روس نے یوکرین پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے: بائیڈن
- ہفتہ 19 / فروری / 2022
- 3100
امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور آنے والے دنوں میں حملہ ہو سکتا ہے۔
بائیڈن نے کہا کہ وہ یہ بات امریکی انٹیلی جنس کی معلومات کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں، جس کا ماننا ہے کہ دارالحکومت کیئو کو نشانہ بنایا جائے گا۔
روس اس کی تردید کرتا ہے کہ وہ یوکرین پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ روس یوکرین کے الگ ہونے والے مشرقی علاقوں میں ایک بحران کی صورتحال بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اسے جارحانہ کارروائی شروع کرنے کا جواز مل سکے۔ امریکہ کا اندازہ ہے کہ دو لاکھ کے لگ بھگ روسی فوجی یوکرین کے اندر اور اس کی سرحد کے قریبی علاقوں میں موجود ہیں۔ اس تعداد میں مشرقی یوکرین میں ڈونیٹسک اور لوہانسک کی خود ساختہ جمہوریہ میں روسی حمایت یافتہ جنگجو بھی شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس سے ٹیلیویژن خطاب میں صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکہ کے پاس یہ یقین کرنے کی وجہ ہے کہ روسی افواج آنے والے دنوں میں یوکرین پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی اور ارادہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے صدر پیوتن کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ اب مجھے یقین ہے کہ انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر اور اعلیٰ حکام کہہ چکے ہیں کہ یوکرین پر حملے کے بارے میں وہ حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔ تاہم بائیڈن کا کہنا ہے، روس ’اب بھی سفارت کاری کا انتخاب کر سکتا ہے۔ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی میز پر واپس آنے میں اب بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی۔
اس سے قبل جمعے کو بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ایک اور اشارہ تب ملا جب دو علیحدگی پسند علاقوں کے رہنماؤں نے رہائشیوں کے انخلا کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین نے گولہ باری تیز کر دی ہے اور وہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
یوکرین نے بارہا کہا ہے کہ وہ کسی حملے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہا۔ وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا نے اسے’روسی ڈس انفارمیشن رپورٹس‘ کہتے ہوئے مسترد کر دیا۔