وزیر اعظم آئینہ دیکھنے پر نہیں دکھانے پر یقین رکھتے ہیں!

حکومت نے ایف آئی اے کے ذریعے کارروائی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ   سیاسی تبصروں میں ’بدکلامی‘ کرنا منع ہے لیکن منڈی بہاؤالدین میں وزیر اعظم عمران خان کی تقریر سنی جائے تو اس میں مخالفین کے خلاف سخت ترین   نازیبا الفاظ اور رائے کے سوا کچھ سننے کو نہیں  ملے گا۔  اگر عمران خان یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ  جس شخص کے ہاتھ میں اقتدار ہے، اس کے  سارے قصور معاف ہیں تو انہیں جاننا چاہئے کہ جمہوریت میں ایسے دو معیارات کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

عمران خان نے  دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر ’چور ‘ ہونے کی وجہ سے گھبرائے ہوئے ہیں ، اسی لئے انہیں  تحریک  عدم اعتماد لانے  کی جلدی ہے۔ ان کی دلیل ہے کہ اگر اپوزیشن لیڈرر چور نہ ہوتے تو وہ عدالتوں سے التوا نہ لیتے اور خود ان کی طرح عدالتی کارروائی کا سامنا کرکے خود کو بے قصور  ثابت کرتے۔ البتہ اگر اسی اصول کا اطلاق فارن فنڈنگ کیس میں  عمران خان اور تحریک انصاف پر کیا جائے تو بالکل متضاد تصویر سامنے آتی ہے۔ سات آٹھ سال سے تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے سامنے   اپنی پوزیشن واضح کرنے اور  ناجائز طور سے جمع کئے گئے فنڈز  کے بارے میں  خود کو بے قصور ثابت کرنے کی بجائے ، اس کی سماعت  ملتوی کروانے کے لئے  ہر  ممکن قانونی  حربہ اختیار کیا ہے۔ حتی کہ جب  اس حوالے سے الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آئی تو اسے خفیہ رکھوانے کے لئے ہرممکن کوشش کی گئی۔ اگر واقعی عدالتوں کے سامنے پیش ہونا اور خود کو بے گناہ ثابت کرنا  عمران خان کا  طرہ امتیاز ہے تو وہ الیکشن کمیشن سے کیوں بھاگتے ہیں۔

تحریک انصاف کا ریکارڈ  اور عمران خان کا طرز عمل  یہ واضح کرتا ہے کہ خود اپنی پارٹی میں کی گئی  بےضابطگیوں کا حساب دینے کی بجائے دوسروں پرانگلیاں اٹھا کر اس معاملہ کو ملتوی کروانے یا  ٹالنے کی کوشش کی جاتی رہی  ہے۔ حتی کہ اب بھی   یہی حکمران جماعت کی پالیسی ہے۔ ہر سماعت کے بعد عمران خان کے چہیتے وزیر اور ترجمان دوسری پارٹیوں کے طریقوں کا رونا لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور الیکشن کمیشن کو مورد الزام ٹھہرانے کی  کوشش کرتے  ہیں  تاکہ کسی طرح خود ان کی اپنی ’چوری‘ نہ پکڑی جائے۔  معاملہ صرف  عذر تراشی تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ  الیکشن کمیشن کو دباؤ میں لانے کے لئے وفاقی کابینہ میں شامل دو وزرا نے ایسے الزامات عائد کئے کہ الیکشن کمیشن کو ان دونوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنا پڑی اور ان دونوں نے غیر مشروط معافی مانگ کر گلو خلاصی کروائی۔ ایسا طرز عمل اختیار کرنے والی پارٹی اور حکومت کا سربراہ اگر   اپنی سیاسی ناکامیوں کے لئے ملک کے عدالتی نظام  پر الزام تراشی کرے گا تو  اس سے دو ہی مطلب اخذ کئے جاسکتے ہیں۔ ایک: وہ عدالتوں کو اپنے زیر نگیں رکھ کر ان سے اپنی مرضی کے فیصلے کروانا چاہتا ہے  بصورت دیگر متعلقہ ججوں کے خلاف کسی بھی حد تک  جانے پر تیار ہے۔ دوئم:   اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے اور ان کی اصلاح کے لئے آمادگی ظاہر کرنے کی بجائے، وہ دوسروں کو چور پکار کر  اپنی غلط کاریوں  کی پردہ پوشی  کرنا چاہتا ہے۔

کون نہیں جانتا کہ عمران خان اور تحریک انصاف نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے  وہ ساے ہتھکنڈے  اختیار کئے جو پاکستان کی کوئی بھی سیاسی پارٹی استعمال کرتی رہی ہے۔ اسٹبلشمنٹ سے دوستی اور اس کی صوابدید سے انتخابی مہم جوئی،  الیکٹ ایبلز کو کسی بھی قیمت پر  ساتھ ملانے کی کوشش، سیاسی فائدے کے لئے   ایسے لوگوں کے  قصیدے کہنے کی روایت جن کے ساتھ ماضی قریب میں  شدید سیاسی اختلاف کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ کیا عمران خان گزشتہ کل تک گجرات کے چوہدریوں کی بدعنوانی کے دستاویزی ثبوت صحافیوں میں بانٹنے میں مستعد نہیں رہے  اور اب مونس الہیٰ کی طرف سے  یہ اطمینان دلانے کے بعد کہ  ’ہم آپ کے ساتھ ہیں بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے‘  خوشی و  مسرت سے ان کا چہرہ سرخ ہوجاتا ہے اور  ان کی زبان چوہدری شجاعت کی ذہانت و ذکاوت اور   سیاسی بصیرت بیان کرتے ہوئے رس ٹپکانے  لگتی ہے۔ کاش عمران خان جاننے کی کوشش کرتے کہ چوہدری یا   ہر بار منتخب ہوکر اقتدار کا حصہ رہنے والے سارے لوگ، صرف اسی وقت تک ان کے ساتھ رہیں گے جب تک  انہیں عمران خان کی صورت میں اپنی کامیابی دکھائی دے گی۔ جس روز  ان کا ساتھ  سیاسی کامیابی  کا راستہ  نہ رہا، یہ سارے لوگ کسی دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر  وہی منازل  سر  رکررہے ہوں گے  جو وہ اس وقت عمران خان کی معیت میں طے کرتے ہیں۔

عمران خان غلط کہتے ہیں کہ اپوزیشن لیڈروں کو ان سے خوف ہے کیوں کہ وہ انہیں معاف کرنے یا ’این آر او‘ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عمران خان   جن لوگوں  کو چور پکار کر اپنی سیاست چمکانا چاہتے ہیں، وہ ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں   اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود انہیں سزائیں دلوانے میں ناکام رہے ہیں۔  اب عمران خان خوفزدہ ہیں کہ    کہیں  تاریخ کا پہیہ  الٹا گھومنا نہ شروع ہوجائے اور  اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے وہ خود اسی نظام کے محتاج نہ ہوجائیں جسے وہ اس وقت بڑی دیدہ دلیری سے مخالفین کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔

عمران خان  انصاف کانام ضرور لیتے ہیں لیکن ان کی  لغت میں انصاف کی تعریف یہی ہے کہ   ملکی عدالتی نظام ان کے کہنے پر تمام سیاسی مخالفین کو جیلوں میں بند کردے۔ پاکستانی عوام  کی قابل ذکر تعداد کو انہوں نے اس نعرے کے ذریعے سیاسی چنگل میں پھنسایا تھا ۔  وہ جانتے ہیں  کہ   سیاسی لیڈروں کی  کرپشن کے بارے میں ان کی خود ساختہ تصویر ماند پر چکی ہے لیکن وہ جوش خطابت سے کسی بھی طرح اسے چمکا کر ایک بار پر وہی منجن بیچنا چاہتے ہیں تاکہ کسی طرح اپنی سیاسی ناکامیوں    پر پردہ ڈال سکیں۔  عمران خان سیاسی طور سے ناکام ہوچکے ہیں۔ حکومتی ترجمانوں کے علاوہ کوئی ملکی معیشت کے بارے میں خوش گمان نہیں ہے لیکن تقریر کی حد تک عمران خان ملک میں دولت کے انبار جمع ہوتے  دیکھ رہے ہیں۔ منڈی بہاؤلدین جیسے چھوٹے قصبے میں لوگوں کو جمع  کرواکے  یہ بتا رہے ہیں کہ  ان کے دور میں ملکی دولت میں اضافہ ہؤا ہے۔   کیوں کہ بطور مقرر انہیں دلیل کی نہیں لوگوں کو چکنی چپڑی  باتوں سے گمراہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

وہ ضرور اس مقصد میں کامیاب ہوتے اگر عوام کی اکثریت   گھروں  کا چولہا جلانے کے لئے  شدید ترین پریشانی کا سامنا نہ کررہی ہوتی۔ کوئی تجزیہ نگار ضرور ملکی دولت میں اضافہ کی حجت پر غور کرتا اگر اسے تحریک انصاف کے دور حکومت میں ملکی قرضوں میں قومی پیداوار کی  شرح کے حوالے سے غیر معمولی اور  غیر ذمہ دارانہ اضافہ دکھائی نہ دیتا۔   تحریک انصاف کے دور میں پاکستان کے غیر ملکی قرضے 90 ارب ڈالر سے  بڑھ کر 127  ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ اضافہ اگر قومی آمدنی  میں اضافہ کی بنیاد پر ہوتا تو عام پاکستانی شہریوں کی  جیبوں پر اس کا بوجھ نہ پڑتا اور وزیر اعظم کو روزافزوں مہنگائی کے لئے پرانے نعروں کو صیقل کرکے پیش  نہ کرنا پڑتا۔  عمران خان کی حکومت ملکی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اب سیاسی مخالفین  کو نازیبا  ناموں سے پکار کر اور  2023 کا انتخاب جیت کر سب کو جیلوں میں بند کرنے کی دھمکیاں دے کر وہ اپنا دل تو خوش کرسکتے ہیں لیکن معروضی حالات ان کا ساتھ نہیں دیتے۔ عمران خان کو زمین اپنے پاؤں  کے نیچے سے سرکتی محسوس ہوتی ہے  ورنہ وہ مولانا فضل الرحمان کا ذکر کرتے ہوئے   سیاسی پھکڑ پن کا مظاہرہ  نہ کرتے۔ انہیں خیبر پختون  خوا میں   2018  میں دوسری بار انتخاب جیتنے کا دعویٰ ہے لیکن حالیہ  بلدیاتی انتخاب میں وہ اپنی پارٹی کی ناقابل یقین ناکامی کا ذکر کرنا  نہیں  چاہتے۔ سیاسی  ضرورت کے تحت   من چاہی دلیل کو درست  بتا کر تقریر میں وزن پیدا  کیا جاتا ہے  لیکن   سیاسی مخالفین کے ساتھ احترام کا رشتہ استوار کرنا بھی  جدید جمہوری نظام کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ عمران خان سیاسی مخالفین کی کردار کشی کو اپنا پیدائشی   حق سمجھتے ہیں لیکن  اپنی طرف اچھالے گئے ایک فقرے پر پوری ریاستی مشینری کو   اختلاف رائے رکھنے والے کے خلاف استعمال کرنے کا ارادہ  رکھتے ہیں۔

وزیر اعظم نے  اس تقریر میں دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں  عدالتیں آزاد ہیں۔  حالانکہ ایک روز پہلے ہی  وہ ایڈیشنل  اٹارنی جنرل کو اس ایڈیشنل سیشن جج کے خلاف کارروائی کا حکم دے چکے ہیں جس نے محسن بیگ کے گھر پر ایف آئی اور پولیس کے چھاپے کو غیر قانونی قرار دینے کا حوصلہ کیا تھا۔   کیا عمران خان یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ملک کے صرف اس جج کو آزاد  کہا جائے گا جو  حکومت کی مرضی و منشا کے مطابق فیصلے صادر کرے گا؟  اس سلسلہ میں خبریں خود سرکاری ذرائع سے  جاری کروائی گئی ہیں۔ ابھی حقیقی صورت حال واضح نہیں ہے تاہم اگر یہ  خبریں  عدالتوں کو دباؤ میں  لانے کے لئے چلوائی گئی ہیں تو اس سے   خود مختار عدلیہ پر عمران خان اورر تحریک انصاف کے ایمان کا پردہ ضرور چاک ہوتا ہے۔  عمران خان کو اپنے حق میں فیصلے دینے والے جج اچھے لگتے ہیں خواہ ان میں ثاقب نثار جیسے لوگ ہی کیوں نہ شامل ہوں۔    آج عمران خان نے جسٹس ثاقب نثار  سے  ملنے والے ’صادق وامین‘ کا سرٹیفکیٹ دکھا کر  پاکستانی عوام  کے سامنے خود کو سچا اور ایماندار ثابت  کرنےکی کوشش  کی ۔ ایک تو ثاقب نثار کے اصول انصاف اور طریقہ کار کے بارے میں نت نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں۔ دوسرے عمران خان کو سوچنا چاہئے کہ کیا کسی کی دیانت واقعی  عدالتی سند  سے  ثابت کی جاسکتی ہے؟

آج  عمران  خان  متحدہ قومی موومنٹ پاکستان  اور مسلم لیگ (ق) کے  سہارے اپنا اقتدار بچانے کی منصوبہ بندی کررہے  ہیں۔ آج  اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے کے لئے  وہ انہی  سہاروں کے محتاج ہیں جنہیں وہ کل تک لٹیرے اور ملک دشمن قرار دیتے  تھے۔ رائے بدلنے میں عمران خان کا کوئی ثانی  نہیں ہے  البتہ اس میں انہیں اپنا فائدہ دکھائی دیتا ہو۔ عمران خان اگر واقعی اقتدار کے بھوکے نہیں بلکہ عوام کے غم میں دبلے ہورہے ہیں  تو وہ رات کے اندھیروں میں ہونے والی ملاقاتوں کی کہانی  کسی جلسے یا قومی اسمبلی کے فلور پر بیان کردیں۔ اور عدم اعتماد کی تحریک سے پہلے خود ہی استعفی اسپیکر کے حوالے کریں۔  اگر عمران خان  کا مقصد اقتدار کی بجائے عوام کی خدمت ہے تو وہ   سرکاری اختیار کو مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کا طریقہ ترک کرکے سرخرو ہوں ۔

سابقہ حکومتوں پر ڈرون حملوں   اور پاکستان کی خود مختاری کا سودا کرنے  کا الزام لگاتے ہوئے انہیں عوام کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ وہ انہیں کاندھوں پر سوار ہو کر اقتدار تک پہنچے تھے ۔  اقتدار قائم رکھنے کے لئے ایڑیا ں رگڑتے وزیر اعظم کو  جاننا چاہئے کہ اس سیاسی گرداب سے نکلنے کے لئے انہیں دشمنوں میں کمی اور دوستوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔