توہین مذہب قانون پر گفتگو اور مولانا اشرفی کی برہمی

وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی نمائندے برائے مذہبی ہم آہنگی، آل پاکستان علماء کونسل کے سربراہ مولانا طاہر اشرفی وائس آف امریکہ کے ٹوئٹر سپیس پہ بات کرتے ہوئے غصے میں آگئے اور انہوں نے جاوید احمد غامدی اور ان کے ساتھیوں پر سخت الزامات لگا ئے۔پروگرام میں جاوید غامدی کے ادارہ سے منسلک محمد حسن الیاس نے شرکت کی۔

علمی سطح کی بات چیت میں دلائل کے بغیر غصے اور اشتعال انگیز روئیے کا مظاہرہ کرتے ہوئے مولانا طاہر اشرفی نے عمومی طور پر مذہبی جماعتوں اور علماء کے اس طرز عمل کی بہترین نمائندگی کی جس کا مظاہرہ آئے روز دیکھنے میں آتا ہے۔

وائس آف امریکہ کے ٹوئٹر سپیس پہ'' توہین مذہب کے الزام میں ہجوم کے ہاتھوں ہلاکت کے بڑہتے ہوئے واقعات''کے  موضوع پر پہلے مقرر کے طور پر میں نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس طرح کے واقعات کا تسلسل نظر آتا ہے،اس طرح کے واقعات پر حکومت کی طرف سے سخت کارروائی نظر نہیں آتی، گرفتاریوں اور چھاپوں کی بات تو کی جاتی ہے لیکن کے خلاف سخت کاروائی ہوتے نظر نہیں آتی۔اس طرح کے واقعات میں ایک مشتعل گروپ ہوتا ہے جو الزام لگا رہا ہو، پولیس ’ایف آئی آر‘ کے اندراج پہ مجبور ہو جاتی ہے اور جس شخص پر الزام لگایا جاتا ہے، اس کا پورا خاندان تباہ ہو جاتا ہے۔اس سے معاشرے میں دہشت پھیلی ہوئی ہے اور حکومت کی طرف سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام کو ”بلیک میل“ کیا جا رہا ہے کہ کسی بھی معاملے میں عوام کو، ان کی سیاسی خواہش کو دبانے کے لئے حکومت کی طرف سے ایک ”سیاسی کارڈ“ کے طور پرآشیر باد  حاصل ہوتی ہے۔ایسے واقعات پر حکومت کی طرف سے جب سخت کارروائی نظر نہیں آتی، ذمہ داران کے خلاف سخت اقدامات نظر نہیں آتے تو عام لوگ جنہیں علم نہیں ہے اور جو مذہبی رجحانات سے متاثر ہوتے ہیں، وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ درپردہ حکومت کی بھی حمایت حاصل ہے۔ جو ایسے واقعات کی مذمت کرتے ہیں ان میں بھی بڑی تعداد ایسی نظر آتی ہے۔ مذہبی جماعتیں بھی مذمت کے ستاھ جواز فراہم کرتی ہیں۔

وائس آف امریکہ کے اسد حسن نے مجھ سے سوال کیا  کہ اس کی وجہ کیا ہے،کیا ریاست کا رویہ  معذرت خواہانہ ہے،سٹینڈ نہیں لے سکتے یا پھر یہ مذہبی گروپس  ریاست سے بھی طاقتور ہو چکے ہیں کہ ان کو سنبھالنا مشکل ہے۔  اگر ہم دوسری طر ف دیکھتے ہیں تو  مذہب کا نام لینے والے  شدت پسند گروپوں  کے خلاف کارروائی کا معاملہ آیا تو ریاست نے پوری طاقت کے ساتھ کارروائی کی تو وہ کمزور ہوتے  نظر آئے، تو یہاں کس طرح کیے سیاسی عزم کی ضرورت ہے؟

میں نے  اس استفسار کے جواب میں اپنی رائے پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ دیکھا اور محسوس کیا جارہا ہے کہ اس طرح کے عناصر کو ہماری اسٹیبلشمنٹ نے  پیدا کیا ہے،ان کو پروموٹ کیا ہے، ان کو پروان چڑھایا ہے۔ان کو مختلف حوالوں سے استعمال کرتے ہیں،یہ اس طرح کے کردار کا ایک منطقی نتیجہ ہوتا ہے کہ ایک ناخواندہ قسم کے معاشرے میں جہاں مذہبی رجحانات کا غلبہ ہے،وہاں ریاست اس طرح کے عناصر کو اپنے سیاسی اہداف کے لئے استعمال کرتی ہے تو اس طرح کے نتائج سامنے آتے  رہتے ہیں۔

عالمی شہرت یافتہ ممتاز و مقبول جاوید احمد غامدی کے ادارہ سے منسلک محمد حسن الیاس نے کہا کہ اصل معاملے پہ ہمت، حوصلے، ادب و احترام کے ساتھ ہم بات کریں اور ہمیں آگے بڑھنا چاہئے۔ یہ وقت ہے،اگر آگے نہیں بڑھیں گے تو ہماری نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ یہ علماء سے پوچھا جانا چاہئے کہ یہ جو قانون  ہمارے ملک میں موجود ہے، کیا کہ اسلامی فقہ کے مطابق ہے؟انہوں نے کہا کہ زیادہ لوگوں کی موجودگی کسی بات کا جواز نہیں ہو سکتی۔

مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ ایک طرف مذہبی انتہا پسندی ہے اور دوسری طرف لبرل انتہا پسندی ہے اور درمیان میں قوم پس رہی ہے۔ اس قانون سے ہم نے بہت سی جانوں کو بچایا ہے،  علماء بورڈ پنجاب نے 188کیسوں کا پچھلے تین سالوں میں فیصلہ کیا ہے جو لوگ اس قانون کی وجہ سے بچے ہیں اور ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے،لوگوں کو ریلیف ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ چالیس سال سے پودا لگا ہوا ہے اور سب نے اس پودے کوپانی دیا ہے،اس میں خالی علماء نہیں ہیں، سیاسی جماعتیں سب سے پہلے ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے اس میں حصہ ڈالا ہے اور آج بھی ڈال رہی ہیں۔ اب جبکہ ریاست نے ایک بیانیہ دے دیا ہے،ریاست ایک جگہ آ کر کھڑی ہو گئی،جب ایک چھوٹا سا طبقہ جس کی فالونگ ہی نہیں ہے وہ آ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ باہر بیٹھ کر باتیں کرنا بہت آسان ہے۔

مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ اس قانون کے تحت کسی ایک شخص کو بھی سزا تکمیل تک نہیں پہنچی،میں علماء کے ساتھ چیف جسٹس صاحب سے یہ مطالبہ کر چکا ہوں کہ اس قانون کے تحت جو بے گناہ ہیں انہیں رہا کیا جا ئے اور جو گناہ گار ہیں انہیں سزا دی جائے۔  جب وہ بکواس کرنے لگتے ہیں تو انہیں بھی خیال ہونا چاہئے کہ اس کے نتیجے میں جو فساد  ہو گا،یہاں جو قتل و قتال ہو گا،اس کا ذمہ دار کون ہو گا۔ہم وکالت ضرور کریں لیکن حقائق کی روشنی میں کریں،ہمارا عام آدمی اسی خوف میں مبتلا ہے کہ عدالت میں جائے گا اور رہا ہو جائے گا۔ تھانے میں جائے گا تو پیچھے سے پریشر آ جائے گا۔اگرچہ اس کا یہ نظریہ  قطعی غلط ہے،اس بارے میں قانون موجود ہے اس قانون کے مطابق کاروائی ہونی چاہئے۔

 گزشتہ ایک،سوا سال میں آپ ایک کیس ایسا نہیں بتا سکتے جو غلط درج ہوا ہو۔ضرور ایسے سو، ڈیڑھ سو،دو سو ایسے لوگ ہوں گے کہ جن پر اگر کسی نے الزام لگایاہے یا جن کے بارے میں اجماع پیدا ہوا ہے یا جن کے بارے میں شک پیدا ہوا ہے۔وہاں جا کر،آپس میں بیٹھ کر مسائل کو حل کیا گیا ہے۔جس نے توہین کی ہے اس کو تو نہیں چھوڑا جا سکتا ہے۔

محمد حسن الیاس نے کہا کہ ہمارے ہاں جو کچھ ہو رہا ہے اس وقت عدم برداشت کے نام پر یہ ایک دن میں نہیں ہوا،ہمارے ہاں ہزاروں مساجد،لاکھوں علماء جب جلسوں میں بیٹھ کر لوگوں کوبتائیں گے کہ جس نے گستاخی کی، تم نے سمجھا  اس نے گستاخی کی،جاؤ اس کی گردن اڑا دو۔جن جن نے اڑائی تھی،انہیں خوابوں میں بشارت ہوئی، جنت کی سرفرازی عطا ہوئی، جن لوگوں کو نماز،کلمہ نہیں آتا وہ کیسے یہاں تک پہنچے کہ توہین مذہب کا الزام لگا کر کسی کو مار دیں، اس کے پیچھے ایک فکر ہے،وہ فکر ہمارے علماء بیان کرتے ہیں شب و روز بیان کرتے ہیں۔

مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ حسن صاحب امریکہ میں بیٹھ کر بڑا اچھا لیکچر دے لیتے ہیں،اس قانون کے حوالے سے یہ اپنے استاد محترم کو جہاں مرضی لے آئیں،ٹی وی پر ہم لائیو مناظرہ کر لیں گے کہ یہ قانون کتنا ضروری تھا اور اس قانون کی وجہ سے کیا مثبت تبدیلی ہے اور کیا منفی تبدیلی ہے۔علمائے اسلام نے بہت کام کیا ہے،حسن صاحب کو اگر امریکہ میں بیٹھ کر یہ بات اچھی نہیں لگ رہی کہ پاکستان کے اندر اگرتوہین کا الزام لگنے والے لوگ علماء کی تحقیق اور علماء کے تعاون سے وہ اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں تواس کا علاج میرے پاس نہیں ہے،میں تو یہی کروں گا کہ میں مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوں اور جو ظالم ہے اس کو ظالم کہوں،لیکن میں یہ نہیں کر سکتا ہوں کہ میں ظالم کو ظالم کہنے کے بجائے اس کے لئے راستے تیار کروں۔ بعض لوگوں کی مجبوری ہے کہ وہ توہین کے قانون کے خلاف بات کرنا ان کی مجبوری ہے۔

مولان اشرفی نے کہا کہ جن لوگوں نے یہ قانون بنایا تھا، ایک سو غامدی صاحب پیدا ہو جائیں،ان کے علم کے قریب نہیں جا سکتے۔ یہ اس وقت کے بہت قابل علماء تھے جنہوں نے یہ قانون بنایا۔ان (محمد حسن الیاس)کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ علماء بہت برے ہیں، یہ سو ڈیڑھ سو لوگ ہیں جو اس قانون کے خلاف بات کرتے ہیں،جب آپ اس قانون کے خلاف بات کرتے ہیں تو لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ اوپر سے مسلط ہونے آ رہے ہیں تو اس کے نتیجے میں ایک خوف پیدا ہوتا ہے کہ اسمبلی میں اس قانون کے خلاف کام ہو جائے۔ محمد حسن الیاس نے کہا کہ قانون کے خلاف کوئی نہیں ہے قانون میں ایسی ترمیم کی بات کی جار ہی ہے جو اسلامی فکر کے مطابق ہو جس پر ہمارے فقہاکا اتفاق ہے۔وہ توجہ کی گنجائش مانتے ہیں جو اس قانون میں نہیں ہے،اس کو کرنے سے جو کاوشیں طاہر اشرفی صاحب کر رہے ہیں، اس کو فائدہ پہنچے گا۔ لوگوں کو حوصلہ ملے گا،ججوں کو بھی حوصلہ ملے گا،قانون کی سطح پر بھی حوصلہ ملے گا۔ اس ماحول کی حوصلہ شکنی ہو گی،ہم پاکستانی ہیں،آپس میں بھائی ہیں، اس ملک کی بہتری چاہتے ہیں،یہ نفاق کی فضا  ہیکہ بلا لیں کسی کو مناظرے کے لئے،ہم اس کو ثابت کر دیں گے۔

اس موقع پر مولانا طاہر اشرفی نے ان کی بات کاٹتے ہوئے کہا کہ آپ اور آپ کے استاد محترم سو لوگ پاکستان میں جمع نہیں کر سکتے،پاکستان میں آپ کے سو فالوور نہیں ہیں۔ آپ کے استاد محترم یہاں سے بھاگے کیوں تھے،مذہب کے نام پر آپ جیسے لوگوں کی وجہ سے ملک میں خوف ہے۔ آپ جیسے لوگوں نے مذہب کو  ہتھیار  بنا کے اپنے مقاصد کے لئے اس قوم کو تباہ کیا ہے۔ اب میں بتاؤں کہ آپ کا استاد یہاں سے کیوں بھاگا تھا؟ آپ مجھے مجبور کر رہے ہیں (اس موقع پر حسن نے کہا جی فرمائیے، لیکن مولانا اشرفی نے بتانے سے اجتناب کیا)۔مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ آپ نے پہلے بھی بہت سخت گفتگو کی اور میں نے کوشش کی کہ اس سخت گفتگو کو کسی طریقے سے برداشت کیا جائے، آپ کی روٹی روزی اس پر لگی ہوئی ہے کہ آپ مسلمانوں کے جو متفقہ مسائل ہیں ان کے خلاف آپ  (اس موقع پر وائس آف امریکہ کے میزبان نے مداخلت کرتے ہوئے اختتامی گفتگو شروع کر دی)