وفاقی کابینہ میں اہم تبدیلیاں کی جائیں گی: فواد چوہدری

  • جمعرات 17 / فروری / 2022
  • 5080

 حکمران اتحاد کو برقرار رکھنے کی کوشش میں پاکستان تحریک انصاف نے اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کو شامل کرکے وفاقی اور پنجاب کابینہ میں تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے پی ٹی آئی کے کچھ مرکزی رہنماؤں سے بھی کہا ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے خطرے سے بہتر طریقے سے نمٹنے کے لیے پارٹی کی تنظیم نو اور اسے مضبوط بنانے پر توجہ دیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گل نے گزشتہ روز انکشاف کیا کہ وزیراعظم عمران خان جلد وفاقی اور پنجاب کابینہ میں تبدیلیاں کریں گے۔ فواد چوہدری نے ڈان کو بتایا کہ وزیراعظم دو ہفتوں کے اندر وفاقی کابینہ میں اہم تبدیلیاں کریں گے۔'

وزیر اعظم کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ عمران خان دفاع، منصوبہ بندی، تعلیم، توانائی اور سمندر پار پاکستانیوں کی وزارتوں میں 5وزرائے مملکت کا تقرر کریں گے۔ وزیر اعظم نے وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر توانائی حماد اظہر اور وزیر تعلیم شفقت محمود سے کہا ہے کہ وہ پارٹی معاملات کو سنبھالیں اور پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے اقدامات کریں۔

خیال رہے کہ حکومت نے حال ہی میں ایک آڈٹ کرایا تھا جس کے بعد 10 وزارتوں کی فہرست جاری کی گئی تھی جنہوں نے دوسروں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جن وزرا کی وزارتیں اس فہرست میں شامل نہیں تھیں وہ مبینہ طور پر ناخوش ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ انہیں 'بہترین کارکردگی دکھانے کے باوجود' چھوڑ دیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم کا خیال ہے کہ نئے وزرائے مملکت ان 5 وزارتوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد کریں گے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پی ٹی آئی اپنی دو بڑی اتحادی جماعتوں، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے رہنماؤں کو شامل کرے گی، جنہیں مزید ایک ایک وزارت ملنے کا امکان ہے۔

دونوں جماعتیں وزیراعظم سے درخواست کرتی رہی ہیں کہ انہیں کم از کم ایک اور وفاقی وزارت دی جائے۔ اس وقت ایم کیو ایم کے دو ارکان وفاقی کابینہ میں شامل ہیں جس میں ایک وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی سید امین الحق اور دوسرے وزیر قانون فروغ نسیم ہیں۔

واضح رہے کہ اپوزیشن رہنما وزیراعظم خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے اس سلسلے میں ایم کیو ایم کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (ق) سے بھی  حمایت حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا۔