس سے کئی سال قبل مذاکرات کے دوران ہم ان اقدامات سے متعلق پاکستان سے بہت قریب رہے ہیں، جو ہم نے تنازعے کو مذاکراتی حال کی طرف بڑھانے کے لیے پاکستان سے اٹھانے کے لیے کہا تھا۔ اگر پاکستان نے اس میں سے کچھ اقدامات معنی خیز اور متواتر انداز میں اٹھائے ہوتے تو میرے خیال میں آج ہم زیادہ آگے ہوتے۔
اس رد عمل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان امن کی بحالی میں تعاون کرتے ہوئے ہمیشہ امریکی تجاویز کو قبول نہیں کیا۔ ٹوم ویسٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ اسلام آباد کی ہچکچاہٹ نے ہمیشہ واشنگٹن کو ناراض کیا، حالانکہ دونوں اتحادیوں نے 2020 کے معاہدے تک پہنچنے والے دوحہ مذاکرات میں مسلسل حمایت جاری رکھی۔
میرے نظریے کے مطابق یہ ہماری کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ ٹوم ویسٹ نے تحفظات کے باوجود بھی نشاندہی کی کہ واشگٹن کو افغانستان سمیت تمام مسائل پر پاکستان کے تعاون جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ آج افغانستان میں حالات دیکھتے ہوئے (پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے) توانائی ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ٹوم ویسٹ کے مطابق اسلام آباد کی ہچکچاہٹ نے وہ مشکلات پیدا کی ہیں جس کا پاکستان کو افغانستان میں سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ میرے خیال سے آج اگر افغانستان میں پاکستان کی مفادات کی بات کی جائے تو انہیں چیلنجز کا سامنا ہوگا۔