صدر پوٹن نے یوکرین کے علیحدگی پسند علاقوں کو تسلیم کرلیا
- منگل 22 / فروری / 2022
- 2860
روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے یوکرین میں ماسکو کے حمایت یافتہ دو علیحدگی پسند علاقوں کو خود مختار تسلیم کر لیا۔ روس کے اس اقدام سے یوکرین کی مغربی حمایت یافتہ حکومت کے ساتھ ممکنہ طور پر تباہ کن جنگ شروع ہو سکتی ہے۔
ڈان اخبار میں شائع ہونے والی خبرکے مطابق سرکاری ٹیلی ویژن پر 65 منٹ کے خطاب میں ولادیمیر پوٹن نے سابق سویت ہمسائے کو ناکام ریاست اور مغرب کی ’کٹھ پتلی‘ قرار دیا اور بار بار کہا کہ یہ بنیادی طور پر روس کا حصہ ہے۔ انہوں نے کیف حکام پر روسی زبان بولنے والوں کو ہراساں کرنے اور یوکرین کے مشرق میں ڈونیسک اور لوگانسک کے دو علیحدگی پسند علاقوں میں فوجی حملے کی تیاری کا الزام لگایا۔
ولادیمیر پوٹن کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جنہوں نے کیف پر قبضہ کیا ہوا ہے ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد اپنے فوجی آپریشن بند کریں۔ بصورت دیگر ممکنہ خونریزی کی تمام تر ذمہ داری یوکرین میں برسرِ اقتدار حکومت کے ضمیر پر ہو گی۔
پوٹن نے کہا کہیہ ضروری ہے کہ طویل عرصے سے زیر التوا فیصلہ لیتے ہوئے جلد دونوں علاقوں کو تسلیم کیا جائے۔ خطاب کے فوری بعد سرکاری ٹیلی ویژن پر ولادیمیر پوٹن کو کریملن میں باغی رہنماؤں کے ساتھ کریملن میں معاہدہ پر دستخط کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
ماسکو کی جانب سے باغیوں کے زیر اقتدار علاقے تسلیم کرنے سے علیحدگی پسند تنازع میں امن لانے کا منصوبہ ختم ہوگیا ہے۔ امن منصوبہ ماسکو کے یوکرین کے علاقے کریمیا کے الحاق کے بعد 2014 سے شروع ہوا تھا جس میں 14 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
روس کے اس اقدام کی مغرب نے فوری مذمت کی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اسے یوکرین کی خودمختاری اور سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ یورپی یونین کے سربراہ ارسلا وان ڈیر لیین اور چارلس مشیل نے عہد کیا کہ بلاک اس غیر قانونی عمل میں ملوث افراد کے خلاف رد عمل ظاہر کرے گا۔
نیٹو کے سربراہ ینس استولتن برگ نے بھی پوٹن کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ماسکو کی جانب سے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔