انتخابی قانون میں ترمیم پر الیکشن کمیشن کا اظہار تشویش

  • منگل 22 / فروری / 2022
  • 3050

الیکشن کمیشن نے الیکشنز ایکٹ میں ترمیم کرنے والے متنازع آرڈیننس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترمیم کے تحت وزیروں سمیت عوامی عہدے داروں کو انتخابی امیدواروں کی مہم میں حصہ لینے کی اجازت نامناسب ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی زیر صدارت ای سی پی کے اجلاس میں نوٹ کیا گیا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد حکومت انتخابات میں اپنا اثر و رسوخ اور ریاستی وسائل استعمال کر سکے گی۔ جس کا واضح مطلب یہ ہوگا کہ تمام امیدواروں کو مہم چلانے کے لیے ایک جیسے مواقع نہیں ملیں گے۔

الیکشنز ایکٹ کی دفعہ 181 میں کہا گیا ہے کہ 'کوئی بھی حکومتی عہدیدار یا منتخب نمائندہ بشمول مقامی حکومت کا عہدیدار یا منتخب نمائندہ، اس حلقے کے انتخابی پروگرام کے اعلان کے بعد کسی حلقے کے لیے کسی ترقیاتی اسکیم کا اعلان نہیں کرے گا'۔

صدر  ڈاکٹر عارف علوی کے جاری کردہ آرڈیننس کے ذریعے ایکٹ میں دفعہ 181(اے) کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نیا قانون پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلی یا بلدیاتی حکومت کے منتخب رکن بشمول آئین یا کسی دوسرے قانون کے تحت کسی بھی عہدے پر فائز رکن کو اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی بھی علاقے یا حلقے میں عوامی جلسوں میں جاسکیں یا خطاب کرسکیں۔

تاہم ای سی پی حکام نے کہا کہ انتخابی ایکٹ کی دفعہ 233 کے تحت سیاسی جماعتوں، انتخابی مہم میں حصہ لینے والے امیدواروں اور انتخابی مشق میں شامل دیگر افراد کے لیے ضابطہ اخلاق وضع کرنا ان کا کام ہے۔ الیکشنز ایکٹ کی دفعہ 233 میں کہا گیا ہے کہ کمیشن، سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت سے، سیاسی جماعتوں، انتخاب لڑنے والے امیدواروں، انتخابی ایجنٹوں اور پولنگ ایجنٹوں کے لیے ضابطہ اخلاق وضع کرے گا۔

کمیشن سیکیورٹی اہلکاروں، میڈیا اور انتخابی مبصرین کے لیے بھی ضابطہ اخلاق وضع کرے گا۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعت، امیدوار، الیکشن ایجنٹ، پولنگ ایجنٹ، سیکیورٹی اہلکار، میڈیا اور مبصر انتخاب کے دوران اس ضابطہ اخلاق کی پابندی کریں گے۔

دفعہ 233 میں مزید کہا گیا کہ کمیشن اس دفعہ کے تحت وضع کردہ ضابطہ اخلاق کو سرکاری گیٹ اور اپنی ویب سائٹ پر شائع کرے گا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو آئین کی دفعہ 222 کے تحت کوئی بھی ایسا قانون منظور کرنے سے روک دیا گیا ہے جس کا تاثر چیف الیکشن کمشنر یا خود کمیشن کے کسی بھی اختیارات کو چھیننے یا ختم کرنے کا ہو۔

بعد ازاں کمیشن کی ہدایت پر سیکریٹری عمر حمید خان کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے لیگل ونگ پر مشتمل ٹیم نے اٹارنی جنرل سے اس معاملے پر بات چیت کی۔ ذرائع نے بتایا کہ اٹارنی جنرل نے اصرار کیا کہ تبدیلی کسی قانون کے خلاف نہیں ہے، ای سی پی کی ٹیم جلد ہی کمیشن کو اٹارنی جنرل سے ملاقات کے بارے میں بریف کرے گی جس کے بعد لائحہ عمل اپنایا جائے گا۔

اس متنازع تبدیلی کو بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔