فیصل واڈا نے تاحیات نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی

  • جمعہ 18 / فروری / 2022
  • 3120

سابق سینیٹر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واڈا نے الیکشن کمیشن کی جانب سے تاحیات نااہل کرنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔

فیصل واڈا نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے نااہلی کے خلاف درخواست مسترد کرنے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ درخواست میں الیکشن کمیشن، قادر مندوخیل سمیت 5 افراد کو فریق بنایا گیا ہے۔ انہوں نے اپیل میں مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن مجاز کورٹ آف لا نہیں اس لیے اس کے پاس تاحیات نااہل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

انہوں نے اپیل میں یہ بھی کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے عجلت میں اپیل خارج کی۔ فیصل واڈا نے اپنی درخواست میں سپریم کورٹ سے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر سینیٹر کے عہدے پر بحال کرنے کی استدعا کی ہے۔

یاد رہے کہ 9 فروری کو الیکشن کمیشن نے سال 2018 کے انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کرواتے ہوئے جھوٹا حلف نامہ جمع کروانے پر فیصل واڈا کو آئین کے آرٹیکل 62 (ون) (ف) کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا تھا۔ جبکہ انہیں بطور رکن قومی اسمبلی حاصل کی گئی تنخواہ اور مراعات دو ماہ میں واپس کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ ای سی پی نے فیصل واڈا کے بطور سینیٹر منتخب ہونے کا نوٹی فکیشن بھی واپس لے لیا تھا جبکہ ان کی جانب سے بحیثیت رکن قومی اسمبلی، سینیٹ انتخابات میں ڈالے گئے ووٹ کو بھی 'غلط' قرار دیا گیا تھا۔

فیصل واڈا نااہلی کیس 22 ماہ سے زائد عرصے تک زیر سماعت رہا، مذکورہ کیس پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی کیس پر سماعت ہوئی۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف فیصل واڈا نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے قرار دیا تھا کہ فیصل واڈا کی نااہلی برقرار رہے گی۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے۔