احمد آباد دھماکوں کے 38 ملزمان کو سزائے موت
- جمعہ 18 / فروری / 2022
- 2990
بھارت کی ایک عدالت نے 14 برس قبل میں احمد آباد میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمے میں 38 ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت کا حکم دیا ہے۔
انڈیا کی ریاست گجرات کے دارالحکومت میں 2008 میں ہونے والے دھماکوں میں 57 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ احمد آباد کی مقامی عدالت نے اس مقدمے میں 11 ملزمان کو عمرقید کی سزا بھی سنائی ہے اور تمام مجرم اپنی سزاؤں کے خلاف اپیل کا حق رکھتے ہیں۔
اس کیس میں نامزد 28 ملزمان کو عدالت نے بری کر دیا۔ دھماکوں کے سلسلے میں 78 افراد کے خلاف مقدمہ چلا تھا جن میں سے ایک ملزم ایاز سعید نے بعد میں تفتیشی اداروں کی مدد کی تھی۔ سپیشل جج اے آر پٹیل نے متاثرین کے خاندانوں کو ایک ایک لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔
26 جولائی 2008 کو ایک ہی گھنٹے کے دوران احمد آباد کے مختلف علاقوں میں 20 بم دھماکے ہوئے تھے جن میں سے کچھ رہائشی علاقوں میں ہوئے جبکہ کچھ کا ہدف بازار اور ہسپتالوں کے قریبی علاقے بھی تھے۔
ان دھماکوں کے علاوہ پولیس نے بعد میں مزید کئی ایسے بم بھی دریافت کیے تھے جو پھٹ نہیں سکے۔
ان دھماکوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم انڈین مجاہدین نے میڈیا کو بھیجی جانے والی ایک ای میل میں قبول کی تھی۔ یہ اس وقت ایک گمنام تنظیم تھی جس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ انڈین مجاہدین نے انڈیا میں کئی بڑے بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن یہ ستمبر 2008 میں دلی کے بم دھماکوں کے بعد نظروں میں آئی تھی۔
2008 میں ہی احمد آباد میں سلسلہ وار دھماکوں اور 2010 میں پونے کی جرمن بیکری ریستوران پر حملے کی ذمہ داری بھی اسی تنظیم نے قبول کی تھی۔
انڈین حکومت نے پونے میں حملے کے بعد اس گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے 2010 میں اس پر پابندی عائد کر دی تھی۔ امریکہ نے 2011 میں انڈین مجاہدین کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔