سندھ کابینہ نے صوبائی فنانس کمیشن بنانے کی منظوری دے دی
- سوموار 21 / فروری / 2022
- 2780
سندھ کابینہ نے صوبائی فنانس کمیشن تشکیل دینے کی منظوری دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ میئر کے علاوہ ٹاؤن اور یونین کونسلز کے نمائندے کمیشن کا حصہ ہوں گے۔
سندھ حکومت نے جماعت اسلامی اور پاک سر زمین پارٹی کے ساتھ کیے گئے علیحدہ علیحدہ معاہدوں میں صوبائی فنانس کمیشن بنانے پر اتفاق کیا تھا۔ وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔
گزشتہ سال نومبر میں صوبائی اسمبلی سے متنازع سندھ لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) بل 2021 کی منظوری کے بعد جماعت اسلامی نے جنوری میں کراچی میں ایک ماہ طویل دھرنا دیا تھا جو سندھ حکومت کی جانب سے بلدیاتی قانون میں مزید ترمیم کرنے پر رضامندی کے بعد ختم کیا گیا تھا۔ وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے اس وقت کہا تھا کہ کراچی کے میئر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے چیئرمین ہوں گے۔
صوبائی مالیاتی کمیشن، بلدیاتی انتخابات کے ایک ماہ کے اندر قائم کردیا جائے گا، اسی طرح شہری انتظامیہ کو موٹر وہیکل ٹیکس میں اس کا واجبی حصہ ملے گا۔ اس کے علاوہ پی ایس پی نے رواں ماہ کےاوائل میں ایک ہفتہ طویل احتجاج کیا تھا جو سندھ حکومت اور احتجاجی پارٹی کے درمیان 10 نکاتی معاہدے پر دستخط کے ساتھ ختم ہوا۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں صوبائی وزرا، مشیر، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری، چیئرمین پی اینڈ ڈی اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اجلاس کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اس طرح متعلقہ میئر/چیئرمین ایچ اے ڈی، سیہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور لاڑکانہ ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کی گورننگ باڈیز کے اراکین ہوجائیں گے۔ صوبائی کابینہ نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے میئر کو کراچی واٹر اینڈ سیویج بورڈ کا چیئرمین بنانے کی بھی منظوری دے دی۔
کابینہ نے صوبے کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز اور تعلقہ ہیڈکوارٹرز کو ٹاؤن کمیٹی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔ اجلاس کے دوران سندھ کابینہ نے صوبے کے ہر ضلع میں یونیورسٹی یا یونیورسٹی کی کیمپس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ نے کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی قائم کرنے کی بھی منظوری دے دی۔