محسن بیگ کے جسمانی ریمانڈ میں 3 روز کی توسیع

  • جمعہ 18 / فروری / 2022
  • 3030

اسلام آباد کی انسداد دہشت کردی عدالت نے محسن بیگ کے ریمانڈ میں توسیع کرتے ہوئے انہیں مزید 3 روز کے لیے پولیس کے حوالے کردیا۔

جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر سینئر صحافی محسن بیگ کو انسداد دہشت گردی عدالت کے جج محمد علی وڑائچ کے روبرو پیش کیا گیا۔ محسن بیگ کے وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ہماری استدعا ہے کہ آپ 21 (ون ڈی) کو دیکھ لیں۔

ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کے خلاف 9 بجے مقدمہ درج کیا گیا اور 9 بج کر 15 منٹ پر ان کے گھر پر چھاپہ مارتے ہوئے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ 16 فروری کو تحقیقات ہوئیں، اسی دن مقدمہ درج ہوا اور ایف آئی اے ٹیم اسلام آباد پہنچی۔

ملزم کے وکیل نے سائبر کرائم سیل میں درج مقدمے کے مندرجات پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ اس میں پیکا ایکٹ کی دفع نہیں لگنی چاہیے۔ مقدمے میں ریحام خان کی کتاب اور ٹاک شو میں نازیبا الفاظ کے استعمال کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

اس موقع پر پولیس کی جانب سے عدالت میں واقعے کی تصاویر بھی پیش کی گئیں جس میں محسن بیگ کے ہاتھ میں پستول موجود ہے۔ پولیس نے عدالت سے استدعا کی کہ پستول کی برآمدگی پر جسمانی ریمانڈ میں مزید توسیع کی جائے، عدالت نے  ملزم محسن بیگ کی جسمانی ریمانڈ میں مزید 3 روز کی توسیع کردی ۔

محسن بیگ کی میڈیکل رپورٹ حاصل کرنے کے لیے ملزم کے وکیل لطیف کھوسہ کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ایک اور درخواست دائر کی گئی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملزم محسن بیگ ذیابیطس اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ انہیں  ایف آئی اے کی جانب سے بدترین تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا، ایف آئی اے اور پولیس نے محسن بیگ کا طبی معائنہ پمز اور پولی کلینک ہسپتال سے کروایا ہے۔

درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت، محسن بیگ کی میڈیکل رپورٹس فراہم کرنے کا حکم دے۔

دوسری جانب محسن بیگ پر مقدمات اور گرفتاری کے خلاف ان کی اہلیہ کی درخواستوں پر اسلام آماد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل لطیف کھوسہ سے مقدمہ خارج کرنے سے متعلق استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر ختم کرنے کی درخواست ملزم خود ہی دے سکتا ہے۔  ملزم کے علاوہ کوئی تیسرا فریق ایسی درخواست نہیں دے سکتا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ صرف ہمارا وقت ضائع کریں گے، ہم ایسی کوئی نظیر نہیں بنا سکتے کہ تیسرے فریق کی درخواست پر مقدمہ خارج کرنے کا فیصلہ کریں۔ ہمیں نہیں پتا محسن بیگ خود ایف آئی آر کا خاتمہ چاہتے ہیں یا نہیں۔ ہم حکم دیں گے کہ وکلا کو محسن بیگ سے ملنے دیا جائے۔

چیف جسٹس کے ریمارکس پر ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ محسن بیگ سے تو لوگوں کو ملنے نہیں دیا جارہا کیسے درخواست دیں، محسن بیگ کو بُری طرح سے مارا پیٹا گیا وہ زخمی ہیں۔ لطیف کھوسہ نے مزید انکشاف کیا کہ ایڈیشنل سیشن جج کو دھمکایا جارہا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے خلاف کارروائی بھی ہوگی، یہ باتیں وزیر اعظم سے منسوب کر کے ٹی وی پر چلائی جارہی ہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ فکر نہ کریں، جج کو دھمکایا نہیں جا سکتا، انہیں کرنے دیں جو کرتے ہیں۔ عدالتیں ان معاملات میں سب سے اعلیٰ ہوتی ہیں۔

لطیف کھوسہ نے عدالت سے محسن بیگ کی اہلیہ کی درخواست خارج نہ کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو زیر التوا رکھیں۔ محسن بیگ کی جانب سے الگ درخواست دائر کی جائے گی۔

عدالت نے محسن بیگ پر تشدد کے حوالے سے ریمارکس دیے کہ وکیل درخواست گزار نے بڑے سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھائے ہیں، آئی جی اسلام آباد یقینی بنائیں کہ محسن بیگ کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کریں۔ عدالت نے مقدمات کے خلاف محسن بیگ کو خود درخواست دائر کرنے کی مہلت دیتے ہوئے حکم دیا کہ وکلا کو محسن بیگ سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

عدالت نے محسن بیگ پر تشدد کی شکایت پر آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے محسن بیگ پر مقدمات کے خلاف درخواستوں پر سماعت پیر تک ملتوی کردی۔