فکری گھٹن اور ذہنی پسماندگی؟

پاکستانی سوسائٹی میں فکری گھٹن اور ذہنی پسماندگی کا رونا ہر باشعور رو رہا ہے لیکن اس کے اسباب کیا ہیں اس پر دھیان دینے کو کوئی بھی تیار نہیں ہے۔

کوئی ولی خاں یونیورسٹی کے ہونہار طالب علم مشعال خاں کی المناک موت پر ٹسوے بہاتا ہے تو کوئی پریانتھا کمارا کی بےگناہی پر مبنی کہانیاں سناتا ہے، کوئی انگریزی کے مقتول پروفیسر کی معصومیت پر دلائل دیتے ہوئے دماغ لڑاتا ہے تو کوئی پشاور میں قتل ہونے والے دماغی مرض میں مبتلا ایک شخص کی کتھا شروع کر دیتا ہے جس کا تعلق اس کمیونٹی سے تھا جس کا یہاں نام لکھنا بھی گناہ کبیرہ خیال کیا جائے گا۔ اور اگر لکھ بھی دیا تو اخباری ڈیسک میں بیٹھے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار اور اپنے تئیں زیادہ ہوشیار و سمجھدار اس لفظ کا قتل جہاد اکبر خیال کریں گے۔ آج تلمبہ کے مشتاق نامی مظلوم کی کہانی اخباری صفحات میں چھپی ہے کہ اس نے مقدس اوراق کی توہین کی یا نہیں کی بہرحال یہ الزام اس بدنصیب پر لگ گیا۔ پھر کیا تھا کہ جذبہ ایمانی سے سرشار مسلم ہجوم وہاں جمع ہو گیا جس کے مقدس نعروں کی دہشت سے پولیس بھی ادھر ادھر کھسک گئی۔

یوں اس مقدس و مبارک ہجوم نے اس نام نہاد گستاخ یا ذہنی مریض کا کیا حشر کیا، یہ کہ اس کی لاش کو درخت سے لٹکا کر اس پر سنگ باری کرتے ہوئے پوری ایمانی مشق دہرائی۔ گستاخی کے ملزم کا بھائی میڈیا کو بتا رہا تھا کہ جب وہ اپنے اکتالیس سالہ مقتول بھائی کی لاش کو غسل دے رہا تھا تو اس نے دیکھا کہ اس کی کوئی ہڈی ایسی نہ تھی جو ٹوٹی ہوئی نہ ہو۔ اہل ایمان نے جنت کی شوق یا جذبہ عشق سے معمور ہو کر ٹوکے سے اس کے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں تک تشدد کرتے ہوئے کاٹ ڈالی تھیں۔

چلیں یہ تو ایمان کا معاملہ تھا جس پر کسی بےایمان کو کمنٹ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ وہ جو فوزیہ عظیم المعروف قندیل بلوچ نامی لڑکی تھی جس کے آخری پروگرام میں معروف تاجدار صحافت کے ساتھ ادنیٰ درجے کا صحافی بھی شریک ہوا تھا، کیا وہ بھی کوئی ایمانی معاملہ تھا یا وہ بھی کوئی گستاخ تھی جس پر قلم اٹھانے سے’’عظیم‘‘ ریاست کی چولیں ہل جائیں گی۔ کیا اس نے کسی کو قتل کیا تھا ؟ چوری یا ڈکیتی کی تھی؟ آخر اسے کس جرم میں قتل کر دیا گیا؟ اور قاتل بھی کون تھا اس کا سگا بھائی یا سگ بھائی۔ وہ لڑکی اپنے گھر والوں کے سامنے بےدردی سے قتل ہوئی، موقع کی شہادتیں موجود تھیں سفاک قاتل نے کھلے بندوں اس قتل کا اعتراف کیا اپنی اس محسنہ کے قتل کا جس کے ٹکڑوں پر فیملی سمیت وہ پل رہا تھا، لیکن آج وہ قاتل قانون کے کٹہرے یا انصاف کی عدالت سے بری کر دیا گیا ہے۔ کیونکہ اس خطہ ارضی پر نافذ قصاص و دیت کا قانون ایسے قاتل کو سزا سنانے کی اجازت نہیں دیتا جس کے لواحقین اسے معاف کر دیں۔

قاتل اگر اثرورسوخ رکھنے والا ہے یا مدعی کا عزیز ہے تو اسے مقدس قانون کے تحت سزا کیسے ہو سکتی ہے۔ مزنگ لاہور میں جب ایک تگڑے بندے نے قتل کی واردات کی تھی تو اسے اسی قانون کی آڑ میں عدالتی معافی مل گئی تھی۔ اگر آپ کے پاس پیسہ ہے جیب بھاری ہے تو خون بہا ادا کرو اور موج کرو ، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ اسی طرح اگر آپ نے اپنی ماں، بہن کو بے دردی سے قتل کر دیا ہے تو لازمی بات ہے مدعی آپ کا اپنا بھائی یا باپ ہوگا تو پھر خوف کا ہے کا؟ وہ مدعی جو پہلے ہی اپنی ایک عزیزہ کو کھو چکا ہے کیوں یہ چاہے گا کہ اب اپنے بیٹے یا بھائی سے محروم ہو جائے اورپھر جب اس شفقت و اپنائیت کے ساتھ مختلف النوع مجبوریاں بھی شامل حال ہو جائیں، اس طرح کے خدشات بھی ہوں کہ جو شخص اپنی ماں یا بہن کو غیرت کے نام پر قتل کر سکتا ہے وہ اپنی چمڑی بچانے کیلئے اپنے دیگر عزیزوں کو کیوں نہیں مار سکتا؟

ایسے ملزمان کیلئے ہماری عدالتوں سے ضمانتوں پر رہائی کون سا مسئلہ ہے تو پھر کیا انہی عزیزوں کو ایسے قاتلوں سے خوف محسوس نہیں ہوگا؟ کیا اسی خوف کا نام دہشت نہیں ہے؟ پھر پوچھتے ہیں کہ یہ دہشت گردی کہاں سے آ گئی۔ مت بھولیں کہیں اور سے نہیں آئی ہمارے اپنے اندر سے پھوٹی ہے، ہماری اپنی سوچ اور طرز عمل میں شروع سے موجود ہے۔ جہاں طاقتور کی برتری اور کمزور کی کمتری کی سوچ ہو یا جس سوسائٹی میں مرد کی برتری اور عورت کی کمتری کا نظریہ صدیوں سے رچا بسا ہو۔ جہاں مملکت کا وزیر مذہبی امور یہ لکھ رہا ہو کہ 8مارچ کو انٹرنیشنل کمیونٹی کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر عالمی یوم خواتین یا عورت مارچ کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے اس کی بجائے یوم حیا منانا چاہئے۔ وہاں ویمن رائٹس پر اناللہ ہی پڑھی جا سکتی ہے۔ ایسی سوسائٹی میں اگر ایک بھائی اپنی بہن کو محض اس وجہ سے قتل کر دے کہ تو نے مجھے کھانا جلدی کیوں نہیں دیا یا زیادہ گرم کیوں نہیں کیا تو اس پر حیرانی نہیں ہونی چاہئے۔ ایک واقعہ رپورٹ ہوا تھا کہ ایک لڑکی اپنے بھائی کے ہاتھوں محض اس وجہ سے قتل ہو گئی کہ کالج میں کسی لڑکے نے اس کے موبائل فون پر نازیبا میسجزبھیجے، جس کی شکایت اس نے اپنے ٹیچرز سے بھی کی، وہاں تو اس بد قسمت عورت کی شنوائی نہ ہوئی البتہ بھائی کے کٹہرے میں اس بنیاد پر ماری گئی کہ تمہیں غلط میسجز کیوں آئے ہیں؟

ویمن ڈے پر ویمن رائٹس کی بات اٹھانا تو ہمارے وزیر کو تین ہفتے قبل برا لگ گیا ہے مگر اس طرف دھیان دینے کو ہماری حکومتیں یا طاقتور ادارے تیار نہیں ہیں کہ بے گناہوں کے قتل پر اکسانے والی یا قاتلوں کو تحفظ دینے والی شقوں کا خاتمہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ وزیراعظم اور ایک وزیر کے نئے یا پرانے خوشگوار تعلقات پر بات کرنے والے سینئر صحافی کو تو مارا پیٹا بھی جاسکتا ہے اور اس کے خلاف ایف آئی آر بھی فوری کاٹی جا سکتی ہے البتہ اگر کوئی انصاف پسند اس ریاستی جبر کے خلاف فیصلہ صادر کرنے کی جسارت کرے تو ایسے باضمیر جج کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے اعلیٰ ترین سطح پر ہدایات جاری ہو جاتی ہیں۔ یہ کیسی پسماندہ سوسائٹی ہے جس میں انسانی جان کا احترام ہے نہ رشتوں کا۔

اصولاً ہونا تو یہ چاہئے کہ جو اپنے کسی عزیز کو قتل کرے اس کی مدعی ریاست خود بنے اور دوہرے قتل پر اسے ڈبل یا دوہری سزا دے ایک انسانی جان کے قتل کی اور دوسری رشتوں کے تقدس کو قتل کرنےکی۔ جو درندہ ماں بہن جیسے مقدس رشتوں کا احترام بھی نہیں کرتا کیا اس سے بڑی بےحیائی بھی کوئی اس روئے زمین پر ہوسکتی ہے ؟ لہٰذا یوم حیا ویمن ڈے پر نہیں میل شاونزم کے خلاف ہر سال 14اگست کو منایا جائے۔